.

امت مسلمہ کی حالت اور ہماری بے حسی

نصرت جاوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے پہلے اور اس کے بعد کے برسوں میں سیاسی معاملات پر لکھنے والوں کی تحریریں جب بھی پڑھتا ہوں حیران ہو جاتا ہوں۔ اس زمانے میں دُنیا ابھی نام نہاد گلوبل ویلج نہیں بنی تھی۔ ایک دوسرے سے روابط خطوط کے ذریعے ہوا کرتے تھے اور اخباروں کو خبریں ٹیلی پرنٹر کے ذریعے پہنچا کرتی تھیں۔ ان تمام کمزوریوں کے باوجود اخبارات کے لیے لکھنے والے لوگ اپنے قارئین کو عالمی خبروں سے پوری طرح باخبر رکھتے تھے۔

آج ٹویٹر بھی ہے اور فیس بک بھی۔ ڈش انٹینا لگاؤ تو سیکڑوں چینل 24/7 خبریں مہیا کرتے نظر آتے ہیں مگر ناظرین اور قارئین کو مثال کے طور پر لیبیا کے تازہ ترین حالات کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ملیں گی۔ اس بے خبری کا تقابل اپنے شاعر مشرق کی اس نظم سے کیجیے جو انھوں نے طرابلس کی فاطمہ پر لکھی تھی اور انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجتماع میں موجود لوگ اسے سن کر زاروقطار رونا شروع ہوگئے تھے۔

آج کی نسل کے سامنے بلقان کا لفظ ادا کریں تو شاید ان میں سے ایک فی صد بھی اس کے جغرافیائی محل وقوع کو بیان نہ کرسکیں۔ ہمارے بزرگوں کو مگر مقامی اخبارات کی بدولت جنگ بلقان کی تفصیلات کا پورا علم ہوا کرتا تھا۔ کبھی کبھار تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 1990ء کی دہائی کے بعد سے ہم بتدریج کنوئیں کے مینڈک بن رہے ہیں۔ اپنے ہی ملک سے متعلق انتہائی محدود سوالات میں اُلجھ کر رہ گئے ہیں اور ان پر بحث کرتے ہوئے بھی زیادہ تر فروعی اور سطحی گفتگو سے بلند تر نہیں جا پاتے۔

یہ بات درست ہے کہ برطانیہ کی ایک لاڈلی نوآبادی ہوتے ہوئے ہمارے لوگوں کا ان تمام ملکوں اور خطوں سے براہِ راست تعلق بن جاتا ہے جہاں ہمارا سامراجی آقا اپنے مفادات کے حصول میں مصروف ہوا کرتا تھا۔ ہمارے روابط کا ایک بہت بڑا سبب پنجاب کی ’’مارشل ریس‘‘ سے متعلق فوجی حضرات بھی تھے جنہوں نے سامراجی جنگوں میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

میدان جنگ سے جو خطوط وہ اپنے پیاروں کو لکھا کرتے ان میں دی گئی معلومات سارے گاؤں تک فی الفور پہنچ جاتیں۔ مسلمانوں نے مشرق وسطیٰ اور ترکی کے حالات پر گہری نظر اس لیے بھی رکھی کہ وہ انگریزوں کے بھارت میں اقلیت ہوا کرتے تھے۔ افغانستان، ایران، عراق، مصر اور ترکی وغیرہ کے ساتھ گہرے اور جذباتی رشتوں کو برقرار رکھتے ہوئے وہ درحقیقت خود کو ایک وسیع تر ’’امہ‘‘ کا متحرک حصہ سمجھتے ہوئے نفسیاتی طاقت حاصل کیا کرتے۔ 1947ء میں برطانیہ سے آزاد ہوکر ہم ایک الگ اسلامی مملکت بن گئے تو شاید امہ والی وسیع تر اکائی سے جڑے رہنے کی وہ تڑپ برقرار نہ رہی۔

ہماری اپنی آبادی اب 20 کروڑ ہو چکی ہے۔ انسانوں کی اس بھاری تعداد کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے۔ وسائل ہمارے محدود ہیں اور ابھی تک معاشی ترقی اور استحکام کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کسی سیاسی جماعت یا رہ نما نے کوئی بیانیہ یا وژن بھرپور طریقے سے ہمارے دلوں میں جاگزین بھی نہیں کیا۔ اپنے فوری مسائل کے سیاپوں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ دوسروں کے معاملات پر غوروفکر ایسے حالات میں دانشورانہ عیاشی محسوس ہوتی ہے۔ ٹھوس حقیقت مگر یہ بھی ہے دنیا اب سکڑ کر رہ گئی ہے۔ عالمی حوالوں سے نظر آتے مسائل ایک نہ ایک دن ہمارے ہاں بھی ضرور پہنچیں گے۔

پانی کی قلت مثال کے طور پر ایسا ہی ایک مسئلہ ہے۔ ہم سے کہیں دور ایک ملک برازیل ہے وہاں کے سب سے بڑے شہر میں درختوں کی سفاکانہ کٹائی اور بارشوں کی مسلسل کمی پانی کو مسلسل نایاب بنا رہی ہے۔ برازیل تو بہت دور ہے۔ ہمارے ہمسایے میں ایک ملک ایران بھی ہے جس کا تاریخی شہر اصفہان ہے جسے ایک زمانے میں اس کی تہذیب کی بدولت نصف جہان بھی کہا جاتا تھا۔ پانی وہاں بھی نایاب ہوتا جا رہا ہے اور ایرانی حکومت میں ابھی تک یہ ہمت نہیں ہو پا رہی کہ وہ شہریوں کو فراہم کردہ پانی کی قیمت وصول کرنا شروع کردے اور اس کی بدولت انھیں اللہ کی اس نعمت کی اہمیت کا احساس دلائے۔

ایران اپنا تیل بیچ کر لوگوں کی روزمرہّ ضروریات کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھا کرتا تھا۔ امریکا اور سعودی عرب نے باہم مل کر اب مگر تیل کی قیمت کو ارزاں کردیا ہے۔ ایرانی حکومت کے لیے Subsidiesکے ذریعے اپنے شہریوں کو نسبتاً مطمئن رکھنا شاید زیادہ دنوں تک ممکن نہ رہے۔ شام کا تذکرہ ہم بس داعش وغیرہ کے حوالے سے بہت سنا کرتے ہیں۔ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ اس ملک میں ان دنوں خانہ جنگی کے حالات ان علاقوں میں شدید تر نظر آتے ہیں جہاں گزشتہ کئی برسوں کی قحط سالی نے لوگوں کو زرعی زندگی سے محروم کردیا ہے۔ پانی کا مسئلہ پاکستان میں بھی خطرناک صورت اختیار کرنا شروع ہوگیا ہے۔

اپنے میڈیا میں لیکن مجھے اس بنیادی مسئلہ کے بارے میں قطعی لاتعلقی نظر آتی ہے۔ کبھی کبھار ٹیلی وژن ٹاک شوز میں البتہ کچھ حضرات بڑی شدت سے صرف بھارت کی ’’آبی جارحیت‘‘ کو اس کا ذمے دار ٹھہراتے نظر آتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ کیوں ہوا۔ جب یہ معاہدہ ہوا تو اس وقت اس ملک کے فیصلہ ساز کون تھے ان سوالات کے بارے میں تفصیلی جوابات فراہم کرنے کی جرأت نہیں دکھائی جاتی۔

آج سے چند ماہ قبل ہمارے کچھ انٹرنیٹ مجاہدوں نے برما کے مسلمانوں کی حالتِ زار بیان کرنے میں بڑی شدت دکھائی۔ بعدازاں ہم اس مسئلے کو بھول بھال گئے۔ حقیقت اگرچہ یہ ہے کہ ان دنوں ان مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اور بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ بدھ انتہاء پسندوں نے ان مسلمانوں کے لیے تقریباً ویسے ہی حالات پیدا کر دیے جو ایک زمانے میں جنوبی افریقہ کے گورے نسل پرستوں نے مقامی افراد کے لیے پیدا کیے تھے۔ اس بدترین نسل پرستی کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے امریکی صدر مگر برما کے دورے پر جا رہا ہے۔ بھارت کے نریندر مودی بھی وہاں پہنچ چکے ہیں۔ برما کی جغرافیائی حیثیت ان دونوں کے لیے اہم ہے۔

چین کے مقابلے میں جاپان اور مشرقِ بعید کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر جو اقتصادی بلاک بنایا جا رہا ہے بھارت اس میں اہم کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے۔ امریکا ہو یا بھارت ان دونوں کو یاد ہی نہیں رہا کہ برما ابھی تک جمہوری ملک نہیں بنا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی مسلمانوں کے ساتھ تو اپنی انتہاؤں پر نظر آرہی ہے۔ ’’امہ‘‘ میں لیکن کوئی بھی ایسا رہ نما اور ملک نہیں جو ان معاملات کو اٹھائے۔

سارے امریکی پریس کو ہم یہودیوں کا زرخرید قرار دیا کرتے ہیں۔ سچ مگر یہ بھی ہے کہ صرف نیو یارک ٹائمز جیسے اخباروں نے برما کے مسلمانوں کے بارے میں مسلسل لکھا اور چند اداریوں کے ذریعے امریکی صدر کو مجبور کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی کہ وہ اپنے دورہ برما کے دوران وہاں کی حکومت کو مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے پر مجبور کرے۔ ہمارا ہمہ وقت مستعد ہونے کا دعوے دار میڈیا ایسے معاملات پر توجہ کیوں نہیں دیتا۔ اس سوال کا جواب میں تو ڈھونڈ نہیں پایا۔ بہتری اس میں ہے کہ سرخی پاؤڈر لگاکر کیمرے کے سامنے بیٹھا جائے اور یہ طے کرنے کی کوشش کہ عمران خان کا دھرنا اب کس طرف جا رہا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.