آرمی چیف کا دورۂ امریکہ اور امریکی ترجیحات

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

گو کہ امریکی وزیر دفاع چک ہیگل، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لائڈ آسٹن اور امریکی سی آئی کے سربراہ جان برینن پاکستان کے اعلانیہ اور خاموش دورے کرکے پاک آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں اور مذاکرات بھی کرچکے ہیں مگر اس کے باوجود آئندہ ہفتے میں جنرل راحیل شریف اور ان کے معاونین کا دورۂ امریکہ عملی اعتبار سے بہت اہم یوں ہے کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں حالات اور زمینی حقائق تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں جو کچھ اعلانیہ ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی اور خاموشی سے خفیہ طور پر سرگرمیاں اور منصوبے عمل پذیر ہیں۔ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء 2014ء کے بعد کی صورتحال، افغانستان میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اور انڈین فوج کا موجودہ اعلانیہ اور خفیہ رول۔ پاکستانی فوج کے پاک۔ افغان سرحد کے قریب موجود دہشت گردوں کے خلاف ملٹری آپریشن سے بچ کر فرار ہونے والے دہشت گردوں اور القاعدہ وغیرہ کے اراکین کو افغانستان میں پناہ دیکر انہیں پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور دیگر سازشوں میں تعاون، بھارت کو علاقے کی برتر علاقائی طاقت بننے میں امریکی تعاون، کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر بھارت کی اشتعال انگیزیاں، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی فوج کی مسلسل جنگ اور قربانیاں اور امریکی کوالیشن فنڈ سے جنگ کے اخراجات کی ادائیگی جیسے دو طرفہ پاک۔ امریکی مسائل پر ایک دوسرے کے موقف اور مفادات کو دیکھنے کیلئے بھی یہ ملاقات ہو گی۔

2010ء کے بعد سلالہ اور ایبٹ آباد کے واقعات نے پاک۔ امریکہ تعلقات میں جو تاریخی تلخی اور کشیدگی پیدا کی تھی۔ اس کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ کا یہ پہلا دورہ ہوگا اور یہ دورہ پاکستان کی سلامتی کیلئے جانیں قربان کرنے والے فوجی خاندان کے فرد جنرل راحیل کی حب الوطنی، قائدانہ صلاحیتوں اور عسکری مہارت کی ایک بڑی آزمائش بھی ہے۔ گو پنٹاگون بشمول امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ اور پاکستانی جی ایچ کیو دونوں ہی ابھی تک اس اہم دورے کی تفصیلات اور توقعات کے بارے میں کچھ زیادہ بتانے سے گریزاں ہیں لیکن ذرائع زمینی حقائق اور بیک گرائونڈ میں جن امور کی نشاندہی کررہے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں۔

-1 امریکہ چاہتا ہے کہ امریکی فوجی انخلاء کے بعد پاکستان افغانستان کے استحکام کیلئے رول ادا کرے۔ پاک۔ افغان سرحد پر سخت نگرانی کیلئے مزید فوج تعینات کرے اور پاکستان سے افغانستان میں جانے والے دہشت گردوں کا قلع قمع کرے۔ 2۔3 اکتوبر کو پنٹاگون کی افغانستان کے حوالے سے جاری کردہ امریکی رپورٹ میں پاکستان پر الزامات لگائے ہیں کہ وہ افغانستان اور بھارت کے خلاف ’’کراس بارڈر‘‘ دہشت گردی کرنے والوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ دراصل جنرل راحیل شریف کے دورہ سے چند روز قبل پاکستان کی دس سال کی قربانیوں کو مکمل نظرانداز کرکے یہ الزامات لگانے کا مقصد پاکستان کے فوجی سربراہ اور معاونین پر دبائو میں اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ صرف اپنی صفائی اور دفاع میں مصروف رہیں اور اپنے مطالبات کو پیش نہ کر سکیں۔

3- دہشت گردی کے خلاف امریکہ نے جنگ کے اخراجات اپنے اتحادیوں بشمول پاکستان کیلئے جو کوالیشن فنڈ قائم کیا تھا وہ نظام ختم ہونے والا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کا بڑا حصہ امریکہ ریفنڈ کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں امریکی فوجی انخلاء کے ساتھ ہی جنگ ختم ہو گئی تو کوالیشن فنڈ بھی ساتھ ہی ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کیسے ادا ہوں گے؟ دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اس بارے میں اپنا کیا موقف کیا نظام تجویز کرتا ہے

4۔ مڈٹرم انتخابات نے امریکی سیاسی نظام میں ایک تبدیلی پیدا کی ہے۔ مقبولیت میں کمی نے صدر اوباما کو سیاسی طور پرخاصا کمزور کر دیا ہے۔ اب امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت سے بھی بہت سے امورکی منظوری درکار ہوگی جو ڈیموکریٹ صدر اوباما کے لیے آسان نہیں ہوگی۔ اس تناظر میں پنٹاگون پاک۔ امریکہ مذاکرات میں کسی مالی یا فوجی تعاون کے وعدے سے قبل ری پبلکن کانگریس کی مخالفت اور نامنظوری کو پیش نظر رکھنا ہوگا

5۔امریکہ افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کو بڑھانا اور پاکستان کو اس عمل کی حمایت کرنے کا خواہش مند ہے جبکہ پاکستانی قیادت اس امریکی حکمت عملی کو پاکستانی مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔ امریکہ نے ماضی میں بھی یہ حکمت عملی اختیار کی تھی کہ پاکستان مشرق میں پاک۔ بھارت سرحدوں پر فوج متعین کرنے کی بجائے پاک افغان سرحد پر فوج کو تعینات کرے اور مشرقی سرحدوں پر بھارت کی فکر نہ کرے۔ پاکستان کی ڈیڑھ لاکھ سے زائد فوج پاک۔ افغان بارڈر کے علاقوں میں دہشت گردی اور سیکورٹی کے کام میں مصروف ہے۔ حالیہ پاک۔ بھارت کشیدگی اور بھارت میں نریندر مودی حکومت کے دھمکی آمیز بیانات نے پاکستانی موقف اور پاک بھارت سرحدوں پر زیادہ توجہ کی پالیسی کو درست ثابت کر دیا ہے۔

ان مذاکرات میں پاکستانی مطالبات اور توقعات کا خاکہ کچھ یوں نظر آتا ہے۔ امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی اور امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ جنرل مائیکل ہیڈن نے میرے ساتھ خصوصی انٹرویو میں بھی آن ریکارڈ یوں کہا تھا کہ انہیں یہ توقع ہی نہیں تھی کہ پاکستان شمالی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی فوجی آپریشن کبھی کرے گا لیکن ضرب عضب کے آپریشن نے مجھے غلط ثابت کردیا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ملٹری آپریشنز کر کے امریکیوں کو حیران اور خوش کر دیا ہے جبکہ پاکستانی عوام اور جنرل راحیل شریف نے پاکستانی فوج کو صرف روایتی جنگ کی سوچ اور حکمت عملی کی بجائے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیار کرلیا ہے کیونکہ خطے میں خطرناک حالات دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت کے متقاضی ہیں۔ یہ انداز پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ ضرورت ہے۔

دہشت گردی کے انسداد کے بارے میں امریکی جنرل راحیل شریف کی سوچ سے مطمئن اور متفق دکھائی دیتے ہیں مگر دقت یہ ہے کہ امریکہ کا حمایت یافتہ اور اس کا علاقائی پارٹنر بھارت کشمیر میں کنٹرول لائن اور دیگر حوالوں سے پاک۔ بھارت کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اس کی وجہ سے پاکستان مغربی پاک۔ افغان علاقوں پر فوجی نگرانی اور دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کیسے کرسکتا ہے؟ افغان سیکورٹی فورسز کی ٹریننگ انگریزی سکھانے اور دیگر امور کے لیے بھارتی انسٹرکٹرز اور دیگر روپ میں بھارتی ’’را‘‘ ایجنسی اور انڈین آرمی کے عہدیدار، بھارتی ایس ایس جی گروپ کے کمانڈوز افغانستان میں متعین ہیں جو افغانستان میں بھارتی اثر و نفوذ بڑھانے کے علاوہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور دیگر پاکستان مخالف سازشوں میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ ادھر عملاً افغانستان بارڈر پاکستان سے فرار ہونے والوں کے لئے بالکل کھلا ہے۔ متعدد بار پاکستانی علاقوں میں فوجی آپریشن سے فرار ہوکر دہشت گرد کابل اور جلال آباد میں نظر آتے ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی کر کے افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کو اپنے علاقوں میں پناہ نہ دے۔ ایران سے امریکہ کے تعلقات میں بہتری اور ایران سے داعش کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے امریکی صدر اوباما کا خفیہ خط بھی منظر عام پر آگیا ہے۔

لہٰذا خطے میں ایران کا نیا رول بھی پاکستان کے لیے ایک اہم معاملہ ہے جس پر امریکی فوجی قائدین سے مذاکرات ہوں گے۔ پاکستانی طالبان اور دہشت گردی کے خلاف ڈرونز کے امریکی حملے اور استعمال کے بارے پاکستان۔ امریکہ تعاون کی بات ہوگی۔ افغانستان کی نئی قیادت یعنی اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے جنرل راحیل شریف کی ملاقات اور دورۂ افغانستان بھی امریکی ایما سے ہوا ہے اور یہ بھی پاک۔ امریکہ فوجی مذاکرات میں زیر بحث آئے گا۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعض اخراجات امریکہ ایک کولیشن فنڈ کے ذریعے ادا کرتا ہے۔ اس مد میں پاکستان کو کئی کئی سو ملین ڈالرز کی رقوم ادا کرتا ہے۔ افغانستان سے فوجی انخلاء کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم اور فنڈ ختم کی آوازیں آرہی ہیں۔ آئندہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مالی اور جنگی ضروریات کیسے پوری کرے گا؟ پاکستان کی فوجی سازوسامان کی ضروریات کی فہرست کیا ہے اور یہ امریکہ پوری کرے گا یا نہیں؟ مختصر یہ کہ دہشت گردوں کے خلاف افغانستان کی ذمہ داریاں اور پاکستانی مطالبات، مشرقی سرحدوں پر پاک۔ بھارت کشیدگی کا دبائو ختم کرنے اور پاکستان کو فوجی سازومان کی ضرورت اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں صورتحال کے حوالے سے پاکستانی مطالبات اور موقف پیش ہوگا جبکہ امریکی مطالبات میں مذکورہ بالا امور پر بات ہوگی۔ پنٹاگان کی حالیہ رپورٹ میں دہشت گردی کے پاکستان پر الزامات، امریکی کی سابق عہدیدار اور پاکستان کے موقف کی حمایت کرنے والی خاتون رابن رافیل کے خلاف تحقیقات کے اقدامات نے کوئی خوشگوار تاثر نہیں پیدا کیا۔ امریکہ اس وقت بھارت کو ناراض کرنے کی حکمت عملی نہیں رکھتا۔ امریکی نظام میں بھارتی نژاد امریکیوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے جو پاکستان کے خلاف اضافی حقیقت ہے۔ دیکھئے پاکستان آرمی چیف کا یہ دورہ پاک۔ امریکہ تعلقات کو کس سمت میں لے جاتا ہے ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں