.

وزیر اعظم یونس خان !

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی یونس خان نے آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کو ناک چنے چبوا کے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ گزشتہ روز وہ ایدھی سنٹر بھی گئے اور اپنا وقت یتیم بچوں کے ساتھ گزارا اور یوں انہوں نے خود کو پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے لئے کوالیفائی کر لیا ہے ۔ ان سے پہلے عمران خان کی کپتانی کے زمانے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا تھا،پوری ٹیم کی کارکردگی کی کیا اوقات ہو سکتی ہے ،چنانچہ کپتان عمران خان وزارت عظمیٰ کے امیدوار بن گئے اب وہ دو ڈھائی ماہ سے اسلام آباد میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس وقت تک نہیں اٹھوں گا جب تک وزیر اعظم نواز شریف استعفیٰ نہیں دیتے ، اور ان کی جگہ بغیر الیکشن کے وہ خود وزیر اعظم نہیں بن جاتے کیونکہ ان کی ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا تھا تاہم کچھ عرصے سے یہ دھرنا ان کے لئے وہ کمبل بن گیا ہے جو وہ چھوڑنا چاہتے ہیں مگر کمبل انہیں نہیں چھوڑتا، وہ رات کو دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرنے آتے ہیں تو ان کے سامنے کرسیوں پر بیٹھے تیس چالیس افراد کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہوتا ہے اور وہ ہوتے ہیں۔ ایک دل جلے پاکستانی کا کہنا ہے کہ وہ دن پاکستان کی تاریخ کا منحوس ترین دن تھا جس دن پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تھا کیونکہ اس کے جو آفٹر افیکٹس سامنے آئے ہیں وہ بہت خوفناک ہیں۔

پاکستانی قوم کو ایک ایسا لیڈر ملا جو صرف گالی کی زبان میں بات کرنا جانتا ہے جو ہر اختلاف کرنے والے کو بکائو مال قرار دیتا ہے جو ہر کسی پر بہتان تراشی کرتا اور پاکستان کی قابل احترام شخصیات اور اداروں کی پگڑیاں اچھالتا ہے ۔ جو لکھے ہوئے ’’اسکرپٹ ‘‘ پر عمل کرنے کے لئے ماضی میں پی ٹی وی اور ’’جیو ‘‘ پر اپنے کارکنوں کو حملے پر اکساتا رہا ہے جو اپنے ساتھی طاہر القادری صاحب کے تعاون سے اپنے کارکنوں کی لاشیں دیکھنے کا خواہشمند تھا جب وہ خواہش حکومت نے پوری نہ ہونے دی تو تنظیمی اناڑی پن کے نتیجے میں ان کے کارکن ہجوم کے پائوں تلے کچلے گے ’’لیڈر‘‘ نے اس سانحہ کا ملبہ بھی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے ۔ جو سول نافرمانی کا ’’حکم‘‘ دیتا ہے اور اس پر کوئی عمل نہیں کرتا جو لوگوں سے کہتا ہے کہ ٹیکس ادا نہ کرو، مگر نافرمان عوام اس کی کوئی بات نہیں مانتے، اسلام آباد میں اس کے اور اس کے رفیق خاص کے دھرنوں کے سبب چینی وزیر اعظم جو پاکستان سے اربوں ڈالر کے معاہدے کرنے آ رہے تھے وہ پاکستان نہ آ سکے، پاکستانی معیشت آگے جاتے جاتے ان دھرنوں کی وجہ سے پیچھے جانا شروع ہو گئی اسے چار سو ارب روپے سے زیادہ کا ’’ٹیکہ‘‘ لگا، ڈالر جو موجودہ حکومت 98روپے کی سطح تک لے آئی تھی اس کا ریٹ دوبارہ بڑھنا شروع ہو گیا، سٹاک مارکیٹ جو چھلانگیں مارتی اوپر جا رہی تھی زوال کی زد میں آ گئی ،لوگ پاکستان کے مستقبل سے مایوس ہونے لگے یہ وہ لیڈر ہے جس کے ہاتھوں ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ نئی نسل کو بد زبان بنا دیا گیا، ان کے پیروکاروں نے میڈیا پرسنز کو ماں بہنوں کی گالیاں دیں اور انہیں روکنے کی بجائے بالواسطہ طور پر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔

بہرحال جب سے اسکرپٹ ’’داخل دفتر ‘‘ہوا ہے اس کے بعد سے خان صاحب سخت جھنجلاہٹ کے عالم میں ہیں، طاہر القادری نے تاجدار رسالت کی قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ دھرنا نہیں چھوڑیں گے لیکن وہ اس کینیڈا کے صاف ستھرے ماحول میں زندگی کے دن بخیروعافیت گزار رہے ہیں انہیں ایک دفعہ ناک پر رومال جو رکھنا پڑا تھا جب وہ تعفن زدہ ماحول میں دھرنا دینے والوں کے قریب سے گزرے تھے مگر ان تمام حالات وکوائف کے باوجود میں اس دن کو پاکستان کا روز سعید ہی سمجھتا ہوں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا تھا ، خرابیاں تو کسی اور نے پیدا کیں ۔اب یونس خان کی باری ہے کہ ہر طرف سے ان کی بہترین کارکردگی پر بلے بلے ہو رہی ہے ان کی کامیابی ذاتی کامیابی تھی مگر انہوں نے اسے پوری ٹیم کی کامیابی بنا دیا، جبکہ ورلڈ کپ کے دوران پوری ٹیم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا مگر اس کے کپتان نے اسے ذاتی کامیابی بنا کر پیش کیا اور یوں دیکھا جائے تو پاکستان کی وزارت عظمیٰ پر یونس خان کا حق فائق ہے کہ انہوں نے ’’پرایا مال اپنا‘‘ کی روش نہیں اپنائی بلکہ ان کے لہجے میں کہیں تکبر اور غرور کا شائبہ تک بھی دکھائی نہ دیا مگر یہ عجیب شخص ہے کہ اتنی بڑی کامیابی اور اتنی ڈھیر ساری خوبیوں کے باوجود اس نے ابھی تک یہ نہیں کہا کہ پاکستان پر حکومت اس کا حق ہے کیونکہ ........وغیرہ وغیرہ ! اور اب اگر سچی بات پوچھیں تو خدمت کے حوالے سے اور بھی بہت سے لوگ ہیں جن کی ساری عمر پاکستان کا نام روشن کرنے میں گزر گئی ہے میں اگر یہاں سب کے نام لینا شروع کروں تو کالم کی طوالت کئی قسطوں تک پھیل جائے گی چنانچہ عبدالستار ایدھی اور ڈاکٹر ادیب رضوی کا نام لیتا ہوں کیا ان سے بڑھ کر کوئی خادم پاکستان ہے ؟ خان صاحب، خدا سے ڈریں پاکستانی قوم کے پیسوں سے ایک اسپتال بنا کر اس کا اتنا بڑا معاوضہ طلب نہ کریں ورنہ کتنے ہی اسپتال کتنے ہی رفاہی ادارے بنانے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو میں نے یہاں درج کی تو آپ ان کے سامنے بونے نظر آنے لگیں گے، چلیں چھوڑیں، آپ فی الحال یونس خان پر کڑی نظر رکھیں کہ آپ کی ’’وزارت عظمیٰ‘‘ کو ایک بڑا خطرہ ادھر سے بھی لاحق ہو سکتا ہے ۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.