.

مستقبل کے قائدین کے نام

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کمیونیکیشن گیپ کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے سیاسی تصورات بعض اوقات زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہوتے لیکن اس میں دو رائے نہیں کہ بیرون ملک پاکستانی، ملک میں مقیم پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی ہوتے ہیں اور وہ ہم سے بڑھ کر پاکستان کے بارے میں سوچتے یا پریشان رہتے ہیں۔ جب وہ ان ملکوں کے حالات سے پاکستان کے حالات کا موازنہ کرتے ہیں، جہاں وہ مقیم ہوتے ہیں تو ان کا کرب اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہی چیز مجھے برطانیہ میں پڑھنے والے اور بالخصوص آکسفورڈ یونیورسٹی کے پاکستانی طلبہ کے ہاں دیکھنے کو ملی ۔ شاید اسی وجہ سے انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی پاکستان سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ہے جو پچھلے چار سال سے پاکستانی فیوچر لیڈرز کانفرنس (Pakistan Future Leaders Conference) کے نام سے ایک کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے۔ اب کی بار آکسفورڈ یونین ہال میں منعقدہ اس کانفرنس میں پاکستان سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، ہیومن رائٹس کمیشن کے کوچیرپرسن کامران عارف، ڈاکٹر معید اور راقم کو مدعو کیا گیا تھا۔ مقامی مقررین میں بی بی سی ورلڈ سروس کے اون بینیٹ جان (Owen Bennett Jones) ، آکسفورد یونیورسٹی کے ساؤتھ ایشیاء اسٹڈیز کے ڈائریکٹر میتیو میک کارتنی (Mattew Mccartney‘ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس ‘ یورپین پارلیمنٹ کے رکن سجاد کریم ، شعبہ تاریخ کے پروفیسر افتخار ملک‘ورلڈ کاپ (WCOP) کے چیرمین سید قمر رضا، سوسائٹی کے صدر فراز جانان خٹک اور رفیع اللہ کاکڑ شامل تھے ۔ کانفرنس کا موضوع پاکستان کو درپیش چیلنج تھے اور خوبی اس کی یہ تھی کہ ایک تو اسے صرف آکسفورڈ یونیورسٹی تک محدود نہیں رکھا گیا تھا بلکہ پورے برطانیہ میں زیرتعلیم پاکستانی طلبہ کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔

اسی طرح اسے صرف تقاریر تک محدود رکھنے کی بجائے سوال و جواب کے لئے بھی خاطر خواہ وقت رکھا گیا تھا جبکہ مختلف کمیٹیوں میں گروپ ڈسکشن کے ذریعے بھی پاکستان کے مسائل اور ان کے حل سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع میسر آیا۔ حسب عادت یہاں بھی لکھی ہوئی تقریر پڑھنے کی بجائے میں نے زبانی تقریر پر اکتفا کیا ‘ اس لئے من وعن یاد نہیں تاہم جو کچھ عرض کیا اس کا خلاصہ کچھ یوں تھا:

’’آکسفورڈ یونیورسٹی کی پاکستان سوسائٹی کی منتظمین کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے مجھ جیسے ٹاٹ کےا سکول کے پڑھے ہوئے کم تعلیم یافتہ شخص کو دنیا کے مؤقر ترین تعلیمی ادارے کے اسکالروں اور طلبہ کے سامنے خطاب کرنے کے اعزاز سے نوازا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ آنے پر مجبور کیا ۔ اس سے قبل برطانیہ اور دنیا کے بعض دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں میں اظہار خیال کا موقع میسر آیا لیکن آکسفورڈ کے اعزاز کی بات ہی کچھ اور ہے ۔

ہم اہل صحافت ہر معاملے میں کیڑے نکالنے اور ہمیشہ تصویر کا تاریک رخ دیکھنے کے لئے مشہور ہیں لیکن آج خلاف روایت میں آغاز میں روشن رخ یعنی پاکستان کی خوبیوں، محاسن یا مواقع کے ذکر سے کروں گا۔ پہلی انفرادیت یا خوبی ہمارے پیارے پاکستان کی یہ ہے کہ برطانیہ، یورپ یا عرب ممالک کے بنسبت ہمارے ہاں غیرمعمولی تنوع پایا جاتا ہے۔ چترال سے کراچی تک اورگلگت سے گوادر تک آپ کو کئی زبانیں اور ثقافتیں نظر آئیں گی اور اللہ کا کرم ہے کہ اس معاملے میں ہم پاکستانی، یورپ وغیرہ کی بنسبت بہت زیادہ وسیع النظر ثابت ہوئے ہیں ۔ سیاسی نعروں یا نفرتوں کا معاملہ الگ ہے لیکن عوامی سطح پر یہ قومیتیں اور ثقافتیں ایک دوسرے کو صدیوں سے برداشت کر رہی ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں غیر معمولی مذہبی تنوع بھی پایا جاتا ہے۔ عرب ممالک یا ایران جیسے ممالک میں آپ کو کسی ایک یا دوسرے فقہ کے حامل لوگ نظر آئیں گے لیکن پاکستان میں آپ کو سنی بھی ملیں گے، شیعہ بھی، بریلوی بھی، دیوبندی بھی اور سلفی بھی۔ اگر سیاست کے لئے مذہب کا استعمال نہ ہو تو عوامی سطح پر یہاں بھی پاکستانی لوگوں میں غیر معمولی برداشت دیکھنے کو ملتی ہے ۔

دوسری خوبی ہمیں اللہ نے آب وہوا اور موسم کے لحاظ سے غیرمعمولی تنوع کی صورت میں عطا کی ہے ۔ تیسری خوبی غیر معمولی آزادی اظہار کی ہے ۔ پاکستان میں اگر مارشل لا بھی آجائے تو سول سوسائٹی کو ڈی چوک میں کھڑے ہوکر ڈکٹیٹر کو گالی دینے کی اجازت ہوتی ہے تاہم دیگر اسلامی ممالک میں اس آزادی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح باصلاحیت اور متحرک انسانی وسائل، پاکستانی کی اسٹریٹجک لوکیشن، دنیا کی بڑی افواج میں سے ایک فوج ‘ ایٹمی صلاحیت وہ چیزیں ہیں جو ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ جمہوریت ہماری لولی لنگڑی سہی لیکن دیگر اسلامی ممالک کی بنسبت ہمارے ہاں جمہوریت پرعمومی اتفاق ہے ۔ میڈیا کی وجہ سے اس وقت منفی چیزوں کا بظاہر غلبہ نظر آتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پاکستان کے اندر سے پاکستان کو توڑنے کے لئے اٹھنے والی آوازیں دم توڑ گئی ہیں ۔ ماضی میں جتنی قدآور شخصیات بلوچ‘ پختون یا سندھی نیشنلزم کے نام پر پاکستان سے علیحدگی کے لئے کوشاں تھیں‘ موجودہ چند ناموں کی ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں۔ نیپ اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی اب پنجابیوں سے بڑھ کر پاکستان کی علمبردار بن گئی ہیں ۔

یہ سب مظاہر خوبیوں اور مواقع کے چند نمونے ہیں جن سے استفادہ کر کے پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم چیلنجوں پر آجائیں تو ان میں دہشت گردی و انتہا پسندی، سول ملٹری تنائو ، جمہوریت کی نیم پختگی یا پھر خود سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر کا فقدان، پڑوسیوں کے ساتھ خراب تعلقات، کرپشن ، فیڈریشن کے مسائل ، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ، خراب معیشت اور توانائی کا بحران جیسے چیلنج سرفہرست ہیں ۔ بعض چیزیں ایسی ہیں کہ جو مواقع یا خوبی کے زمرے میں بھی شمار ہوتی ہیں اور بیک وقت وہ چیلنج کا موجب بھی بنتی ہیں ۔ مثلاً ہماری اسٹریٹجک لوکیشن، ایٹمی صلاحیت اور ایک بڑی فوج ۔ یہی چیزیں ہماری سلامتی اور اہمیت کی بھی ضامن ہیں اور یہی چیزیں عالمی اور علاقائی قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی بھی ہیں۔ ہم نے اگر مذکورہ مواقع سے استفادہ کر لیا اور زیرنظر چیلنجوں پر قابو پا لیا تو میرا ایمان ہے کہ پاکستان کے مقابلے کا ملک دنیا میں کوئی نہیں ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت تک ہم ان وسائل یا مواقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھا سکے اور مواقع بھی ہمارے لئے مصیبت یا چیلنج کیوں بن گئے؟۔ میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں سیاستدان تو بہت ہیں لیکن لیڈر یا رہنماء کوئی نہیں ۔ لیڈر اور رہنماء کی تعریف یہی ہے کہ وہ قوم کے جذبات سے کھیلنے کی بجائے اس کے جذبات کو قابو میں رکھتا اور قوم کی تقلید کرنے کی بجائے اس کو راستہ دکھاتا ہے ۔ وہ راستہ خواہ لمبا ہو یا پھر قوم کے مزاج کے خلاف، دونوں صورتوں میں لیڈر اسی جانب قوم کی رہنمائی کرتا اور کردار کی طاقت سے اسے اپنا ہمنوا بناتا ہے ۔

آپ لوگ جو یہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں دراصل پاکستان کے مستقبل کے قائدین ہیں۔ اگر آپ لوگ پاکستان کے موجودہ سیاسی ناموں کے راستے پر چلے تو آپ بھی لیڈر نہیں بن سکیں گے بلکہ صرف سیاستدان کہلائیں گے لیکن اگر سیاستدان بننے کی بجائے آپ لوگوں نے لیڈر یا رہنما بننے کو ترجیح دی تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ایک خوشحال اور مضبوط ملک ہو گا ۔ تاہم اگر آپ لوگ بھی صرف سیاستدان بن گئے تو پھر پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہو۔ آپ لوگوں سے میری پہلی گزارش یہ ہے کہ بیرون ملک قیام کی بجائے تکمیلِ تعلیم کے بعد اپنے وطن واپس لوٹ آئیے اور دوسری گزارش یہ ہے کہ واپس آکر عوام کے جذبات سے کھیلنے اور قوم کی تقلید کرنے کی بجائے ان کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیجئے ۔ شکریہ‘‘

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.