کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

عارف نظامی
عارف نظامی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

”گریٹ خان “ فوج، عدلیہ اور امریکہ سب سے مایوس ہیں۔ فرماتے ہیں کہ یہ عوامل ’سٹیٹس کو‘ کے خلاف ان کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ چند روز پہلے خان صاحب کو دو گہرے گھائو لگے، ایک سپریم کورٹ نے2013ء کے عام انتخابات کو دھاندلی کی بناء پر کالعدم قرار دینے کے لیے دائر تمام درخواستیں مسترد کر دیں، دوسرا تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کا معاملہ پھر لٹک گیا۔ پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کی قیادت میں ارکان قومی اسمبلی استعفے دینے گئے تو ضرور لیکن سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اپنے چیمبرمیں بیٹھے اور ارکان اسمبلی باہر لائونج میں۔ اس صورت حال پر بہترین تبصرہ برخوردار بلاول بھٹو نے اپنی ایک ٹویٹ سے کیا ہے۔

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

حقیقت یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کے ارکان کی اکثریت استعفے دینے سے کترارہی ہے اور دوسری طرف حکومت بوجوہ استعفے لینے سے ہچکچا رہی ہے۔ میڈیا کے ایک حصے کے مطابق استعفوں کے لیے قومی اسمبلی جانے سے پہلے شاہ محمود قریشی کی صدارت میںپی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی کے دھواں دھار اجلاس میں متعدد ارکان نے کہا کہ انہیں کس خوشی میں قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے جس پر شاہ محمود قریشی نے مبینہ طورپر یقین دلایا کہ آپ چلے چلیں، استعفے منظور نہیں ہونگے، تاہم اس اجلاس میں شامل ایک رکن قومی اسمبلی نے مجھے بتایا کہ یہ خبر حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ یقینا کچھ لوگ استعفوں پرمعترض تھے اور شاہ محمود قریشی انہیں منانے کے لیے عمران خان کے پاس لے گئے اور خان صاحب کے حکم پر ان سب نے من حیث الجماعت استعفیٰ دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ۔لیکن یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کیا شاہ محمود قریشی خود بھی استعفیٰ دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟ جب وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کر رہے تھے تو انہیں بھی جاوید ہاشمی کی طرح مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تقریر میں اپنی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے نہ صرف ایسا نہ کیا بلکہ سپیکر ایاز صادق کی اس درخواست کہ وہ اجلاس کے بعد انہیں چیمبر میں مل کر جائیں کا بھی کوئی جواب نہیں دیا اور تقریر کے بعد طرح دے کر خاموشی سے نکل گئے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت استعفیٰ دینا شاہ محمود قریشی کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس مرحلے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات جاری تھے لہٰذا وہ استعفوں کو سودے بازی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہونگے۔

جہاں تک حکومتی جماعت کا تعلق ہے اگرچہ 28یا25ارکان کے مستعفی ہونے سے حکومت نہیں گر سکتی لیکن اسے خدشہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اسمبلی سے نکل جانے سے اس کی پارلیمنٹ کی نمائندہ حیثیت پر حرف آئے گا ۔نیز یہ کہ اتنے حلقوںمیں ضمنی انتخابات منی جنرل الیکشن کی صورت حال اختیار نہ کر جائیں اور یہ مڈٹرم انتخابات پر بھی منتج ہو سکتے ہیں ،سب سے دلچسپ استدلال جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کا ہے، وہ صوبہ خیبر پختونخوامیں پی ٹی آئی حکومت کے حلیف ہیں لیکن ساتھ ہی پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مصالحتی جرگے کے سربراہ بھی ہیں ۔وہ بھی نہیں چاہتے کہ استعفے منظور ہوںاور یہ گول مول بات کہ ڈیڈلاک کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے کرکے جان چھڑا لیتے ہیں۔

استعفوں کی سیاست نے جہاں حکومت کے لیے ایک مشکل صورت حال پیداکردی ہے وہیں دوسری طرف خان صاحب بھی کسی حد تک ایکسپوز ہوئے ہیں۔ اگر ان کو اپنے ارکان قومی اسمبلی پر بھرپور اعتماد ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے سپیکر سے الگ الگ مل کر اپنے استعفوں کی تصدیق کیوں نہیں کر لیتے اور یہ کہ حکومت چھانگا مانگا طرزکی سیاست کر کے ان کے ارکان کو خرید رہی ہے، عذر لنگ ہے۔ کیونکہ اس کے باوجود کہ شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کے اکثر ارکان قومی اسمبلی سیاست کے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر پی ٹی آئی میں آئے ہیں۔ وہ پوتر ہونے کے بعد بکائو مال تو نہیں بنے۔ محلاتی سازشوں اور ہارس ٹریڈنگ کے میدان کے کئی بزر جمہرجو فوجی آمروں کے کلیدی مشیر رہے ہیں کنٹینر پر خان صاحب کے دائیں اور بائیں کھڑے نظرآتے ہیں۔ نہ جانے کیسے یہ لوگ خان صاحب کے بقول ’سٹیٹس کو‘ ختم کریں گے!

کے پی کے کی صوبائی اسمبلی میں ملالہ یوسفزئی کو نوبل انعام ملنے کے حق میں ایک قرار داد جو اے این پی کے جعفر شاہ نے پیش کی تھی، سیکرٹریٹ میں ہی کہیں پھنس کر رہ گئی اور اس کے بجائے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان کی محبوس بیٹی کا لقب دے کر ان کو واپس لانے کی قرارداد منظور کر لی گئی۔ دوسری طرف بلدیات کے وزیر اور جماعت اسلامی کے رہنما عنایت اللہ خان مصر ہیں کہ صوبے میں نصابی کتابوں کے مندرجات پر نظر ثانی کی جائے اور انہیں مزید اسلامی بنایا جائے۔ سراج الحق صاحب نے نیا شوشہ بھی چھوڑا ہے، ایک طرف وہ فرماتے ہیں کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حمایت کرتی رہے گی اور اسی سانس میں یہ بھی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) دونوں جماعتیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے خان صاحب کو ناراض کر دیا ہے خان صاحب کہتے ہیں کہ مولانا وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سربراہ کی یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ سراج الحق جب سے جماعت اسلامی کے سربراہ بنے ہیں جماعت کی سمت ہی متعین نہیں کر سکے اور شتر بے مہار کی طرح ہر طرف گھوم رہے ہیں۔ رحمان ملک کے ساتھ ان کا نام نہاد جرگہ بھی سعی لاحاصل سے زیادہ کچھ نہیں۔ امیرجماعت کے خیال کے مطابق نہ تو پی ٹی آئی حقیقی تبدیلی لانے میں مخلص ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت عوام کے اصل مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size