خوشی کا نسخہ

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

خوشی سے، بلکہ یوں کہیں کہ آج کل پاکستان… ایک ایسا پاکستان جو ذرہ برابر تبدیلی کا روادار نہیں… میں معقول زندگی بسر کرنے کے نسخے پیش خدمت ہیں۔ ہم میںسے اکثرکو رفتہ رفتہ یہ احساس ہوتا جا رہا ہے کہ ملک کو اوورہالنگ درکار ہے، تاہم سوال یہ کہ ایسی کلاکاری دکھائے گا کون؟ جس دوران تبدیلی اور انقلاب کے خواب دیکھتے ہوئے حقائق آشنا ہوتے جا رہے ہیں، ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں سکون وراحت کا کوئی سامان بھی کریں۔

آج کے پاکستان میں کسی قسم کا اسلحہ، جیسا کہ پستول یا رائفل، چلانے کی مہارت انتہائی ضروری ہے۔ آپ کے بچوں اور جو افراد آپ پر انحصار کرتے ہیںجیسا کہ خواتین، کو ہتھیار چلانے کی تربیت ہونی چاہئے۔ آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کو ناگہانی حالات کا سامنا کرنا ، جیسا کہ فائرنگ کے وقت مناسب جگہ کا کور لینا، زمین پر درست پوزیشن میں لیٹ کر اپنا تحفظ کرنا اور صورت ِحال کا جائزہ لینا آنا چاہئے۔ آپ کو اپنے ہتھیار کو صاف کرنے کی بھی تربیت ہونی چاہئے۔ تاہم ہتھیار سے مراد کلاشنکوف نہیں، یہ ایک سادہ سا بائیس بور کر پستول بھی ہو سکتا ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ اسے استعمال کرنے کے طریقے سے واقف ہوں۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں یہ ایک قابل ِ قدر روایت ہے کہ وہ فصل کی کٹائی کے موسم میں سال بھر کی گندم ذخیرہ کرلیتے ہیں۔ شہری علاقوں میں رہنے والوں، خاص طور پر وہ افراد جن کا خاندانی طور پر زراعت سے کوئی تعلق نہیں ، کو بھی اس روایت کی پیروی کرنے کا تجربہ کرنا چاہئے۔ جو آٹا وہ بازار سے خریدتے ہیں اُس کا معیاروہ خود ہی جانتے ہیں کہ جب روٹی ذرا ٹھنڈی ہوجائے اور اُسے توڑنے لگیں تو نوالہ، بقول غالب… ’’کھینچتا ہے جس قدر اُتنا ہی کھنچتا جائے ہے‘‘۔ اسے چبانا دشوار اور یہ مرحلہ طے پانے کے بعد ذائقہ ندارد۔

چنانچہ یارانِ نکتہ داں کے لیے صلائے عام ہے کہ اس مرتبہ گندم کی کٹائی کے موسم میں سال بھر کی گندم خریدیں اور پھر اسے چکّی (آٹا پیسنے کی مشین) پر خود پسوائیں اور پروٹین سے بھرپور گندم کا مزہ لیں۔ شہروںکی بلاروک ٹوک وسعت پذیری اور اس سے پھیلنے والی خرابیوں کے باوجود شہروں اور قصبوں میں آٹا پیسنے والی چکیاں مل جاتی ہیں۔

تمباکو نوشی سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ اس پر پابندی کے لیے قانونی اور مذہبی پہلوئوں کو اجاگر کیا جانا چاہئے کہ یہ ایک برائی ہے اور گھر کے ہر سربراہ کو چاہئے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو اس سے باز رکھے۔ کون کہتا ہے کہ سگریٹ نوشی راحت رساں ہے؟ یہ انتہائی مضرِ صحت ہے۔ قانون یا عقیدے کی کس شق کے تحت ہم نے کثیر مقدار میں گوشت خوری خود پر واجب کر رکھی ہے؟

اگر چکن کو فارمز میں پلتا دیکھ لیں تو ہر کوئی زندگی بھر کے لئے سبزی خور بن جائے۔ ناگوار تفصیل میں جانے کی معذرت لیکن چکن کی فیڈ جانوروں کی چربی، افواہ ہے کہ آوارہ کتوں کی دموں سے بنائی جاتی ہے۔ بہت سے ایسے ریستوران ہیں جہاں چکن کی مصنوعات کے علاوہ کوئی بھی ڈش دستیاب نہیں ہوتی۔ جہاں تک مٹن یا بیف کا تعلق ہے تو آپ ہر گز نہیں جانتے کہ جس جانور کا گوشت آپ قصاب سے خرید رہے ہیں اُس میں تادم ِ تکبیر زندگی کی کچھ رمق پائی بھی جاتی تھی یا نہیں۔ مذبح خانوں میں بیمار اور قریب المرگ جانوروں کو ذبح کرنا غیر معمولی بات نہیں۔

ہم نے ملاوٹ کے فن کو اپنایاہی نہیں، اسے ترقی دے کر اوج ِ کما ل تک بھی پہنچا دیا ہے۔مائع خوراک تو ایک طرف، گوشت میں پانی داخل کرکے اسے بھاری بناکر فروخت کیا جاتا ہے۔ ہم ان باتوں کو جانتے ہوئے بھی گوشت سے ہاتھ کھینچنے کے لیے تیار نہیں۔ پینے کے لیے اُبلا ہوا یا فلٹر کیا ہوا پانی ضروری ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم اسلام آباد میں بھی نل کا پانی پیتے تھے لیکن پھر اس میں سیوریج کا پانی شامل ہونا شروع ہوگیا تو اس روایت کا خاتمہ ہوا۔ پھر ہم منرل واٹر کے دور میں داخل ہو گئے۔ شنید ہے کہ یہ زیر ِ زمین آبی ذخائر سے آتا ہے ۔چنانچہ اس کی وجہ واٹر ٹیبل نیچے جارہا ہے۔ یہ پانی ہمیں پلاسٹک کی بوتلوں، جو زمینی آلودگی میں اضافہ کرتی ہیں، میں بھر کر فراہم کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں ریگولیٹری باڈیز کے کچھ آفاقی فرائض ہوں تو ہوں، زمینی معاملات سے انہیں کوئی سروکار نہیں، چنانچہ نہیں کہہ سکتے کہ جس پانی کو ہم نوش جاں کر رہے ہیںاُس میں کتنے نادیدہ جاندار موجود ہیں یا یہ کتنے نقصان دہ مرکبات کا مرقع ہے۔ پانی ابالنے کے علاوہ ہم چینیوں کی پیروی کرتے ہوئے گرم پانی پی سکتے تھے۔ میں ہمیشہ گرم پانی پیتا ہوں، چنانچہ میں جون میں بھی اپنے پاس تھرموس میں گرم پانی ساتھ رکھتا ہوں۔ یہ مجھے گلے کے انفیکشن سے محفوظ رکھتا ہے۔ کوئی ذی فہم شخص کولا مشروبات (میں ان کا نام نہیں لیتا) گھر میں نہیں رکھتا۔ اگر کوئی مثالی ریاست ہوتو اُس میں دو چیزوں کی تشہیر پر پابندی ہونی چاہئے… ایک یہ گیس زدہ مشروبات اوردوسرے موبائل فون کمپنیاں۔ موجودہ دور میں انسانی پاگل پن کی ایک بڑی وجہ ہیجان خیز اشتہار بازی ہے۔

پاکستان میں پائی جانے والی عدم مساوات دیہات میں نشاط ِ قلب کے سامان کی قلت کی صورت بھی عیاں ہے۔ بڑے شہروں ، جیسا کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تو ایک فون کال پر ولایتی مال حاضر لیکن دیہات اور چھوٹے قصبے، جہاں زیادہ تر پاکستانی رہتے ہیں، کو حلق تر کرنے کے لیے معیاری مشروب دستیاب نہیں۔ یہ درست ہے کہ کرسچن برادری مشکل وقت میں کام آتی رہتی ہے۔ پابندی نے پاکستانی قوم کی طلب کو ماند نہیں کیا بلکہ انسانی فطرت کے مطابق کہ ہر شجر ِ ممنوعہ کا پھل زیادہ میٹھا اور مزیدار لگتا ہے،مزید بڑھا دیا ہے ۔پاکستان میں دستیاب ’’مال‘‘ بھی قصاب سے خریدے گئے گوشت کی طرح مشکوک کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ اس کے اجزاء اور سامان ِکشید کیسا تھا؟ چنانچہ ، جیسا کہ میں نے اسلحے کی ٹریننگ، گندم کی پسائی اور گرم پانی کے استعمال میں خود کفالت کا مشورہ دیا ہے تو لگے ہاتھوں کشید کرنا بھی سیکھ لیں تاکہ سب جھنجھٹ دور ہوں اور آرام سے زندگی بسر ہوجائے۔ گھر کی بنی ہوئی’’چیز ‘‘ کے کیا کہنے!میں یہ بات سنجیدگی سے کہہ رہاہوںکیونکہ ہمارے ہاں ملاوٹ کا رجحان اس قدر ہے کہ کسی چیز کا خالص ملنا محال ہے۔ادرک کچن میں استعمال ہونے والی عام چیز ہے لیکن اُسے بھی پرکشش رنگ اور شکل میںلانے کے لیے تیزاب ملے پانی سے دھویا جاتا ہے۔ اور تو اور، اذان بھی خالص سنائی نہیں دیتی ۔ اس میں کچھ مسالک اپنے عقیدے کے مطابق کچھ کلمات شروع میں اور کچھ آخر میں ملادیتے ہیں۔ حضرت بلال ؓ صرف اذان دیا کرتے تھے ،لیکن ہم اس کے دامن کو پھیلاتے ہوئے اس میں موجود روحانی جذب کی کیفیت کو کم کرتے جارہے ہیں۔

گھر میں بنی ہوئی اشیا میں کم از کم خالص پن تو ہوگا۔ میں یہ باتیں ڈرتے ڈرتے کررہاہوں کیونکہ عقائد ونظریات کے محافظوں کی جبین شکن آلود ہو جائے گی۔ جیسی کہانیاں بھارتی میگزین Outlook اور India Today میں شائع ہوتی ہیں، ہم ایسی کہانیوں کی اشاعت کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ آپ کوشش کر کے دیکھیں اور پھر اُس میگزین کا حشر دیکھیں۔ تاہم ہمارے ہاں سات پردوں کے پیچھے کون سافعل ہے جو نہیں ہوتا، لیکن عوامی طور پر کسی کے منہ سے ایک لفظ نکل جائے تو ہماری اخلاقیات کا شیش محل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں انتہائی مضر مشروب پئے جاتے ہیں اور اُس سے ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں لیکن کسی ڈھنگ کی چیز کی سپلائی کی بات کریں تو پھر اپنا انجام یاد رکھیں۔ ہمارے ہاں مے نوشی اور مے خانہ صرف اردو شاعری میں ہی پایا جاتا ہے۔ اب تو علامتی ذکر بھی خطرے میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔

اگر آپ تفریح کے لیے کبھی اسلام آباد کی پہاڑیوں کی طرف آنکلنے کا ارادہ رکھتے تھے تو گزارش ہے کہ اب اس میں ترمیم کرلیں۔ اب یہاں سڑکیں ہی سڑکیں بننے کو ہیں۔ اب کہہ سکتے ہیں کہ میٹرو بس کی تعمیر تعطل کا شکا رہے لیکن اس نے ضرور مکمل ہونا اور اسلام آباد کی بدصورتی میں اضافہ کرنا ہے۔ جنرل مشرف کے بہت سے گناہ تھے لیکن شاید سب سے سنگین شوکت عزیر جیسے ماہرِ معاشیات کے ہاتھ قوم کی زمام ِ اختیار پکڑانا۔ اُس نے آتے ہی ملک کو گاڑیوں سے بھر دیا۔ اب حال یہ ہے کہ ملک کی کسی بھی سڑک پر تل دھرنے کو جگہ نہیں۔جنرل صاحب کی ترقی کی علامات یہی تھیں ۔۔۔ گاڑیاں، موٹر سائیکل اور موبائل فون۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ پر ، ابھی تو ہم نے شیطان ِ اکبر، شاپنگ بیگ پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size