.

وزیراعظم ہو تو ایسا

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسی رعونت اور ایسی خود پسندی۔ باقی رہنما ملازمین کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ شام کو چند درباری پہلے سے دربار سجا لیتے ہیں ۔ وہ پورے جمال کے ساتھ اپنے محل سے روانہ ہوتے اور پھر پورے جلال کے ساتھ مخاطب ہونے لگتے ہیں ۔ وہی خطاب روز باربار دھراتے ہیں لیکن کسی اور کو لیڈر بننے اور نہ پرائم ٹائم میں انہیں تقریر کا موقع دیتے ہیں ۔ تقریر کا آغاز بھی ان کے اپنے نام سے ہوتا ہے اور اختتام بھی ۔ان کا کمال یہ ہے کہ ان کے سینے میں دل نہیں یا پھر اگر دل ہے تو جذبات سے خالی ہے لیکن اپنے آپ کو انہوں نے صاحبِ دل مشہور کر رکھا ہے۔ وہ سراپا عقل ہے ۔ ان کے چہرے کے تاثرات ہر وقت ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ اس پر کبھی ملال دیکھنے کو ملتا ہے اور نہ اس پر مسکراہٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔ کبھی روتے نظر آئے اور نہ کبھی قہقہہ لگاتے نظر آئے۔ بس ان کے ذہن پر ایک ہی مشن سوار ہے اور وہ ہے ملک کی سب سے بڑی کرسی تک پہنچنا۔ 2002ء میں جنرل پرویز مشرف کی قربت میں ان کو یہ بڑی کرسی نظر آئی تو اس کے لئے ہر بے اصولی پر تیار ہو گئے ۔ گزشتہ دور میں ایک اور جنرل نے ان کو اس منزل کا لالچ دیا تو ان کی خاطر طالبان کے وکیل بن گئے اور ساری سیاست ڈرون کے تابع بنادی بلکہ اپنی پوری پارٹی کا اختیار ان کو دے دیا۔ اب کی بار پھر انہیں یہ منزل کچھ اور لوگوں نے دکھا دی تو اس کی خاطر سب کچھ کر گزرنے پر تیار ہوگئے۔

اس کے لئے انہوں نے ایک ایسے شخص کو اپنا نمبرٹو بنا دیا جو اسٹیٹس کو کی سب سے بڑی علامت اور جو 1999ء سے خفیہ قوتوں کا کارندہ ہے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں سے اس شخص کے زندہ باد کے نعرے لگوائے جن کے بارے میں وہ کہا کرتے تھے کہ انہیں میں اپنا چپراسی بھی نہیں رکھوں گا۔ جس کو چاہا‘ اسکرپٹ رائٹرز نے ان سے ان کو گالی دلوادی۔ افتخار چوہدری ہوں کہ جاوید ہاشمی ‘ ایک ایک کرکے اپنے کل کے ہیرؤوں کو وہ گالیاں دیتے رہے۔ کبھی سرکاری افسران کو للکارتے رہے ‘ کبھی ٹی وی ٹاک شوز میں اپنے چاہنے والوں سے تنقید کرنے والوں کے ساتھ بدتمیزیاں کرواتے رہے ‘ تو کبھی ٹی وی چینلوں کی عمارتوں پر پتھر برساتے رہے ۔ حاکم ابھی صرف ایک صوبے کے ہی بنے ہیں لیکن ایسے خدائی لہجے(نعوذباللہ) میں بات کرتے رہے کہ ہٹلر اور اسٹالن بھی شرما جائیں ۔ افتخار چوہدری کی آڑمیں انہوں نے عدلیہ کا مذاق اڑایا۔ جیو اور جنگ کی آڑ میں انہوں نے میڈیا کی تذلیل کی ۔ محمود خان اچکزئی کی آڑ میں پختونوں کی چادر کی توہین کی ۔

دوسری طرف جن لوگوں کے خلاف انہوں نے پچھلے تیرہ سال بول بول کر قوم کے کان پکے کر دئیےتھے‘ ان میں سے کسی کا بھی ذکر نہیں ہو رہا ۔ نہ پرویز مشرف کا ذکر ‘ نہ چوہدری شجاعت کے خلاف بات اور نہ الطاف حسین کو طعنے۔ سفاکی اور شقی القلبی کا جو مظاہرہ انہوں نے پچھلے تین ماہ کے دوران کیا‘ اس کا تصور شاید آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف بھی نہ کرسکیں ۔ وہ ایک ایسے اسکرپٹ کے مطابق عمل کے لئے تیار ہوئے جس میں کم ازکم دو سو انسانوں کی لاشیں گرانا لکھا تھا۔ خاکم بدہن یہ لاشیں شوکت یوسف زئی‘ عمر چیمہ یا علی محمد خان کی بھی ہوسکتی تھیں۔یہ لاشیں ان بچیوں اور مائوں کی بھی ہوسکتی تھیں جو ان کو مسیحا سمجھ رہی ہیں۔ پہلے ہی روز جلوس میں پنڈی کے قریب ایکسیڈنٹ کی وجہ سے دو کارکن جاں بحق ہوئے لیکن اسٹیج پر ان کے لئے فاتحہ خوانی ہوئی اور نہ کسی نے ان کا ذکر کیا۔ اتنی خود غرضی کہ اپنے گیم کی خاطر ان سے مشورہ کئے بغیر پارٹی ممبران قومی اسمبلی سے استعفے دلوا دیئے ۔ وہ بے چارے جو پہلی مرتبہ بائی چانس یہاں پہنچے تھے‘ اب اپنے حلقوں میں جا نے اور ووٹروں کو منہ دکھا نے کے قابل بھی نہ رہے ۔ ڈھٹائی کا یہ عالم کہ دھرنے کی تعریف بدل ڈالی اور شام کوچند سو لوگوں سے خطاب کو دھرنے کا نام دے رہے ہیں ۔ روزانہ دعویٰ کررہے ہوتے ہیں کہ جب تک نوازشریف استعفیٰ نہیں دیتا وہ یہاں سے نہیں اٹھیں گے (یعنی دھرنا ختم نہیں کریں گے ) لیکن پھر تقریر ختم کرتے ہی وہ اٹھ کر اپنے محل چلے جاتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ کینٹیر پر کھڑے رہنما ءکے پی کے ہائوس یا پھر کوہسار مارکیٹ چلے جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا تھا کہ سب سے آگے وہ ہوں گے لیکن وقت آنے پر قادری صاحب آگے تھے‘ پھر ان کی پارٹی کی خواتین تھیں اور اس کے بعد ان کا محفوظ کنٹینروزیراعظم ہائوس کی طرف جارہا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب تک نوازشریف استعفیٰ نہیں دیتے وہ یہاں سے نہیں اٹھیں گے لیکن اگلے دن دور دراز سے آئے ہوئے کارکنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر گھر چل دیئے۔ کوئی وعدہ پورا نہیں ‘ کوئی دعویٰ سچ ثابت کرکے دکھا نہ سکے ‘ کسی قسم کی اعلیٰ سیاسی اخلاقیات کا مظاہرہ نہ کرسکے ۔ ان کی شخصیت اور سیاست کے تضادات کھل کر سامنے آگئے۔ اہل نظر نے دیکھ لیا کہ وہ اپنی کرسی‘ اپنی شہرت ‘ اپنی انا اور اپنی ضد کی خاطر ہر حد تک جاسکتے ہیں ۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ جو شخص اپنے اہل خانہ کا وفادار نہیں ہوگا‘ دوستوں کا نہیں ہوسکتا ۔ جو دوستوں کا نہیں ہوگا ‘ محلے اور گائوں کا نہیں ہوسکتا۔ جو گائوں کا نہیں ہوگا ‘ اپنی قوم کا نہیں ہوسکتا اور جو اپنی قوم کاوفادار نہیں ہوتا‘ ملک کا وفادار نہیں ہوسکتا۔ جو مخلص ہوگا‘ ہر کسی کے ساتھ مخلص ہوگا‘ جو وفاشعار ہوگا ‘ ہر کسی کے معاملے میں ہوگا۔ کون نہیں جانتا کہ وہ اہل خانہ اور دوستوں کے کتنے وفادار رہے لیکن اس شخص کا کمال دیکھ لیجئے کہ انہوںنے آج بھی لاکھوں لوگوں کو اس مغالطے میں مبتلا رکھا ہے کہ اس ملک کے ساتھ کوئی مخلص ہے تو بس وہی ہے ۔ تبھی تو میں ان کی سیاست کا اب پوری طرح معترف ہوگیا ہوں۔ میں اس حقیقت کو پاگیا ہوں کہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے ’’اہل‘‘ بس وہی ہیں ۔ وہی لیڈر ہے کہ جو آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اگرمیک یاولی زندہ ہوتے تو پاکستان آ کر اس شخص کی جماعت کا ادنیٰ کارکن بننے کو ترجیح دیتے ۔ یہ اپنے مزاج میں میاں نواز شریف سے بڑھ کر ڈکٹیٹر ہیں لیکن انہوں نے اپنے آپ کو جمہوریت کا بڑا چیمپئن باور کرادیا ہے ۔ یہ اپنے پارٹی عہدے منصفانہ بنیادوں پر نہیں دے سکتے لیکن لاکھوں لوگ انہیں انصاف کا علمبردار سمجھتے ہیں ۔ وہ ا سکرپٹ کے مطابق چلتے اور ہر وقت میچ فکسنگ کرتے رہتے ہیں لیکن میچ فکسنگ کے طعنے دوسروں کو دیتے رہتے ہیں ۔ اپنی دہشت اور تادیبی کارروائیوں سے انہوں نے پارٹی عہدیداروں اور ترجمانوں کو غلام بنا رکھا ہے اور کوئی ان کی مرضی کے خلاف زبان نہیں کھول سکتا لیکن دعویٰ ان کا یہ ہے کہ وہ قوم کو زبان دے رہے ہیں۔ وہ اپنی جماعت کے فنڈ کا حساب دینے کے روادار نہیں لیکن دعویدار ہیں کہ قوم کی لوٹی ہوئی رقم کا حساب لیں گے ۔ وہ ہر وقت پاکستان کی مقتدر قوتوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور کسی ایسی طاقت سے پنجہ آزمائی نہیں کرتے جو مارنے کے لئے مشہور ہو لیکن دوسروں کو بزدلی کے طعنے دے کر انہوں نے اپنے آپ کو انتہائی بہادر مشہور کر رکھا ہے ۔ علیٰ ہذہ القیاس۔ اب ایسا شخص ‘ ایسے کارناموں کے بعد بھی پاکستانی نوجوانوں میں مقبول ہو اوریہ نوجوان ان کی خاطر دوسروں کی عزتیں اچھالنے اور ان کو گالیاں تک دینے پر تیار ہوں تو یہ شخص باکمال ہے کہ نہیں؟ ہم میں سے کون ہے جس کو اس شخص نے باری باری بے وقوف نہیں بنایاہو۔ کچھ تو سمجھ گئے لیکن لاکھوں آج بھی ان کومسیحا سمجھتے ہیں ۔ یقین جانیں آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔ تبھی تو اب ہم مطالبہ کرنے پر مجبور ہیں کہ نوازشریف صاحب مستعفی ہوکر اپنی کرسی ان کے سپرد کردیں تاکہ ان کو سکون آجائے اور یہ ہم جیسوں کو سکون سے جینے دیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.