.

کیا عرب دنیا کے لیے اُمید کی کرن ہے؟

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ میں بہت سے لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا انھیں ایسے مستقبل کی یقین دہانی کرائی جا سکتی ہے جس میں ان کی ضروریات اور اُمنگیں پوری ہو سکیں گی۔ بدقسمتی سے علاقے کے نقشے پر ایک نظر دوڑانے سے کوئی زیادہ حوصلہ افزا تصویر نظر نہیں آتی ہے۔ نام نہاد عرب بہاریہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔

انقلاب مخالفوں، ابن الوقتوں اور موقع پرستوں نے عرب بہاریہ انقلابات کے ثمرات سمیٹے ہیں۔ جو لوگ جبر واستبداد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جنھوں نے آمریت کو چلتا کیا تھا، وہ اب جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ مذہبی جماعتوں اور انتہا پسند گروپوں نے عوامی احتجاجی تحریکوں کو یرغمال بنا لیا اور اس کے نتیجے میں عرب دنیا کے بہت سے حصوں میں اب طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔

آج گنجان آباد عرب ریاستوں میں سیاسی طوائف الملوکی جاری ہے اور وہاں متحارب گروہوں کے درمیان خون ریزی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وہ خود کو جمہوریت کے ہرکارے قرار دیتے ہیں لیکن وہ اپنے مخالفین کی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے تشدد کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس دوران بے گناہ خواتین اور بچے مسلسل روزانہ ہی بم دھماکوں اور توپ خانے کی گھن گرج کا سامنا کر رہے ہیں۔

عراق میں مکمل طور پر بدامنی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے، اس کے نتیجے میں روزانہ ہی خونیں غسل ہو رہا ہے حالانکہ پہلے اس ملک میں اس جیسا تشدد دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ شام میں تباہ کن خانہ جنگی جاری ہے اور اس کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا ہے۔ یمن میں انقلاب اور سد انقلاب رونما ہو رہے ہیں اور اس کا خمیازہ بے یار و مددگار عام یمنی بھگت رہے ہیں۔ پوری عرب دنیا میں ہر کہیں دہشت گردی کے ایسے ٹھکانے موجود ہیں جن سے پورے خطے کے امن اور استحکام کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

عرب رہ نما امن کی اس بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر طرف بڑی تیزی سے طوائف الملوکی پروان چڑھی اور تخریب ہوئی ہے۔ تیزی سے انحطاط اور چند ایک موجود سماجی اور سیاسی اداروں کی توڑ پھوڑ سے ایک ایسی صورت حال پیدا ہو چکی ہے جس سے واپسی ممکن نظر نہیں آ رہی ہے۔

عرب دنیا موجودہ بحران سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ہے اور نہ وہ ان سماجی برائیوں کی ذمے داری سے انکار کر سکتی ہے جن کے نتیجے میں فرقہ وارانہ تقسیم بڑھی ہے۔ تاہم امریکا بھی اس المیے کا برابر کا ذمے دار ہے۔ اس کی عراق پر چڑھائی اور اس کے بعد اس کے تمام اداروں کا خاتمہ ایسا اقدام تھا جس سے مہلک خلا پیدا ہوا اور اس نے عراقی معاشرے کو تار تار کر دیا۔ امریکا نے صہیونی ریاست کی جانب جھکاؤ کی حامل کمزور خارجہ پالیسی پر عمل کیا اور اس نے پورے خطے ہی کو ریزہ ریزہ اور خون آلود کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عرب بہاریہ انقلاب نے عوام کے مسائل کے حل کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اس میں ناکام رہا ہے۔ سیاسی اور سماجی شعبوں کے مکمل طور پر ضعف واضمحلال کا شکار ہونے کی وجہ سے داعش جیسی تنظیموں کے پروان چڑھنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اس کی قیادت تو بہروپیے لوگ کر رہے ہیں لیکن اس نے پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کیا ہے جو موجودہ ''اسٹیٹس کو'' کو توڑنے کے خواہاں ہیں۔

آج بہت سے سوالات تشنۂ جواب ہیں اور ان کے شفاف انداز میں جواب دینے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری کوئی ایسی واضح حکمت عملی ہے جو ہم کو اس تغیّر پذیر گلوبل آرڈر میں آگے لے جا سکے؟ کیا ہمارے پاس ایسے مدبرین موجود ہیں جو معاشرے کی اس انداز میں تعمیر نو کر سکیں جو عرب عوام کی اُمنگوں اور ضرورتوں کو ان کے اطمینان کے مطابق پورا کر سکیں؟ کیا ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہتر منصوبے سامنے لا سکتے ہیں کیونکہ اس دہشت گردی سے ہمارے معاشروں کے وجود ہی کو خطرات لاحق ہیں۔ کیا ترقی کے خواہاں عربوں کی اکثریت ایک ایسی درمیانی راہ پر چل سکتی ہے جو ایک خوش حال مستقبل کے لیے اہم ہے؟

ان سوالوں کے ہوش مندانہ جوابات پورے خطے کے مستقبل کا تعیّن کریں گے اور اس بات کا بھی تعیّن کریں گے کہ کیا ہم امن اور استحکام کی روشنی دیکھ بھی سکیں گے یا نہیں؟

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.