پاکستان پر بڑھتا امریکی دباؤ

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد امریکہ نے وہاں سریع الحرکت فوج تعینات کردی تھی۔ اس پر مجھے پاکستان کے ایک سابق اسپائی ماسٹر جنرل حمید گل نے کہا کہ یہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو لے جانے کی تیاری ہے۔ اب ایک امریکی تحقیقاتی صحافی Webster Tarpley جنہوں نے 9/11 پر کتاب لکھی ہے، حال ہی میں انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ واقعہ دراصل پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ کرنے کے عمل کا حصہ تھا کیونکہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے، اس لئے اس پر براہ راست حملہ نہیں کیا جا سکتا ہے چنانچہ امریکیوں نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں یہ سوچا کہ افغانستان میں رہ کر یہ کوشش کی جائے، صحافی ویبسٹر تار پلے کا کہنا تھا کہ افغانستان پر حملہ دراصل پاکستان پر حملے کا پہلا مرحلہ تھا، اُن کا مزید یہ کہنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کے پکڑے جانے نے کھیل کو خراب کر دیا کہ ریمنڈ ڈیوس اس پر کام کر رہا تھا کہ پاکستان میں ایسا گروپ بنایا جائے جو پاکستان میں کہیں جرثومہ حملہ کرائے یا کسی علاقہ پر ایک ڈرٹی بم سے حملہ کر دے۔

جس سے امریکہ کو یہ کہنے کا موقع مل جائیگا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں ہے اور وہ پاکستان پر حملہ آور ہو یا پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کنٹرول حاصل کرلے مگر پاکستان نے ریمنڈ ڈیوس کو پکڑ کر اور اسکے بتائے ہوئے7 ہزار ایجنٹس کو نکال کر اِس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 9/11کا ڈرامہ امریکہ کی ملٹری کمپلیکس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رچایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 9/11ایک ایسا واقعہ نہیں تھا جس نے مشرق وسطیٰ اور افغانستان کی وجہ سے جنم لیا ہو بلکہ یہ ایک عشرہ طویل معاشی، مالی، سیاسی اور فوجی معاملات کے علاوہ ثقافتی تباہی کا نتیجہ تھا۔ اس طرح 9/11 کے واقعے نے امریکہ کی معاشی تباہی اور امریکہ کو تباہی سے بچانے کی عالم بے بسی میں ایک کوشش تھی۔ 9/11 کے واقعہ کی مشق اٹلی اور مغربی جرمنی میں دہشت گردی کو فروغ دے کر کی گئی۔ جہاں اِس مصنف کے تجزیے نے منظر نامے کو یکسر بدل دیا ہے کہ وہاں ہمارا تجزیہ بھی درست تھاجو امریکہ کے عزائم کے حوالے سے تھا کہ امریکہ بالادستی دُنیا پر ہر حال میں قائم رکھنا چاہتا تھا اور اِس سلسلے میں اپنے عوام کو وہ رکاوٹ سمجھتا تھا، اسلئے عوام کی حمایت حاصل کرنے کیلئے اُس نے 9/11 کا ڈرامہ رچایا۔

جیسا کہ وہاں کے کئی بڑے مصنفین اور سیاستدانوں نے کہا ہے کہ امریکہ کے دشمنوں میں جہاں چین، فرانس، روس اور دیگر ممالک ہیں وہاں امریکی عوام اُن کے عزائم کے حصول کے حوالے سے رکاوٹ تھے سو اُن کو اپنی راہ پر لگانے کیلئے امریکہ پر حملہ ضروری تھا۔ مصنف Webster Tarpley دہشت گردی کے معاشرتی پہلو کو رد کرتا ہے وہ اِس سوچ کا حامل ہے کہ ظلم و ستم، زیادتی اور بے بسی دہشت گردی کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جس دور میں رہتے ہیں اس میں ایسے جاسوسی ادارے معرضِ وجود میں آچکے ہیں جو ایسی دہشت گرد تنظیموں کو اپنے مقاصد کے لئے بناتے اور استعمال کرتے ہیں۔ ان جاسوسی تنظیموں میں سی آئی اے، موساد، ایف بی آئی، ایم آئی 6، KGB, FSG، BND جرمنی، SDECE فرانس، SISMI اٹلی کے علاوہ بھارت کی ’’را‘‘ اور آئی بی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹیلی ویژن گفتگو میں کہا کہ 26/11 کا واقعہ بھی سی آئی اے، موساد اور انڈین آئی بی کا کیا دھرا ہے اور الزام پاکستان پر تھونپ دیا گیا۔ سی آئی اے کا ایجنٹ ڈیوڈ ہیڈلے جو امریکی شہری اور اُس کے شہر شکاگو میں اس پر مقدمہ چل رہا ہے اور نام پاکستان کا لیا جاتا ہے، ممبئی واقعے کا ذمہ دار ہے۔

ہم خود یہ بات لکھتے رہے ہیں ممبئی کا واقعہ انڈیا، موساد اور سی آئی اے نے منظم کیا تاکہ پاکستان کو الزام دیا جا سکے۔ 5 نومبر 2014ء کو بھی پینٹاگون اپنی رپورٹ میں پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کو بھارت اور افغانستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ ممبئی میں بھی تو امریکہ نے پاکستان پر الزام لگایا تھا، خود تارپلےکہتے ہیں کہ الزام کون لگا رہا ہے جو سی آئی اے ایجنٹ ہے اور جو ممبئی پلان کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ پاکستان نے اس پر سخت احتجاج کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے بغیر ثبوت کے الزام لگایا اور حقائق مسخ کئے۔ پاکستان شمالی وزیرستان میں بلاامتیاز ہر قسم کےجنگجوئوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے مگر امریکہ پاکستان پر اس لئے الزام لگا رہا ہے کہ وہ پاکستان، بھارت اور افغانستان کو کسی بڑی جنگ میں الجھائے اور دونوں ممالک مل کر پاکستان پر دباؤ بڑھائیں، اس لئے افغان حکومت چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی سعی کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے مصنف تارپلے نے کہا کہ دہشت گردی پیدا کرنے اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی ذمہ داری اِن تنظیموں پر عائد ہوتی ہے جن کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب 9/11 Synthetic Terror میں ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بار بار اس بات پر اصرار کیا ہے کہ 9 ستمبر 2011ء کا حملہ امریکہ کی ملٹری کمپلیکس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔

جو انسان دشمن ہیں اس کے علاوہ انہوں نے شام کے ٹیلی ویژن اندونیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے 21 نومبر 2011ء کو کہا کہ شام کی خانہ جنگی کے ڈرامہ کے مصنف نیٹو اور سی آئی اے ہیں۔ اس کی تصدیق تو روسیوں نے بھی کردی ہے اور روسیوں نے مزاحمت کرکے شام کی حکومت بچالی ہے مگر اب داعش کو پیدا کر کے اِس خطرے کو بڑھا دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں خون بہایا جائے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کرنا اور اسرائیل کو بڑا ملک بنانا شامل ہے۔ یہ اسرائیلی منصوبہ ہے، یہ جوبائیڈن منصوبہ بھی کہلاتا ہے۔ امریکہ، پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے خوفزدہ ہے اور پاکستان چین کو گوادر کے ذریعے جو کوریڈور دے رہا ہے، وہ امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ افغانستان اور بھارت کی طرف سے دبائو بڑھانے کا ارادہ کر چکا ہے۔

اگرچہ چین کی طرف سے امریکہ کو کئی اشارے ملے ہیں کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آئے۔ اس نے اپنے سیٹلائٹ کو گرا کر امریکہ کو تنبیہ کی تھی اور اب اس نے ڈرون طیارے گرانے کیلئے مشین ایجاد کر لی ہے۔ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ وہ افغانستان اور چین سے تعلقات اچھے کرئے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کے خلاف پینٹاگون کے ذریعے یہ رپورٹ پیش کر دی ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، پاکستان نے بجا طور پر اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایسے وقت میں اِس رپورٹ کا شائع کرانا پاکستان اور افغانستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو روکنا اور بھارت کو مزید جارحانہ اقدامات پر اکسانے کی کوشش قرار پا سکتی ہے۔ اس بات سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے پاکستان امریکہ کے قابو میں نہیں آ رہا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں