اسرائیل سے دوستی کے بےقراری

مولانا اسرارالحق قاسمی
مولانا اسرارالحق قاسمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لیڈر مادھ سدا شیو گولوالکر نے جنگ عظیم دوم کے دوران ہٹلر کی علی الاعلان ستائش کی تھی۔ ہیڈ گوار کے بعد آر ایس ایس کے سربراہ بننے والے گولوالکر ہٹلر کی نسلی تطہیر کی پالیسی سے بے حد متاثر تھے اور ہندوستان میں اسی پالیسی پر عمل کرنا چاہتے تھے۔ آر ایس ایس لیڈروں نے بشمول ساورکر اسرائیل کی صہیونی ریاست کی حمایت کی تھی۔ ساور کرنے اسرائیل کے قیام کے دوران ہی اسکی حمایت کی تھی جبکہ گولوالکر یہودیوں کے اس عمل سے بے حد متاثر تھے کہ انہوں نے اپنے مذہب، ثقافت اور زبان کو برقرار رکھا تھا۔

اس پس منظر میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے زیر قیادت ملک کی موجودہ مرکزی حکومت کی اسرائیل سے زیادہ سے زیادہ قربت پیدا کرنے کی عجلت اور بے قراری پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے، جب سے مودی اینڈ کمپنی برسر اقتدار آئی ہے۔ اسرائیل سے تعلقات کو مضبوط و مستحکم کرنے کی لگاتار کوششیں ہو رہی ہیں۔ ششما سوراج کا وزیر خارجہ مقرر کیا جانا بھی اسرائیل کے لیے ایک خوش کن احساس سے کم نہیں تھا کیونکہ وہ 2006ء سے 2009ء تک ہندو اسرائیل پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کی چیر پرسن کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ اس حیثیت سے انہوں نے 2008ء میں اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا اور 1994ء میں پاکستان کے ساتھ ہندوستان کی کارگل جنگ میں ایک بھروسہ مند پارٹنر کے طور پر ثابت قدم رہنے کے لیے اسرائیل کی تعریف بھی کی تھی۔ اس سال جون اور جولائی میں جب اسرائیل غزہ کے لوگوں پر وحشیانہ بمباری کر کے معصوم بچوں، عورتوں اور ضعیفوں کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا اور پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستانی عوام بھی اس کی مذمت کر رہے تھے اور مودی حکومت سے اسرائیل کی سفاکانہ حرکتوں کی پارلیمنٹ میں مذمت کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے تو مودی حکومت نے اس سے صریحا انکار کر کے اسرائیل سے دوستی نبھانے کا بھرپور ثبوت دیا تھا۔

ہندوستان میں آزادی کے بعد سے اب تک زیادہ تر کانگریس نے حکومت کی ہے۔ بابئے قوم مہاتما گاندھی شروع سے عرب خطے میں صہیونی ریاست کے قیام کے مخالف تھے ۔ انہوں نے 1938ء میں ہی لکھا تھا کہ ’’سرزمینِ عرب پر صہیونیوں کو مسلط کرنا غلط اور غیر انسانی ہے‘‘، کانگریس حکومت اسی اصولی موقف پر تادیر قائم رہی اور فلسطینیوں سے اسکی ہمدردی لگاتار جاری رہی ۔ اسرائیل سے ہندوستان کے سفارتی رشتے 1992ء تک قائم نہیں ہوئے۔ اٹل بہادی باجپئی جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کو تین دن کے سرکاری دورے پر نئی دہلی بلایا تھا۔ لیکن شیرون اس وقت اسرائیل کے داخلی حالات کی وجہ سے اس دورے کو چھوڑ کر بیچ میں ہی چلے گئے تھے۔ اس سال پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد جب مرکز میں نریندر مودی کے زیر قیادت حکومت قائم ہوئی تو توقعات کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کوششیں شروع ہو گئیں۔

2001ء میں مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اسرائیل کا دورہ کر چکے تھے اور انہیں اچھی طرح احساس تھا کہ آر ایس ایس اور صہیونیت میں نہ صرف نظریاتی یکسانیت ہے بلکہ اسرائیل ان کی اقتصادی کامیابی کو بھی بنظرِ تحسین دیکھتا ہے کیونکہ انکے گجرات کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے اسرائیل سے تجارتی رشتے تو مضبوط ہوئے ہی، ساتھ ہی شمسی توانائی ، واٹر منیجمینٹ اور ادویات سازی جیسے شعبوں میں اسرائیل کو گجرات می قدم جمانے کا موقع ملا اور اب جبکہ مودی اس ملک کے وزیر اعظم بن چکے ہیں، اسرائیل کے لیے دہشت گردی سمیت اعلیٰ ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، زراعت اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کے دروازے کھل گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال ستمبر مٰں وزیر اعظم مودی جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک پہنچے تو وہاں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے انکی ملاقات پر تل ابیب میں خوب شادیانے بجائے گئے۔ نتن یاہو نے وزیر اعظم سے کہا کہ اسرائیل اور ہندوستان کے رشتے لا محدود ہیں۔ اس بیان کو اسرائیلی میڈیا نے شہ سرخیوں میں جگہ دی تھی اور لکھا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے بشمول دیگر موضوعات کے ایرانی اور اسلامی دہشت گردی پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی لکھا تھا کہ ہندوستان اسلامی دہشت گردی سے گزشتہ کئی برسوں سے بری طرح متاثر رہا ہے۔

دونوں ملکوں کو ہی اپنے اپنے طور پر تعلقات کو وسعت دینے کی اس قدر عجلت اور بے قراری ہے کہ گزشتہ ہفتہ جب دہلی میں وزیر اعظم مودی اور اسرائیل کے سابق صدر شمعون پیریز انسدادِ دہشت گردی ، بنیادی ڈھانچے، پانی، زراعت، صحت اور سائنس و ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ تو تل ابیب میں دزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے استقبال کے لیے سرخ قالین بچھائے جا رہے تھے، بتایا جاتا ہے کہ وزیرِ داخلہ کو اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے ساتھ اسرائیلی صدر اور وزیرِ دفاع سے بھی شرف باریابی کا کامیاب موقع میسر آیا کیونکہ اسرائیل اپنے صدر اور وزیر دفاع سے ملاقات کا موقع صرف انتہائی قریبی دوست یا اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل ملکوں کے رہنماؤں کو ہی دیتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل ایک ترقی یافتہ ملک ہے، ہندوستان سے سائز اور وسائل میں کمتر ہونے کے باوجود دفاع صحت اور زراعت جیسے شعبوں میں اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اسکی حصولیا بیاں ہندوستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ آر ایس ایس اور صہیونی نظریات میں بہت حد تک یکسانیت بھی ہے اور جیسا کہ اس مضمون کی ابتدا میں کہا گیا ہے آر ایس ایس کے لیڈران اسرائیل کی مسلم مخالف پالیسیوں اور نسلی تطہیر پر گامزن رہنے کی اس کی حکمتِ عملیوں کی وجہ سے اس کے مداح رہے ہیں، لیکن مودی کو سوچنا چاہیے کہ وہ بطور وزیر اعظم آر ایس ایس کے نظریات پر کار بند رہنے کے ذمے دار نہیں بلکہ ملک کے سیکولر کردار کو برقرار رکھنے کے پابند ہیں۔

پورا یورپ اسرائیل کا حلیف تھا لیکن آج حقائق اسکے برعکس ہیں۔ اسرائیل نے اپنے وجود سے لے کر آج تک اپنی جو امیج بنائی ہے وہ انتہائی خوفناک ہے۔ اس کی شناخت ایک جارح اور غاصب ملک کی ہے جو نہتے فلسطینیوں کو خاک و خون میں ملا کر فخر کا احساس کرتا ہے، شیر خوار بچوں کو وحشیانہ بمباری کر کے ہلاک کر دینے کی حرکت پر شرمسار نہیں ہوتا بلکہ اپنے لیے اسے باعثِ عزت و افتخار سمجھتا ہے۔ غزہ کو محصور کر کے وہاں کے لوگوں پر بھوک بیماری مسلط کر کے خوش ہوتا ہے۔ اقوامِ عالم اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کی دھجیاں اڑا کر داد گیری کرتا ہے۔ اس سال جب اس نے غزہ پر بمباری کی، راکٹ برسائے جس کے نتیجے میں ہزار ہا لوگ لوگ بشمول بچے ہلاک ہوئے اور اس سفاکانہ حرکت اور اسکے بھیانک اور روح فرسا انجام کو دیکھا تو پوری دنیا چیخ اٹھی اور اسی کے حلیف یورپ اور وہاں کی وعام تو تقریبا ہسٹریائی انداز میں چیخ چیخ کر اسرائیل کو سفاک اور ظالم قرار دینے لگے، لیکن اسرائیل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ دنیا نے محسوس کر لیا ہے کہ ایک سفاک اور معصوموں کے قاتل ملک کو وہ مزید حمایت نہیں دے سکتے۔

چنانچہ دھرے چھیرے وہ اسرائیل مخالف ہوتے گئے اور اسرائیل سے اپنے اقتصادی رشتوں کو محدود کرنے لگے۔ ان حالات میں ہندوستان کا اسرائیل سے مختلف شعبوں میں تعاون کا طلب گاور ہونا تل ابیب کے لیے ایک نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہ ہے۔

مودی ایک ایسے ملک کے وزیر اعظم ہیں جو عدم تشدد کے لیے جانا جاتا ہے۔ ایک جارح اور سفاک ملک کے ساتھ اسکی دوستی مودی حکومت کے ساتھ ہندوستان کی امیج کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ہمیں اسرائیل سے دوستی کی پینگھیں بڑھانے میں عجلت اور بے قراری کے بجائے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’راشٹریہ سحارا‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں