واہگہ بارڈر دھماکہ کس کی نا اہلی؟

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

انٹیلی جنس اداروں نے پہلے ہی لاہور میں دہشت گردی کی اطلاع دے دی تھی۔ رینجرز اہلکاروں نے اپنی جان پر کھیل کر خود کش حملہ آور کو روک لیا، اگر وہ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی۔ اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف ہمارا عزم متزلزل نہیں کر سکتیں۔ آخری دہشت گرد کے مارے جانے تک آپریشن جاری رہے گا۔ ‘‘ یہ وہ روایتی جملے ہیں جنہیں سنتے سنتے ہمارے کان پک گئے ہیں، دہشت گردی کے واقعات نہیں روک سکتے تو خدارا یہ جملے ہی تبدیل کر لیں کہ اب تو کوفت سی ہونے لگتی ہے اس طرح کی باتیں سن کر۔ ہم ہر بار دہشت گردوں کی کمر توڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، یادش بخیر رحمٰن ملک نامی ایک وزیر داخلہ ہوا کرتے تھے جو ہر دوسرے دن قوم کو خوشخبری سناتے تھے کہ ہم نے دہشت گردوں کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ مگر یہ خود کش حملہ آور ٹوٹی ہوئی کمر کے ساتھ رینگتے ہوئے وزیرستان سے چلتے ہوئے لاہور پہنچ جاتے ہیں اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ نہیں کر پاتے۔

واہگہ بارڈر جو سرحدی محافظوں کے پیروں کی دھمک سے کانپتی تھی، خود کش دھماکے سے تھرتھرائی تو بلند آہنگ نعروں کی جگہ دلدوز چیخوں کی پکار سنائی دی اور جارحانہ بانکپن کی جگہ مظلومانہ بیخ و بن نے لے لی۔ وطن کی آبرو پر جانثار ہونے والے تو رزق خاک ہوئے مگر اس شرمندگی و خجالت کا کیا کریں یا جو اس دھماکے کے بعد ہمارے حصے میں آئی۔ اگر اس حساس ترین مقام پر بھارت کی حدود شروع ہونے سے چند گز پہلے دہشت گردی کی واردات ہو سکتی ہے تو پھر دیگر ممالک عالمی دہشت گردی میں ہمارے کردار پر بات کیوں نہ کریں۔ حسب سابق بتایا جا رہا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں نے واہگہ بارڈر پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا مگر اس کے باوجود سکیورٹی کے انتظامات نہ کرنا اورخودکش حملہ آور کامطلوبہ مقام پر پہنچ جانا پولیس کی نا اہلی ہے ۔ ہماری پولیس کی نااہلی میں تو کوئی شک نہیں مگر جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ یہ جگہ تو پولیس کے سدرۃ المنتہیٰ ہے ۔یہاں کس کی مرضی سے پتہ ہلتا اور چڑیا پر مارتی ہے، یہ بات سب کو معلوم ہے اور ویسے بھی اگر پاک بھارت سرحدی علاقے کی سکیورٹی پر بھی ہم پولیس پر انحصار کر رہے ہیں تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اس موقع پر مجھے شاہ پور سے منسوب وہ غیر مصدقہ روایت یاد آ رہی ہے جس کا تعلق دوسری جنگ عظیم سے ہے۔ جب دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی اور برطانوی حکومت کی جانب سے برصغیر میں تمام سرکاری افسروں کو رنگروٹ بھرتی کرنے کا ٹاسک دیا گیا تو ڈپٹی کمشنر شاہ پور نے سب افراد کو جمع کیا اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ چھڑ گئی ہے ،ملکہ برطانیہ نے آپ سے مدد مانگی ہے، اب برطانیہ کی فتح یا شکست آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ایک سادہ لوح شخص نے کھڑے ہو کر کمشنر سے کہا " سر جی! جے گل ساڈے تے ای آ گئی اے تے مڑ ملکہ نوں آکھو، صلح کر لوے" (اگر بات ہم پر ہی آگئی ہے تو پھر ملکہ سے کہہ دیں صلح کر لے) میرا خیال ہے کہ اگر سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اب پولیس کے کاندھوں پر ہی آن پڑی ہے تو ہمیں وقت ضائع کئے بغیر صلح کر لینا چاہئے۔

سب سے بڑا مخمصہ یہ ہے کہ دھماکہ کیا کس نے۔سب سے پہلے جنداللہ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ۔چند منٹ بعد تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہو جانے والے گروہ جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کی ای میل موصول ہوئی کہ یہ دھماکہ ان کی طرف سے کیا گیا ہے میں نے جنداللہ کا حوالہ دیا تو تفصیلی ای میل میں بتایا گیا کہ یہ دھماکہ ان کے ساتھی حنیف اللہ نے کیا ہے، اس دھماکے کے ذریعے وزیرستان میں ہلاکتوں کا بدلہ لیا گیا ہے۔ جنداللہ جو افسانوی کردار ہے آپ لوگ اسے زیادہ اہمیت نہ دیں۔ ابھی یہ شش و پنج ختم نہ ہوئی تھی کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا کہ تیسرا دعویٰ بھی سامنے آ گیا۔ تحریک طالبان محسود گروپ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائی انہوں نے کی ہے اور آئندہ بھی اس طرح کی کارروائیاں کی جائیں گی۔

ماشاء اللہ ہم مسلح اور عسکری گروہوں کے حوالے سے نہ صرف خود کفیل ہیں بلکہ جو بھی انٹرنیشنل برانڈ متعارف ہوتا ہے اس کی پہلی فرنچائز پاکستان میں ہی آتی ہے۔ داعش کو ہی دیکھ لیں ،ابھی خود عرب کنفیوژن کا شکار ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں، ان کی پشت پناہی کون کون کر رہا ہے، ان کے اغراض و مقاصد کیا ہیں، مگر ہمارے ہاں اس کے ہمدردوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پشاور میں اس کی پہلی شاخ کھلی، پھر کراچی اور اب لاہور میں اس کے پوسٹر نظر آنے لگے ہیں۔مجھے تو یوں لگتا ہے کہ داعش کی فرنچائز پاکستان میں لانے کا مقصد ان مسلکی اختلافات کو ہوا دیکر انتشار پھیلانا ہے جو ایک عرصے سے خوابیدہ تھے۔ ایک کالعدم تنظیم کی مرکزی قیادت میں تبدیلی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی محسوس ہوتی ہے۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں دہشت گردی چیستاں میں لپٹی پہیلی میں چھپا ایک ایسا معمہ ہے جسے حل کرنا آسان نہیں مگر میرا خیال ہے کہ اس اُلجھی گُتھی کو سلجھانا بہت آسان ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایک سکیورٹی اسٹیٹ کے طور پر غیر مستحکم رہنا چاہتے ہیں یا پھر ایک فلاحی ریاست کی حیثیت سے مستحکم ہونے کے خواہشمند ہیں؟ مؤ خر الذکر راستے کا انتخاب کرنے کی صورت میں ہمیں پراکسی وار کو خیرآباد کہنا ہو گا۔

تمام لشکر، تمام سپاہ، تمام مسلح گروہ، تمام ملیشیا بلا تخصیص و بلا تفریق ختم کرنا ہونگی ۔یہ طے کرنا ہو گا کہ اس ملک میں ایک ہی لشکر، ایک ہی سپاہ،ایک ہی عسکری گروہ قائم و دائم رہے گا اور اس کا نام پاک فوج ہے۔ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت صرف اور صرف اس کی ذمہ داری ہو گی۔ کسی اور گروہ کو قومیت یا مذہب کی آڑ میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سب سے اہم بات جو میں پہلے بھی اپنے کالم میں کہہ چکا ہوں کہ "طالبان کی ماں" سے دست بستہ عرض ہے کہ بس بہت ہو چکا اب بچے جننا چھوڑ دو۔ وہ بچے جنہیں تم دوسروں سے لڑانے کے لئے پالتی پوستی ہو، وہ ایسے ناہنجار ہیں کہ تمہیں نقصان پہنچانے لگتے ہیں اور ہاں وہ تمام گروہ جو اس وقت کسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ تو ملک و قوم کی خاطر کسی محاذ پر لڑ رہے ہیں انہیں بھی بنگلہ دیش میں عبدالقادر مُلا، پروفیسر غلام اعظم، مطیع الرحمان نظامی ،قمر الزماں اور میر قاسم علی جیسے افراد کے انجام کو ذہن میں رکھنا چاہئے اور یہ مت بھولیں کہ جب انہیں غداری کے الزامات کا سامنا ہو گا، تختہ دار پر کھینچا جائے گا تو وہ ادارے جن کے کہنے پر انہوں نے بندوق اُٹھائی ،وہ ان کی مدد کو نہیں آئیں گے۔ حرف آخر یہ ہے کہ اگر اس ملک میں نجی ملیشیا اور بندق بردار گروہ تیار کرنے کی فیکٹری بند نہ ہوئی تو ہر روز کربلا ہو گی، ہر شہر مقتل ہو گا اور ہم یوں ہی قسطوں میں خود کشی کرتے رہیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں