ایک اور دورہ چین

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

نمازیں بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑ گئے۔ دوروں کے ساتھ یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ وزیر اعظم نے قوم کو اس خوش فہمی میں مبتلا کرنے کی کوشش کہ وہ چین سے لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے دور کرنے کا جادو لے کر آئیں گے مگر چینی وزیر اعظم نے الٹا ان سے مطالبہ کیا کہ سنکیانگ میں اندھیرگردی مچانے والے دہشت گردوں کا صفایا کیا جائے۔

سنکیانگ میں دہشت گردی کوئی نئی بات نہیں مگر اس کا کھرا پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان تک پہنچتا ہے تو چین اس مطالبے میں حق بجانب ہے کہ اس عفریت کو ڈھیر کیا جائے۔

پچھلے ایک دورے میں شہباز شریف شنگھائی میں تھے اور میٹرو بسوں اور میٹرو ٹرینوں کے ماڈلوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی میں صبح سویرے دہشت گردی کی واردات ہو گئی اور ناشتے میں مصروف بے گناہ مزدور لقمہ اجل بن گئے، اس واردات کی ذمے داری ایسی تنظیم نے قبول کر لی جس کا ہیڈ کوارٹر مبینہ طور پر شمالی وزیرستان میں تھا۔ یہ مشرقی ترکستان تحریک ازبکوں، تاجکوں اور ہر نوع کی نسلوں پر مشتمل ہے جس نے چین کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ یہ لوگ شمالی وزیرستان میں اچھے وقتوں میں آئے ہوں گے جب امریکہ، چین ، یورپ اور ساری دنیا ،جہاد افغانستان کے لئے فنڈ اور اسلحے کے ڈھیر لگا رہی تھی اور جہاد میں مسلمانوں کو جھونکا گیا تھا۔ اس جہاد کو کامیابی ملی اور سوویت روس پارہ پارہ ہو گیا، مگر مجاہدین نے اسی علاقے میں قدم جما لیئے، اب وہ پاکستان کے خلاف بھی نبرد آزماہیں، چین میں بھی ٹھوں ٹھاں کر آتے ہیں اور امریکہ کا الزام ہے کہ ا نہی میں سے بعض عناصر نائن الیون میں ملوث تھے، امریکہ نے تو بارہ برسوں میں دل کی بھڑاس نکال لی، افغانستان اور پاکستان میں خوب تباہی مچائی۔ مگر چین تڑپ رہاہے کہ اب وہ نشانے پر ہے۔ دیکھنے کی بات ہے کہ میاںنواز شریف کو چین سے بجلی کے منصوبے ملتے ہیں یا انہیں باقی ماندہ ٹرم ، ترکستان تحریک کی بیخ کنی میں گزارنا پڑتی ہے۔

بظاہر تو جو الیکشن ہوئے ، ان میں عوام نے نواز شریف کو وفاقی حکومت چلانے کا مینڈیٹ دیا تھا، یہ دوتہائی سے زاید مینڈیٹ تھا، میاں صاحب کو کسی دوسرے سہارے کی ضرورت نہ تھی مگر پتہ نہیں چلتا کہ اصل وزیر اعظم کون ہے، چین کے ساتھ جو بھی معاملات کرنے ہیں، وہ وفاقی حکومت نے کرنے ہیں، کراچی کے منصوبے ہوں، گوادر کی ترقی ہو، تھر کول کا معاملہ ہو، وزیر اعلی پنجاب کا ان سے دور پار کا تعلق نہیں بنتا لیکن وہ ہر دورہ چین میں وزیر اعظم کے ساتھ ہوتے ہیں، بلکہ اکثر تو اکیلے ہی دورہ اڑا آتے ہیں۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ ہر دورے کے نتیجے میں پاکستان کو کیا ملا۔ ملا بھی یا نہیں۔حال ہی میں ایک دورہ چینی راہنما نے بھی کرنا تھا مگر اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے یہ منسوخ ہو گیا۔ بہت شور مچا کہ عمران خان اور قادری نے ملک کا نقصان کر دیا مگر خدا کا شکر ہے کہ موجودہ دورے سے اس سارے نقصان کی تلافی ہو گئی ہے اور جن معاہدوں پر پاکستان میں دستخط ہونا تھے، ان پر بیجنگ میں دستخط ہو گئے۔ اگر تو پاکستان کے مسائل کا حل معاہدوں کے ذریعے ممکن ہوتا تو چین کے ساتھ ایک سال میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں معاہدے تو ہو چکے، دھرنو ں کی وجہ سے ایک دو ماہ کی لیٹ نکالنا ہمارے وزیرا عظم اور چینی قوم کے لئے چنداں مشکل کام نہیں۔ مگر حقیقت میں آگے دکھائی کچھ نہیں دیتا، کاغذی معاہدوں اور نمائشی منصوبوں سے بجلی نہیں بنے گی۔

حکومت بہر حال حکومت ہوتی ہے اور اس کے پیچھے پارلیمنٹ کھڑی ہو تو پھر اسے من مانی سے کوئی نہیں روک سکتا، مگر پیارے قارئین! آپ بہت سیانے ہیں، پاکستان ایک وفاق ہے۔ اس میں چار صوبے، ایک آزاد کشمیر اور ایک گلگت بلتستان کا علاقہ بھی شامل ہے۔ ان سب کو ساتھ لے کر چلنے کا نام وفاق اور جمہوریت ہے۔ مگر میاں صاحبان اس عمل کے عادی نہیں، وہ وزیر اعلی ہوں تو بے نظیر یا یوسف رضا گیلانی کو لاہور میں ویلکم نہیں کرتے اور اگر خود وزیر اعظم بن جائیں تو سندھ، خیبر پی کے اور دوسری اکائیوں کو برداشت نہیں کرتے۔ اور ساتھ لے کر چلنا انہیں گوارا نہیں۔

چین نے نواز شہباز کے ہاتھ میں سنکیانگ میں دھماکے کرنے والوں کی بیخ کنی کا ایجنڈہ تھما دیا ہے، یہ ”کمپنی“ واپس آئی ہے تو بھارت کے مودی نے بیلسٹک اگنی دو میزائل کے تجربے کی سلامی دی ہے۔ بھارتی عوام نے اس بریکنگ نیوز پر اپنے تبصروں میں کہا ہے کہ اب خدا نخواستہ پاکستان کا قصہ تمام کر دیا جائے۔ یہ کام ذرا مشکل ہے لیکن ایک بھارتی وزیر نے یہ لال جھنڈی دکھا دی ہے کہ کنٹرول لائین پر کشیدگی جاری رہی تو پاکستان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

میں نے ساری ڈراﺅنی باتیں اکٹھی کر دی ہیں، ایک خوفناک خبر اور سناتا چلوں کہ ہمارے لیڈروں کے دورہ چین سے قبل وہاں نئے نویلے افغان صدر بھی گئے تھے، ان کایہ پہلا ہی دورہ تھا اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر چینی قیادت نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان کے معاملات میں اس کا کوئی ہمسایہ مداخلت نہ کرے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں