کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

موضوعات ایڑیاں اُٹھا اُٹھا کر خود کو نمایاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جنرل رضوان اختر آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال چکے، ان سے بہت سی امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ میاں نوازشریف چین میں جن معاہدوں پر دستخط کر چکے، ان سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ مگر میں ان سوچوں میں گم ہوں کہ جو لوگ خود اپنا مقدر کھوٹا کر چکے ہوں، ان کی تقدیر کون بدل سکتا ہے؟ فقیہان شہر ہر روز اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں مگر میں سوچتا ہوں، اس سے بڑا عذاب اور کیا ہو گا کہ خود کو مسلمان کہنے والوں نے ایک من گھڑت اور جھوٹے الزام پر دو زندہ انسانوں کو جلا ڈالا۔ گنہگاروں کو آگ میں جلانے کا ٹھیکہ تو تمہارے رب نے لیا ہے، اس مقصد کے لئے جہنم کی آگ بھڑکائی ہے، پھرچند گمراہ لوگ اس دنیا کو جہنم کیوں بناتے ہیں؟ ہم آج تک ایسے دلخراش واقعات کو ملک یا مذہب کی بدنامی کے خوف سے چھپاتے رہے ہیں مگر اب وقت آ گیا ہے کہ تمام مصلحتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے اس درندگی کی مذمت کی جائے چاہے یہ باعث شرمندگی ہی کیوں نہ ہو۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے بہت سے قارئین کو اس ہیبت ناک اور شرمناک واقعہ کی تفصیل معلوم نہ ہو۔ذرا دل تھام کر پڑھئے:

کوٹ رادھا کشن کے گائوں چک نمبر 59 میں شہزاد کا باپ جادو ٹونے کا کام کرتا تھا۔ ایک ہفتہ قبل وہ فوت ہو گیا تو شہزاد کی بیوی صائمہ عرف شمع نے اپنے سسر کا ایک تھیلا اٹھا کر شوہر کو دکھایا اور بتایا کہ اس میں جادو ٹونے کی کتابیں ہیں،کیوں نہ اس تھیلے کو جلا دیں۔ چنانچہ دونوں نے اس تھیلے کو نذر آتش کر دیا۔ اگلے دن ایک پھیری والے کا وہاں سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ جلے ہوئے اوراق میں سے کچھ پر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ اس پر شور مچ گیا کہ شہزاد مسیح اور اس کی بیوی نے قرآن پاک کی توہین کی ہے۔ یہ دونوں میاں بیوی اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتے تھے اور بھٹہ مالک کی طرف سے دیئے گئے ایک کمرے میں وہیں رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے محلے کے معزز افراد کو صفائیاں دینے کی لاکھ کوشش کی کہ ہم ان پڑھ ہیں، ہمیں نہیں معلوم کہ اس تھیلے میں کیا کچھ تھا،ہم نے تو جادو ٹونے کی کتابیں سمجھ کر جلایا ہے مگر اس دوران مساجد میں لائوڈ اسپیکر پر اعلان ہونے لگے اور بپھرے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ مشتعل افراد نے کمرے کی چھت میں نقب لگا کر ان دونوں کو باہر نکالا اور مار مار کر کچومر بنا دیا۔ ابھی ان میں زندگی کی رمق باقی تھی کہ کسی ایمان والے نے آواز لگائی’’انہوں نے ہمارے قرآن پاک کو جلایا ہے، اس کی سزا یہی ہے کہ انہیں بھی زندہ جلا دو‘‘چنانچہ جذبہ ایمانی سے سرشار افراد نے ان دونوں کو گھسیٹتے ہوئے اینٹوں والے بھٹے کی چمنی میں پھینک دیا اور جیتے جاگتے انسان چند لمحوں میں ہی کوئلے کا ڈھیر بن گئے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ دو نہیں تین انسانوں کا بیہمانہ قتل تھا کیونکہ شمع کی کوکھ میں پلتا چند ماہ کا بچہ بھی ماں کے ساتھ جل گیا۔ہمارے ہاں اس طرح کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں اور محض غیر مسلم ہی نہیں بعض اوقات مسلمان بھی جہالت و حماقت کی اس آگ میں جل اٹھتے ہیں۔چند برس ہوتے ہیں یزمان میں ایک مسجد پر قبضہ کرنے کے لئے ایک مسلک کے افراد نے مسجد کے موذن پر اسی طرح کا الزام لگایا تھا۔ آنا ًفاناً لوگ جمع ہوئے اور بلا تصدیق اس حافظ قرآن کو بے رحمی سے پیٹنا شروع کر دیا۔ ایک مقامی اسکول ٹیچر نے چھڑانے کی کوشش کی تو اسے بھی مار مار کر ادھ موا کر دیا اور یوں اس افسوسناک واقعے میں دونوں افراد دم توڑ گئے۔

جس قرآن مجید فرقان حمید کی حرمت پر ہم مر مٹتے ہیں اور اس قدر مشتعل ہو جاتے ہیں، اسے پڑھنے کی جسارت نہیں کرتے۔ ہم وہ بدبخت ہیں جو اس آفاقی کتاب کو چومتے ہیں، مشک و عنبر سے دھوئے ہوئے اطلس و کمخواب کے قیمتی غلاف میں لپیٹ کر رکھتے ہیں، تعویز بنا کر پہنتے ہیں، دھو دھو کر پیتے ہیں، اس آسمانی و روحانی کتاب کا اس قدر احترام کرتے ہیں کہ اس کی طرف پشت نہیں ہونے دیتے لیکن ہم اس سرچشمہ ہدایت سے اپنی پیاس نہیں بجھاتے۔ یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ خالق کائنات نے ہمارے نام کیا پیغام بھیجا ہے۔ کوٹ رادھا کشن میں انسانیت کی تذلیل کرنے والوں نے قرآن پڑھنے کی زحمت کی ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا کہ اسی قرآن مجید میں پروردگار نے کسی ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ قرآن میں تو سزا اور جزا کا نظام بھی بہت واضح ہے کہ جو شخص اپنے جرم سے انکاری ہو ،اسے مجاز عدالت اسی صورت میں سزا دے سکتی ہے کہ اس کا جرم ناقابل تردید شواہد کی روشنی میں ثابت ہو جائے۔

لیکن ہم ایسے صالحین ہیں کہ نہ روزے کی توفیق ہوتی ہے نہ نماز کی فرصت ملتی ہے،نہ اپنے رب کے احکامات سے آشنائی ہے نہ آنحضورﷺ کے فرمودات سے آگاہی ہے۔آج اس دور میں جب حصول علم کاشعور بیدار ہو چکا ہے، سروے کرا کے دیکھ لیں ۔کم از کم 25 فیصد پاکستانی مسلمان ناظرہ قرآن مجید پڑھنا نہیں جانتے۔میں خود ذاتی طور پر ایسے بیسیوں دیہات میں گیا ہوں جہاں نماز پڑھانے کے لئے کوئی پیش امام میسر نہیں آتا،بچے کے کان میں اذان دینا ہو تو مولوی کو ڈھونڈا جاتا ہے،دم درود کے لئے کسی ایسے بزرگ کی تلاش ہوتی ہے جس نے قرآن پڑھا ہو۔لیکن باقی 75 فیصد جنہوں نے ناظرہ قرآن تو پڑھ لیا،ان کی اکثریت بھی اس بات سے لاعلم ہے کہ اللہ رب العزت نے اس سرچشمۂ ہدایت میں کیا پیغام بھیجا ہے۔ اسی جہالت کا نتیجہ ہے کہ ہم سوچے سمجھے بغیر طیش میں آجاتے ہیں اور ایسی گھنائونی حرکتیں کر جاتے ہیں کہ جو مسلمان تو درکنار کسی انسان کے بھی شایان شان نہیں ہوتیں۔دیار وطن میں ایک آگ ہم نے حب الوطنی کے نام پر جلائی تھی جس میں اپنے ہی ہم وطنوں کو غدار قرار دیکر اس بھٹی میں جلایا جاتا رہا اور دوسری آگ یہ مذہبی منافرتوں کی ہے جس میں کوئی بھی شخص اپنے مخالف کو کافر قرار دیکر بھسم کر سکتا ہے۔ اگر یہ آگ بجھانے کی کوشش نہ کی گئی تو ایک دن ہم سب اس میں جل کر خاک ہو جائیں گے۔ اولیاء کی سر زمین ،ملتان سے تعلق رکھنے والے نامور شاعر جلیل حیدر لاشاری نے اس صورتحال کی کیا خوب عکاسی کی ہے:

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے

ایک بارود کی جیکٹ اور نعرہ تکبیر
راستہ خُلد کا آسان ہوا پھرتا ہے

کیسا عاشق ہے تیرے نام پہ قرباں ہے مگر
تیری ہر بات سے انجان ہو اپھرتا ہے

شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہیں جس سے
صبح وہ صاحب ایمان ہوا پھرتا ہے

ہم کو جکڑا ہے یہاں جبر کی زنجیروں نے
اب تو یہ شہر ہی زندان ہوا پھرتا ہے

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size