.

داعش کی کنیز بنائی گئی عورتیں

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے حوالے سے سامنے آنے والی تازہ وڈیو میں عسکریت پسندوں کا ایک گروپ ان کنیز بنائی گئی عورتوں کی فروخت کے بارے میں اس طرح ڈینگیں مار رہا ہے جیسے یہ عورتیں نہ ہوں پالتو جانور ہوں۔ اس وڈیو کے بعد وحشیانہ طرز کے عمل میں ملوث اس گروہ کے بارے میں کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں جس نے پہلے سر قلم کیے، پھر بچوں کو خودکش بمباروں کے طور پر استعمال کیا اور اب عورتوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے ملوث پایا گیا ہے۔

اگرچہ اس وڈیو میں فروخت کی گئی عورتیں نہیں دکھائی گئی ہیں۔ لیکن داعش کے بارے میں جانتے ہوئے ہم اسے تسلیم کر سکتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کے گروپ نے جو بھی کہا ہے یہ سچ ہے۔ القاعدہ اور اس نو مولود تنظیم داعش میں بنیادی طور پر فرق ہی یہ ہے کہ داعش اپنے جرائم کے کھلے اظہار کا ہے۔ اب تک کی تحقیقات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ نوجوانوں کو اس طرح کی عسکری تنظیموں میں شرکت پر ابھارنے کا ایک اہم ذریعہ جنسی ہوس ہے۔ ایسی رپورٹ بھی سامنے آ چکی ہیں کہ عسکری کیمپوں میں موجود عسکریت پسند اسلامی سیاق و سباق کا سہارا لیتے ہوئے جنسی معاملات میں جلد ملوث ہو جاتے ہیں۔

تاہم القاعدہ اپنے وابستگان کے اس طرح کے بے ہودہ معاملات کو خفیہ رکھتی تھی۔ جبکہ داعش ایسی چیزوں کو اپنے عسکریت پسندوں کی اپنے 'کاز کے ساتھ کمٹمنٹ اور وفاداری' کا حوالہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ القاعدہ کے برعکس داعش کے وابستگان اپنی ان حرکتوں کا اعتراف کرنے پر شرمندگی محسوس نہیں کرتے ہیں کہ وہ خواتین کا استحصال کرتے ہیں اور اس بارے میں خواتین سے متعلق خبروں کی اشاعت کرتے ہیں۔ یہ خواتین عسکریت پسندی میں شامل ہوں، یرغمالی ہوں یا ایسی ہوں جن کی مشکیں بندھی ہوئی ہوں اور انہیں کنیزیں بنایا گیا ہو یا انہوں نے اسلحہ اٹھا رکھا ہو۔

داعش سے وابستہ یہ عسکریت پسند عورتیں وسطی ایشیا، مغربی دنیا اور عرب دنیا سے آتی ہیں۔ ان میں سعودی عرب سے متعلق بھی ہیں۔ یہ اپنی اس کامیابی کے حوالے سے شیخی کا شکار ہوتی ہیں کہ انہوں نے کس طرح تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے ملکوں کی سرحدوں کو عبور کیا اور داعش میں شمولیت کے لیے اپنے بچوں سمیت پہنچ گئیں۔

فیصلہ کن رائے

مصنفہ فضیلہ الجفال نے اس بارے میں ایک حتمی اور فیصلہ کن رائے کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں: '' مسلمانوں میں جنسی تشدد اس طرح کی دہشت پسند تنظیموں کی تشکیل میں اہم ترین محرک ہوتا ہے۔'' اس مصنفہ کے مطابق داعش کی فکر خلقی طور پر جنسیت سے ہے۔ جنسی حوالہ اس کے فروغ کے لیے اہم ہتھیار ہے۔'' فضیلہ لجفال کا یہ بھی کہنا ہے ''داعش خود کو ایک آزادانہ حرکات میں ملوث تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے اور یہ سب کچھ جہاد کی چھتری تلے کرتی ہے۔''

اس مصنفہ کا تحریر کردہ یہ مضمون پڑھنے والوں کے درمیان ایک بحث مباحثے کا ماحول ہے۔ داعش کی ان عجیب حرکات پر رائے تقسیم ہے۔ ایک قاری نے اس مضمون میں بیان کردہ خیالات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے '' جب آپ لکھیں تو خدا خوفی سے لکھیں، داعش کے لوگ وہ ہیں جو اپنی روح کا سودا کرکے، گھروں، بیویوں اور پر آسائش زندگی کو چھوڑ کر آتے ہیں، کیا وہ یہ سب کچھ اس لیے چھوڑتے ہیں جنسی ضروریات پوری کر سکیں؟'' ایک اور قاری کا کہنا ہے ''انہیں کوئی مجبور نہیں کرتا کہ گھربار کو چھوڑ کر آئیں اور روح کا سودا کریں، یہ لوگ مذہب کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔''

سوال یہ ہے کہ آیا داعش جنس کا کاروبار کرنے والی ایک تنظیم ہے مذہبی حقیقت نہیں۔ اس کے ممبران کی اکثریت 30 سال سے کم عمر کی حامل ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بدکاری آج کی لڑائی میں اہم ہتھیار ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ شام پہنچنے کے اخراجات اور مشکلات سے کہیں کم پر جنسی ضرویات پوری کرنے کے تمام اسباب ان لوگوں کو اپنے آس پاس اپنے ملکوں میں میسر آ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہہ دینا کہ القاعدہ اور داعش کے لیے گھروں سے نکلنا محض جنسی محرک کی بنیاد پر اور تسکین کے لیے ہے منصفانہ بات نہیں ہو سکتی ہے۔ قانون شرعیہ کی نافذ کردہ حدود اور پابندیاں اپنی جگہ موجود ہیں جو عیاشی پر قدغنیں لگاتی ہیں۔

داعش ایک سیاسی ایجنڈے کے ساتھ موجود ہے اور یہ خواتین کو اپنی پرومشن کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ عورتوں کو اپنے عسکریت پسندوں کے لیے ایک انعام اور ایوارڈ کے طور پر بھی پیش کرتی ہے۔ مارکیٹنگ کے لیے یہ قدیم ترین اور موثر حربہ ہے۔ باوجود یکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ چند سو جنگجو داعش میں شمولیت کے لیے مغرب کے آزاد خیال معاشرے سے آئے ہیں۔ ان کے لیے اس طرح کی مارکیٹنگ کو ئی معنی نہیں رکھتی ہے۔

انہیں یورپی دنیا سے داعش کے لیے بھرتیوں کے لیے اس میں کوئی کشش نہیں ہو سکتی ہے۔ وہاں کے نوجوانوں کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جو انہیں مرغوب ہو جائے۔ ان سے شام میں مسلمانوں پر مظالم کی بات کی جاتی ہے۔ جبکہ شام میں نوجوانوں کو اسد رجیم سے آزادی دلانے کا کہہ کر مائل کیا جاتا ہے۔ دوسرے ملکوں میں نوجوانوں کو ان عورتوں کا بتایا جاتا ہے جنہیں غلام بنایا گیا ہے اور انہیں جنت میں حوروں کے ملنے کا تبایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ہتھیار اکثر الٹا استعمال ہو جاتا ہے۔ عورتوں کو کنیزیں بنانے کی خبریں تنظیم کو کمزور بھی کریں گی۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.