.

واہگہ پر بھارتی حملہ

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان ہندوستان ان دو کھلے دشمنوں کے درمیان پہلا محاذ جنگ لاہور کا سرحدی علاقہ واہگہ ہے، اس بار بھارت نے واہگہ کی ایک معروف اور پرہجوم تقریب پر حملہ کرایا اور اس پہلے حملے میں کوئی ساٹھ کے قریب پاکستانی شہید اور ایک سو سے زائد زخمی ہو گئے۔

ایک باقاعدہ جنگی حملے میں اس سے کم اموات ہوا کرتی ہیں لیکن واہگہ کی پرچم کشائی اور پریڈ کی تقریب میں بے خبر اور پرجوش پاکستانی دشمن کے اچانک حملے کا نشانہ بن گئے۔ بتایا گیا کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ پاکستان کے لیے انھی دنوں عاشورہ محرم کے ماتم کا یہ ایک دوسرا ماتم تھا جس میں غم حسین میں ڈوبے ہوئے ایک ایسے حادثے سے دوچار ہوئے جو ان کے سامنے ہوا اور کربلا کے شہیدوں کی یاد تازہ کر گیا کہ یہ سب امام حسین علیہ السلام کے جانثار تھے اور ان کا غم کر رہے تھے۔

ملک بھر میں محرم کی سوگ کی فضا تھی جس میں اس مقامی سانحہ نے نیا رنگ بھر دیا۔ جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو خبریں آ رہی ہیں یعنی حادثے کے کوئی تین گھنٹہ بعد۔ تفصیلات آپ خبروں میں دیکھیں گے میں یہ حتمی طور پر دعویٰ کرتا ہوں کہ یہ بھارت کا حملہ ہے جو خود کش تھا یا جیسا بھی تھا۔ میں بھارت پسند اور بھارت نواز پاکستانیوں سے پاکستان کے نام پر اپیل کرتا ہوں عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے اور میرے ملک پر رحم کریں اور بھارت کی مدد اور مہربانی کے بغیر زندہ رہنے کی کوشش کریں۔ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ ہم بھارت کے بغیر خوش و خرم زندہ رہ سکتے ہیں۔

ہمارے معاشی وسائل بھارت سے زیادہ اور ہماری ضرورت کے لیے وافر ہیں لیکن ہمارے بھارت پسند بھی خاصی تعداد میں اور باوسائل ہیں۔ ہمیں بھارت کی طرح ان سے بھی باخبر رہنا ہے اور اس آدمی کو یاد رکھنا ہے جس نے ہمیں ایٹم بم بنا کر دیا اور بھارت کے بم سے بہتر ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہر روز صبح کے وقت بلاناغہ مجھے کسی خوبصورت تحریر اور نصیحت سے یاد کرتے ہیں لیکن انھیں شاید ہم پاکستانی اتنا یاد نہیں کرتے جتنا بھارت ان کو یاد کرتا ہے یہ شخص بھارت کو نہیں بھولے گا اور نہ امریکا کو۔ پاکستان کے ایٹم بم کی خبر پا کر امریکا کے ایک نائب وزیر نے کہا تھا کہ امریکا اس بم کو برداشت نہیں کرے گا اور سچ کہا تھا۔ بھارت کا بھی یہی حال ہے لیکن کیا ہم خود پاکستانی اپنے ایٹم بم کو برداشت کرتے ہیں اور ڈاکٹر قدیر کو اپنا بے مثل ہیرو سمجھتے ہیں۔

اس سے قبل جو کالم لکھا تھا وہ بھی آپ کو بھیج رہا ہوں ملاحظہ فرمائیے۔ اس کا عنوان تھا ہم اور ہماری حکومت بازار میں۔
ہمارے جمہوری حکمرانوں نے ووٹروں کی ڈیڑھ سال کی منت سماجت کے بعد پٹرول وغیرہ کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے لیکن کاروباری لوگوں کی اکثریت نے یہ کمی ماننے سے انکار کر دیا ہے اور بازار کی گرانی حسب معمول جاری ہے۔ ہماری قومی حالت یہ ہے کہ ہم اس وقت عملاً حالت جنگ میں ہیں اور ہر روز ہمارے کئی جوان اور افسر اس جنگ میں شہید ہو رہے ہیں۔ پہلے بھی ایک بار جب بھارت کی وجہ سے قوم جنگ کی حالت میں پھنس گئی تھی تو اس وقت مغربی پاکستان یعنی آج کے پاکستان کے حکمرانوں کی حالت ایسی تھی جیسے وہ جنگ میں کسی محاذ پر لڑ رہے ہیں ان کا یہ محاذ سویلین آبادی میں تھا۔

گورنر نواب امیر محمد خان کالا باغ جو اشرافیہ کے ایک سردار بھی تھے لیکن عملاً شریف بھی تھے ان دنوں مری میں تھے جہاں انھیں جنگ کی خبر ملی وہ فوراً لاہور کے لیے روانہ ہو گئے اور لاہور پہنچ کر انھوں نے پہلا کام یہ کیا کہ کاروباری لوگوں اور دکان داروں کو بلوایا اور انگلی اٹھا کر ان سے صرف اتنا کہا کہ دشمن نے ہم پر حملہ کر دیا ہے اس وقت ہمارا کردار جو ہونا چاہیے وہ ہم سب جانتے ہیں۔ خدا حافظ! امیر محمد خان کے پاس سوائے جدی پشتی زمین کے اور کوئی کاروبار نہیں تھا وہ صاف ستھرے تھے اور ہر کاروباری ان کو جانتا تھا۔

وہ سوداگر نہیں تھے کہ جنگ کے اس سنہری کاروباری موقع پر کوئی سودا بازی کرتے اور دوست دشمن سب کے ساتھ کاروبار کرتے۔ اس ملاقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ضروری اشیا کے نرخ نہ صرف برقرار رہے بلکہ کم ہو گئے۔ بعض اشیا کے تو نصف کی حد تک۔ اس میں نہ تو نواب صاحب کا کوئی حصہ تھا اور نہ ہی کوئی سودا بازی تھی صرف یہ عزم تھا جو سب کو معلوم تھا کہ جو کہا سب کو اس پر عمل کرنا پڑے گا کیونکہ کہنے والا جس زبان سے بات کر رہا ہے وہ زبان صرف تعمیل کا تقاضا کرتی ہے۔ آج جب کاروباری لوگوں نے ہماری حکومت کی بات ماننے میں تامل کیا ہے اور ٹال مٹول، تو مجھے نواب صاحب یاد آگئے اور ان کا یہ ایک واقعہ بھی جو آج کے حالات پر صادق آتا ہے۔

اب جب ایک حکمران کا ذکر آیا ہے تو چند مزید یادیں بھی۔ نواب صاحب کے کسی بیٹے کو گورنر ہاؤس آنے کی اجازت نہیں تھی اور سب جانتے تھے کہ جو شخص اپنی اولاد کے لیے کوئی رعایت نہیں رکھتا وہ کسی اور کو کیا رعایت دے گا۔ ان کا سب سے مضبوط ہتھیار انتظامیہ پر کنٹرول تھا۔ افسر واقعی ان کے نام سے کانپتے تھے ان کے ایک دوست کو اثرورسوخ بڑھانے کا بہت شوق تھا۔ وہ ایک بار اسے لاہور سے راولپنڈی کے سفر میں ساتھ لے گئے اور راستے میں رکتے گئے جہاں مقامی افسر حاضری دیتے رہے اور نواب صاحب کے ہمسفر کو بھی دیکھتے رہے اور اس سے بھی ہاتھ ملاتے رہے۔

راولپنڈی پہنچ کر نواب صاحب نے اپنے اس مسافر دوست کو اتار دیا کہ جاؤ جہاں جانا ہے چلے جاؤ اب اتنا ہی کافی ہے کہ کتنے ہی افسروں نے تمہیں میرے ساتھ دیکھ لیا ہے۔ ایک بار ملتان کے ایک وڈیرے نے شکوہ کیا کہ افسر میری پروا نہیں کرتے۔ نواب صاحب ملتان گئے تو کمشنر سے کہا کہ میرے فلاں دوست کو بلاؤ۔ وہ آیا اسے اپنے قریب ہی بٹھا لیا اور شام کو گھر بھجوا دیا اس ملاقات کے بعد اس کا مسئلہ حل ہو گیا۔ ایک چیف سیکریٹری نے ایک آدھ بار افسری دکھائی تو اسے پیغام بھیجا کہ بلوچستان کا فلاں علاقہ بڑا پر فضا سمجھا جاتا ہے کیا خیال ہے اس کے بعد چیف سیکریٹری سیدھا ہو گیا۔

افسروں کو کنٹرول کرنے کے ایسے لاتعداد واقعات ہیں۔ ان کے ملٹری سیکریٹری کرنل شریف صاحب ایسے واقعات مزے لے لے کر سنایا کرتے تھے۔ چوہدری انور عزیز ایک بار سنانے لگے کہ انھوں نے اپنے والد اور نواب صاحب کے پرانے تعلق کی بنا پر حاضری دی اور اپنی سیکیورٹی کے لیے مشورہ طلب کیا، نواب صاحب نے کہا کہ برخوردار ایک ریوالور (پستول نہیں) اپنے پاس رکھو اور سفر میں ہو تو گود میں۔ دو کتے پال لو اور تمہاری مزید حفاظت کے لیے میں کیمبل پور سے دو اعوان کاشت کار بھجوا دوں گا جو کچھ بھی ہو جائے تمہارے سر کا سودا نہیں کریں گے۔

ایک بار کسی دوست سے ناراض ہو گئے اور اس کا ذکر کیا تو ایک افسر نے کہا کہ اس کا بیٹا ہمارا سرکاری ملازم ہے ٹھیک کر لیتے ہیں اس پر نواب صاحب نے کہا کہ نہیں وہ تو میرا بھتیجا ہے۔ میانوالی کے ایک خاندان کا اکیلا ہی وارث ہونے کے باوجود اکیلے ہی پورے ضلع میانوالی کو قابو میں رکھا یہاں کے لوگ ان سے اب تک بہت ناراض ہیں۔ ایک پڑوسی پٹھان قبیلے کے وہ سردار بھی تھے جس کی پگڑی وہ پہنا کرتے تھے۔

عرض یہ تھی کہ جو لوگ بے غرض بے لوث اور صاف ستھرے ہوتے ہیں اور بہادر اور دبنگ بھی وہ اپنا مقام خود بخود بنا لیتے ہیں۔ زمینیں اور جاگیریں ان کی دست و بازو نہیں ہوتیں۔ کچھ لوگوں نے ملک خضر حیات ٹوانہ کی سرگودھا میں جاگیر ’کالرا‘ خریدنے کی کوشش کی کہ وہ بھی روایتی بڑے لوگوں میں شمار ہو جائیں لیکن یہ سودا نہ ہو سکا مگر یہ سب اس دنیا کے ظاہری وسیلے ہیں اصل انسان کا اپنا کردار ہوتا ہے اور اس کا پس منظر اور خاندانی کلچر اس کو بڑا یا چھوٹا بناتے ہیں۔ حکومتی اداروں کے شکنجے میں پھنسے ہوئے کاروباری لوگوں کی کیا مجال کہ وہ حکومت کے کسی حکم سے عملاً انکار کریں۔

کتنے ہی محکمے ہیں جو کاروبار سے متعلق ہیں اور کاروباری لوگوں کو قابو کر سکتے ہیں۔ ایک بہت ہی مشہور صنعتکار جو اپنے کارخانے کے دفتر کی دوسری منزل میں بیٹھتے تھے جب کسی لیبر انسپکٹرکو بھی دفتر میں داخل ہوتا دیکھتے تو کرسی پر ہی کھڑے ہو جاتے۔ حکومت کے پاس بازار کو قابو میں رکھنے کے لاتعداد طریقے ہیں لیکن یہ طریقے وہ حکمران استعمال کر سکتا ہے جو ان طریقوں سے خود محفوظ ہو۔ صاف ستھرا کاروباری یا پھر صاف ستھرا سیاستدان جسے خدا حکمرانی عطا کرے تو وہ اسے امانت سمجھے اور ایسے حکمرانوں کی یادیں ہم نے اپنی تاریخ میں سنبھال کر رکھی ہوئی ہوں صرف اپنی انا اور وقار کو زندہ رکھنے کے لیے ورنہ ان جیسا کوئی ایک دن بھی گزار دے تو مسلمانوں کے کسی ملک کو جنت بنا دے۔

جب ایک سفیر نے بادشاہ کو ڈھونڈتے ہوئے ایک درخت کے نیچے ریت پر لیٹے ہوئے ایک شخص کو دیکھا اور ادھر ادھر سے پوچھا کہ جس کا پتہ میں تلاش کر رہا تھا اور جو بتایا گیا کیا یہ وہی ہے تو جواب جب ہاں میں ملا تو وہ سفیر بھاگ کر واپس چلا گیا کہ ایسے حکمرانوں سے میں کیا معاملہ کرسکتا ہوں۔ اس حکمران کے نام پر آج بھی یورپ کے ایک ملک میں یہودی کا ایک قانون ہے ہمارے تو ایسے حکمران تھے کہ سرکاری ملازم ان کو دیکھ کر ہی سدھر جاتے تھے۔ ہماری بدقسمتی کہ آج ہم حکم پر حکم جاری کرتے ہیں مگر جواب ملتا ہے کہ بازار والے نہیں مان رہے اور قیمتیں کم نہیں ہو رہیں جب کہ پٹرول کی قیمتیں کم ہو چکی ہیں۔ ہم اور ہماری قسمت۔

ایک وضاحت

بھٹو مودودی ملاقات والے کالم کے سلسلے میں یہ وضاحت آئی ہے کہ اس وقت راؤ رشید صاحب نہیں چوہدری فضل حق پنجاب کے آئی جی تھے۔ حسین مودودی صاحب خاص توجہ دیں کہ ان کی کتاب میں بھی یہ غلطی باقی نہ رہے۔ راؤ رشید تو اس وقت بھٹو صاحب کے قریبی عملے میں شامل ہو چکے تھے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.