.

’’صرف ساٹھ ستر پاکستانی‘‘

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جناب بھٹو متحدہ پاکستان دولخت کرنے کے بعد جب مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے تو انھوں نے فرصت پا کر اندرونی حالات کا جائزہ لیا اور گھبرا گئے۔ حالات اتنے خطرناک تو نہیں تھے جتنے آج ہیں لیکن بگاڑ ہر طرف پھیل چکا تھا اور اس پر قابو پائے بغیر کسی حکمران کا آگے چلنا آسان نہ تھا چنانچہ ان کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور ایسے چند لوگوں کی ضرورت محسوس ہوئی جو بے غرض اور حب وطن کے جذبے سے سرشار ہوں اور حالات پر قابو پا سکیں کیونکہ انتظامی افسران سے اتنے بڑے کام کی توقع نہیں تھی۔

چنانچہ انھوں نے غالباً رحیم یار خان میں جلسہ عام میں کہا کہ مجھے ایسے ساٹھ ستر مخلص رضاکاروں اور ایسے افراد کی ضرورت ہے جو ملکی بگاڑ پر قابو پا سکیں اور نئے سازگار حالات پیدا کر سکیں۔ یہ ان کے دل کی آواز تھی جس کا ملک بھر میں خیرمقدم کیا گیا لیکن اندر خانے نہ جانے کیا مشورے ہوئے کہ حکومت کی طرف سے اس پروگرام کی تردید کر دی گئی کہ وزیر اعظم کا مقصد یہ نہیں وہ تھا۔ ایسی ہی بات موجودہ حکمران سے بھی منسوب کی گئی ہے جو ایک نیک خواہش تک محدود رہی اور عوام اس کا بھی خیرمقدم کرتے رہ گئے۔

ملکی حالات اور انتظامی مشینری کے غیرمعمولی بگاڑ کو دیکھ کر ہی عام لوگ بھی کسی نیک اور قوم پرست مارشل لاء تک کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مارشل لاء بھی بطور ایک حکومتی طریقہ معروف ہو چکا ہے جو جب نافذ ہوتا ہے تو خراب حالات کو بہانا بنا کر انھیں درست کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے لیکن فوجی حکمران بھی اس کان نمک میں رفتہ رفتہ نمک بن جاتے ہیں اور سویلین افسروں کی طرح کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ عام آدمی جو کبھی مارشل لاء سے اور کبھی کسی دھرنے باز سے امیدیں وابستہ کر لیتا ہے اسے نہ تو مارشل لاء پسند ہوتا ہے نہ کوئی دھرنا لیکن اس کے روزمرہ کے مسائل اور تلخ حالات اسے دربدر بھٹکاتے رہتے ہیں اور بقول غالبؔ

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیزرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

ہمارے انتہائی حساس شاعر نے بہت دور کی سوچی تھی اور برسوں پہلے ہمارا آج کا حال بیان کر دیا تھا۔ ہم آج بھی ہر تیز رو کے پیچھے اور ساتھ بھٹک رہے ہیں مگر ہمیں کوئی راہبر نہیں ملتا۔ صرف تیز رو ملتے ہیں سیاسی مسافر۔ ہمارے اپنے جیسے جو ہمیں مطمئن نہیں کر سکتے اور ہمیں اپنے ماضی اور حال کے حکمرانوں کی بات درست معلوم ہوتی ہے کہ ساٹھ ستر آدمی مل جائیں تو شاید وہ حالات کے بگاڑ پر قابو پا سکیں۔ جب میں آپ کی طرح بری اور ناقابل برداشت خبریں پڑھتا سنتا ہوں تو دل کرتا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں کے مرکزی مقامات پر سولیاں گڑی ہوں اور ان پر بدعنوان لوگوں کی لاشیں عبرت بن کر لٹک رہی ہوں۔

کیونکہ اب یہ کرپٹ لوگ عام عدالتوں کی پروا نہیں کرتے جہاں سے انھیں ضمانت مل جاتی ہے یا قید جسے وہ کچھ خرچ کر کے آرام کے ساتھ کاٹ لیتے ہیں اب تو حیرت انگیز طور پر موت کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو نہ صرف اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ حقائق کے بھی خلاف ہے۔ جب جرم کے مطابق سزا کا خوف نہ ہو تو کون کسی جرم سے باز آ سکتا ہے۔ آپ کبھی غور کیجیے کہ اب بات بات پر قتل کیوں ہو رہا ہے اس لیے کہ قتل کی سزا کا خوف نہیں رہا جس کسی نے یہ سزا ئے موت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس نے اپنے معاشرے میں جرائم کے فروغ پانے کا راستہ کھول دیا ہے اور یوں بڑی زیادتی کی ہے۔ پھانسی کا ڈر ختم ہو تو قتل سے کون باز آتا ہے۔

ہمارے ہاں کرپشن نہ صرف بڑھ چکی ہے بلکہ اس کی مالیت بھی غیرمعمولی ہے اور اس کا دائرہ بھی بہت پھیل چکا ہے۔ اخباروں میں کرپشن کے جرم کا ناموں کے ساتھ عام ذکر ہوتا ہے اور اس کی مالیت کا پڑھ سن کر ہوش اڑ جاتے ہیں یعنی بات کروڑوں سے آگے نکل کر اربوں تک پہنچ چکی ہے۔ دو وقت کی روٹی کو ترستا ہوا عام پاکستانی جب یہ سنتا ہے تو اس کا دل خون ہوتا ہے لیکن افسوس کہ اس کو کوئی راہبر میسر نہیں جو اسے نجات کا راستہ دکھا سکے جب کہ وہ ہر قربانی پر تیار ہے اور کیوں نہ تیار ہو ایک تو دکھ بھری زندگی اور دوسرے خالی ہاتھ جن میں قربانی کے سوا اور کچھ نہیں۔ کسی ترقی پسند نے لکھا تھا کہ مزدور کے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا اور کیا ہے۔

جس سے وہ محروم ہو سکتا ہے۔ ایسی ہی بات ہمارے ہاں پنجاب میں مشہور ہے کہ سیلاب آیا تو لوگ گھر بار کا سامان اٹھا کر کسی پناہ کی تلاش میں نکل پڑے۔ راستے میں چوہدری نے دیکھا کہ اس کے گاؤں کا ایک مزدور یا کمی کسی درخت پر بیٹھا ہے۔ چوہدری نے آواز دی کہ پاگل آؤ ہمارے ساتھ چلو۔ اس پر چوہدری کے اس کمی کمین نے جواب دیا کہ چوہدری غریبی کا مزا تو آج ہی آیا ہے کیا تم اس سے بھی محروم کرنا چاہتے ہو لیکن پاکستانی غریبی کے اس مزے سے نجات پانا چاہتے ہیں اور ان کی نجات کی حاجت کو ان کے حکمرانوں نے باری باری محسوس بھی کیا لیکن پھر ان کے اس عوامی احساس کو خطرناک قرار دے کر ختم کر دیا گیا۔ وہی بات کہ

خواب سے بیدار ہوتا ہے کوئی محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمران کی ساحری

حکمرانوں کی یہ ساحری ہماری دشمن ہے اور اس کے انسداد کا ایک شریفانہ طریقہ یہ تھا کہ چند افراد ایسے ہوں جو بے غرضی اور بے خوف ہو کر کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالیں اور قوم کا مال ان سے واپس لے لیں اور قوم کے سامنے انھیں سزا دیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ہمیں زندہ رہنا ہے اور بھارتی دھماکوں کا شکار نہیں ہوتے رہنا ہے تو پھر ہمیں اس سے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرنا ہو گا اور سائنسدانوں کا نہیں چند اچھے لوگوں کا ایک گروہ ہی یہ کام کر سکتا ہے ورنہ ہمارے موجودہ حکمران تو واہگہ کے شہیدوں کی طرح ساٹھ ستر بے گناہ پاکستانیوں کا خون ہضم کرتے ہی رہیں گے۔ مگر یہ چند افراد جن کے پاس اختیار بھی ہو کیسے میسر ہو سکتے ہیں۔ یہ مجھے معلوم نہیں۔ کیا کوئی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایسا ہو سکتا ہے جو مارشل لاء لگا کر ایسے چند لوگوں کو بااختیار کر کے خود ان کے تحفظ کے لیے خاموش بیٹھ جائے اور ملک بچانے کی کوئی صورت نکال لے۔

اس ملک کی ضرورت عام آدمی کو بھی ہے اور فوج کو اس سے بھی زیادہ ہے اور فوج ہی نہیں عام سویلین حکمران بھی جرأت دکھا کر ایسے لوگوں کو جمع کر کے بدعنوانی کو ختم کرنے پر لگا دے اور خود قوم سے رجوع کرے اور اس سے کہے کہ میں نے جان پر کھیل کر یہ کام کیا ہے میری مدد کریں۔ پھر یہ حکمران تماشا دیکھے کہ اسے کتنی عوامی مدد ملتی ہے اور وہ کس قدر بے فکر ہو کر قوم کو بچا سکتا ہے ورنہ یہ کرپشن اور رشوت ستانی دشمنوں سے گھرے ہوئے اس ملک کو ختم کر دے گی۔ تھرپار کر کے پاکستانی مظلوموں کی مثال ہمارے سامنے ہے اور یہ پاکستان کا ایک علاقہ ہے اور اس میں آباد بھی عام پاکستانی ہیں۔ جو بھوک سے مر رہے ہیں اور ہم ٹی وی پر ان کو مردہ یا نیم مردہ حالت میں دیکھ رہے اور افسوس کر رہے ہیں زبانی کلامی!

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.