.

سال رواں کا وزیرستان پر سولہواں ڈرون حملہ

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اکتوبر کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے دس کلو میٹر (7 میل) اور تحصیل برمل میں واقع مقام اعظم وارسک میں امریکی قزاق طیارے (ڈرون) نے صبح کو اشرف نامی شخص کے مکان پر چار میزائل داغے جس میں مقامی حکام اور امریکی ذرائع کے مطابق حقانی حریت پسندوں کے کمانڈر عبداللہ حقانی سعودی نژاد جنگجو عمر اور ہادی جبکہ یمن سے تعلق رکھنے والے کمانڈر عادل مبینہ طور پر ہلاک ہو گئے اور چونکہ امریکی ڈرون طیاروں کے حملے کے تدارک کے لیے پاکستان کا متقاضی دفاعی نظام نہیں ہے اس لیے یہ قزاق طیارے گھنٹوں جائے واردات پر منڈلاتے رہتے ہیں جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس تو کم لیکن ان کا امریکہ اور پاکستان کے حکمرانوں کے خلاف غم و غصہ شد ت اختیار کرتا جاتا ہے۔

سال رواں کا یہ سولہواں ڈرون حملہ تھا۔ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ 15 جون سے ضرب عضب شروع ہو اہے اس وقت سے تادم تحریر ڈرون حملوں کے تواتر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ شبہ تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ مبادا یہ کارروائیاں حکومت پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ منصوبے کے تحت کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے آزاد خیال (Liberal) انگریزی روزنامے ڈان نے 31 اکتوبر 2014ء کے شمارے میں اپنے ادارتی نوٹ میں اسے انسداد دہشت گردی کے دیرینہ حلقوں کی ملی بھگت ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرویز مشرف کی امریکہ نواز پالیسی کا تسلسل ہے۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ڈرون حملوں کو انسانی حقوق کی پامالی سے تعبیر کیا ہے جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اکتوبر 2013ء کے رپورٹ میں ڈرون حملوں کو ماورائے عدالت قتل عام اور جنگی جرائم قرار دیا ہے لیکن حکومت پاکستان کا دفتر خارجہ ایک رسمی بیان دے کر کہ یہ حملے پاکستان کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے داخل دفتر کر دیتا ہے جبکہ اگر حکومت ان حملوں کو واقعی ایسا سمجھتی ہے تو اسے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دینا چاہیے لیکن حکمرانوں میں اتنی بھی ہمت نہیں ہے کہ امریکی سفیر کو انتباہ کریں ہاں اپنے شہریوں کے ماورائے عدالت قتل اور اغوا کی جرأت ضرور ہے۔ اس ضمن میں جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کا رویہ ایک جیسا ہے۔ ابھی حال میں پارلیمان میں ایم کیو ایم کے رکن بابر غوری نے انکشاف کیا کہ امریکی بلا معاوضہ پاکستان کی فضائی حدود کو استعمال کر رہے ہیں۔

اسی طرح پی پی کی حکومت کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا تھا کہ اگر کوئی ثابت کر دے کہ پاکستان میں بلیک واٹر کے گماشتے اور ایجنٹ موجود ہیں تو میں مستعفی ہو جاؤں گا۔۔۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ان کے بیان دینے کے بعد امریکہ کا وزیر دفاع اور CIAسابق ڈائریکٹر رابرٹ گیٹس اسلام آباد آیا تو اخبار نویسوں نے یہی سوال اس سے بھی پوچھا تو اس نے ببانگ دہل اعتراف کیا کہ یہاں بلیک واٹر کے ایجنٹ ہیں جو امریکی عملے کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے ہیں اور 2007ء میں پاکستان کے سفیر برائے امریکہ نے مبینہ طور پر جس فراخدلی سے چار سو امریکیوں کو پاکستان آمد کے لیے ویزے دیئے وہ کسی بھی حکومت کے لیے باعث شرم ہے۔ اسی طرح 2005ء میں بالاکوٹ میں زلزلے کے متاثرین کی راحت رسانی کے لیے جو امریکی ٹیم آئی تھی اس میں سی آئی اے کے ایجنٹ تھے۔ اس کا اعتراف امریکی انتظامیہ نے کیا۔ وکی لیکس کے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستان میں تعینات اپنے سفارتکاروں کو خفیہ ہدایات دیں کہ وہ پاکستان کے وزراء اور اعلیٰ حکام کے نجی ٹیلی فون ای میل سے لے کر خطوط حتیٰ کہ ان ہوائی سفر، بحرانی جہاز کے ٹکٹ نمبروں اور ان کے دوروں سے متعلق سارے کوائف جمع کریں۔ باالفاظ دیگر ہیلری کلنٹن نے (1961 vienna convention on diplomatic relations) کی کھلی خلاف ورزی کی ہے جس کے نتیجے میں سفارتکار اور جاسوس کا فرق ہی مٹ گیا۔

سوال یہ ہے کہ جب جرمنی، برازیل، میکسیکو، کیوبا اور دیگر ممالک امریکی مداخلت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو پاکستان کے حکمران امریکہ پر کیوں اعتراض نہیں کرتے؟ وجہ صاف ظاہر ہے۔ ان میں اتنی اخلاقی اور سیاسی جرأت ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کی آزادی پر کیے گئے حملوں، تخریب کاری اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کے خلاف قانونی اور سفارتی اقدام کیوں نہیں کرتے؟

ہمیں یہ کہہ کر ڈرایا جاتا ہے کہ اگر ہم نے امریکی ڈرون طیارے مار گرائے تو امریکہ پاکستان کو پتھر کے دور میں پہنچا دے گا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان عہد زریں سے گزر رہا ہے جبکہ لوڈشیڈنگ جان لیوا غربت قحط زدہ تھر کمر توڑ گرانی، ہدفی قتل اگر پتھر کے دور کے آثار نہیں تو اندھیر نگری چوپٹ راج کی عبرتناک مثال تو ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ پاکستان امریکہ سے جنگ نہیں کر سکتا لیکن اس کے سامنے پر امن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کے راستے تو کھلے ہوئے ہیں۔آخر نکارا گوا نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے امریکہ کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی، اپنے بدرگاہوں کی ناکہ بندی، اپنی سرزمین پر بمباری، اپنے شہریوں کے قتل اور اغوا کی شکایت تو کی تھی اور امریکہ نے مذکورہ عدالت کے حق سماعت کو تسلیم کیا تاہم اس کی ہدایت پر اپنی جارحانہ کارروائیاں ترک کر دیں ۔ اسی طرح پاکستان بھی ڈرون حملوں کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ کیا ہماری حکومت میں نکارا گوا کی حکومت کی سی جرأت نہیں ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.