.

داعش کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں درون ِخانہ داعش جڑیں پکڑ رہی ہے اوریہ اتنہا پسند تنظیم ملک اور ریاست کے لئے شدید خطرہ ہے۔ کچھ تجزیہ کار اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ عراق اور شام میں داعش کی ’’شاندار پیش رفت‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہاں یہ تنظیم مشرقِ وسطیٰ کے ’’بے دین حکمرانوں‘‘ کے خلاف لڑنے کے لئے ہزاروں نوجوان لڑکوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک ہزار کے قریب رضاکاروں کو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے کیمپوں میں تربیت دے کر عراق بھیجا جا رہا ہے۔ طالبان کی چھتری سے نکلنے والے چند ایک گروہوں کی طرف سے افغانستان کے ملا عمر سے تعلق توڑتے ہوئے داعش کے خلیفہ ابوبکر بغدادی کے ساتھ وابستگی کا اعلان بھی سامنے آیا۔ اسی طرح کراچی اور خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں داعش کے حق میں کی جانے والی وال چاکنگ اور لگائے جانے والے پوسٹر بھی اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ داعش پاکستان میں قدم رکھ چکی ہے۔ ان شواہد سے یہ سوال پیدا ہو جانا لازمی امر ہے کہ آخر داعش پاکستان کیلئے کس حد تک خطرہ بن سکتی ہے؟

پاکستان کی موجود صورتِ حال اُن ممالک ،جہاں داعش نے سر اٹھایا، جیسا کہ عراق، شام اور یمن، سے یکسر مختلف ہے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سامنے آنے والے خدشات کے باوجود داعش پاکستانی ریاست اور معاشرے کیلئے کوئی بڑا خطرہ نہیں بن سکتی۔ اس وقت پاک فوج ملک میں حملوں کا ارتکاب کرنے والے گروہوں، جیسا کہ طالبان اور القاعدہ، کے تعاقب میں ہے۔ پاکستان میں داعش کے خطرے کا جائزہ لینے کے لئے کچھ معروضات کو مد نظر رکھنا ہو گا.... پہلی بات یہ ہے کہ امریکہ نے عراق میں مداخلت کرتے ہوئے عراقی فوج کو تباہ کرتے ہوئے صدام حسین کا تختہ الٹ کر 2006ء میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے نوری المالکی کو کٹھ پتلی حکمران بنایا تو اس کے خلاف القاعدہ کی طرف سے شدید مزاحمت دیکھنے میں آئی۔ اس سے پھیلنے والی افراتفری کے نتیجے میں داعش نے جنم لیا۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ داعش کی کارروائیاں شیعہ اور مغرب مخالف کیوں ہیں۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت میں بھی یہی صورتِ حال دیکھنے میں آئی جب مغربی استعماری طاقتوں نے مسٹر اسد کا تختہ الٹنے کے لئے اسلامی گروہوں کے ہاتھ مضبوط کئے۔ اسد حکومت اسرائیل کے دل میں ایک کانٹے کی طرح ہے کیونکہ ایک تو وہ ایران کی طرف سے آنے والے ہتھیار فلسطینی تنظیموں کو فراہم کرتی ہے اور دوسرے وہ امریکہ کے حمایت یافتہ خلیجی ممالک کے حکمرانوں کے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔

پاکستان کو ایسی کسی صورتِ حال کا سامنا نہیں جو داعش کے قدم جمانے اور پروان چڑھنے کے لئے سازگار ہو سکے۔ یہاں نہ تو امریکہ کی فوجی مداخلت ہے اور نہ ہی کوئی شیعہ یا سیکولر حکمران ہے جو سنی گروہوں کے خلاف ہو۔ اس کے علاوہ پاک فوج انتہائی منظم اور طاقتور جنگی مشین ہے جو علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کے لئے موثر کارروائیاں کر رہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے گروہ صوفی مسلک اور بزرگانِ دین کے ماننے والے ہیں۔ ملک میں بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد 60 فیصد سے زائد ہے اور وہ انتہا پسند سلفی عقیدے ،جن کا عملی اظہار القاعدہ اور داعش ہیں، کے خلاف ہیں۔ چنانچہ یہ دھرتی انتہا پسندی کے خارزاروں کے قطعی طور پر ناموزوں ہے۔

تیسری بات یہ کہ شام میں سیکولر آمریت نے اُن گروہوں کو ریاستی جبر سے دبا کر رکھا ہوا تھا جو جمہوریت اور شہری آزادیوں کی بات کر رہے تھے۔ دوسری طرف پاکستان میں نہ صرف جمہوریت ہے بلکہ اس کی بہتری کی کوشش ہورہی ہے۔ یہاں کثیر جماعتی سیاسی نظام ہے جو انتخابی جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔ اس میں شامل جماعتیں، جیسا کہ پی پی پی، ایم کیو ایم اور اے این پی بائیں بازو کے سیکولر اور لبرل نظریات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ پی ایم ایل (ن) دائیں بازو کی طرف جھکائو رکھنے والی معتدل اسلامی مزاج کی سیاسی جماعت ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف دائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے۔ اس کے علاوہ جماعتِ اسلامی اور جے یو آئی مکمل طور پر دائیں بازو کی اسلامی جماعتیں لیکن ان کے بھی سیاسی مقاصد ہیں۔ یہ تمام جماعتیں طالبان اور داعش کی مخالف ہیں۔

چوتھی بات یہ کہ پاکستانی فوج اور بیوروکریسی کی تربیت نوآبادیاتی دور کے بعدکی لبرل اور جدید اقدار کے مطابق کی گئی ہے اور ان کا مغرب سے گہرا تعلق رہا ہے۔ درحقیقت ’’بیرونی لادینی دشمن ‘‘ کی بجائے سول اور ملٹری قیادت ’’اندرونی دشمن‘‘ کی حقیقت کو قبول کر چکی ہے۔ اس اندرونی دشمن سے مراد طالبان اور اسلامی انتہا پسند گروہ ہیں۔ پاکستانی ریاست کے مغربی ڈھانچے کی وجہ سے اسلامی انتہا پسندوں کے لئے ریاست پر قبضہ کرنا ممکن نہیں۔ پانچویں یہ کہ جن ممالک میں براہِ راست غیر ملکی افواج نے مداخلت کی، وہاں داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں نے مزاحمتی طاقت کے طور پر سراٹھایا۔ افغانستان، عراق اور شام اس کی واضح مثالیں ہیں۔ غیر ملکی مدخلت کی وجہ سے وہاںکا سیکولر سول اور ملٹری ڈھانچہ تباہ ہو گیا اور پیدا ہونے والے خلامیں انتہا پسند قوتوں نے سر اٹھا لیا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ مغربی ممالک کی فوج کشی نے معاملات کو درست کرنے کی بجائے بگاڑ دیا۔

پاکستان میں اس کے برعکس صورت حال دیکھنے میں آئی۔ یہاں فوج نے ان عناصر کے خلاف سخت مزاحمت کی جن کی وجہ سے ریاست کی خود مختاری پامال ہوتی محسوس ہوئی۔ اس نے انتہا پسندوں کے تعاقب میں ملک میں سی آئی اے تک کو کارروائی نہ کرنے دی۔ چھٹی بات یہ ہے کہ چاہے القاعدہ ہو یاموجودہ دور میں داعش ، ان سب کو خلیجی ریاستوں اور مغرب سے نجی ذرائع سے فنڈز ملتے رہے ہیں۔ داعش نے تیل کے کنووں پر بھی قبضہ کیا تاکہ مزاحمت کے لئے درکار وسائل حاصل ہو سکیں۔ دوسری طرف پاکستان میں انتہا پسندوں کو اس پیمانے پر فنڈنگ کی سہولت میسر نہیں۔ حتی کہ طالبان کا منشیات فروشی کے ذریعے وسائل حاصل کرنے کے امکانات کو بھی ساڑھے تین لاکھ تربیت یافتہ افغان فوج نے کم کر دیا ہے۔

ان تمام معروضات کے باوجود، اس حقیقت سے مفر ممکن نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف موثر آئینی ڈھانچہ نہیں رکھتا اور نہ ہی سول اور ملٹری حلقوں یا میڈیا اور عدلیہ کے پاس ایسی جامع پالیسی موجود ہے جس کے ذریعے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی بیخ کنی ہو سکے۔ تاہم ا س کی وجہ سے ہمارے ریاستی معاملات غیر فعالیت کا شکار رہتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ اس کے بل بوتے پر داعش یا طالبان پاکستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.