.

امراض خبیثہ و امریکہ

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اللہ تعالیٰ نے جہاں ہمارے لئے بے شمار نعمتیں پیدا کی ہیں، وہاں بہت سی بیماریاں بھی ہم لوگوں کی منتظر ہوتی ہیں بلکہ ہم میں سے کچھ لوگ خود ایک بیماری ہوتے ہیں، تاہم یہاںان کا مذکور نہیں، میں تو ان بیماریوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کے وسیلے سے ڈاکٹروں کے گھروں کا چولہا جلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میٹرک کے امتحان میں اول آنے والے ایک طالب علم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’’میں بڑا ہو کر مریض بنوں گااور ڈاکٹروں کی خدمت کروں گا۔‘‘ ان بیماریوں میں سے ایک فلو بھی ہے جسے میں نے ایک دفعہ ’’منی‘‘ بیماری قرار دیا تھا۔ اس کی لپیٹ میں آنے ولا بظاہر تندرست نظر آتا ہے مگر اس کے اعضائے رئیسہ بھی اس سے متاثر ہوئے ہوتے ہیں۔ فلو کے مریض کا دماغ بند ہو جاتا ہے اور اسے فائدے والی بات کے سوا کوئی بات نہیں سوجھتی ..... کانوں میں بھی صرف مطلب کی بات پڑتی ہے۔ فلو کا مریض اردگرد کے ماحول سے غافل بے سدھ سا پڑا رہتا ہے۔ بس کوئی اچھا چہرہ نظر آ جائے تو تجاہل عارفا نہ سے اس پر ایک نظر ڈال لیتا ہے۔

بیماریاںتو اور بھی بہت سی ہیں لیکن ان سب کا ایک ہی کالم میں ذکر قارئین کی صحت کے لئے اچھا نہیں چنانچہ میں اب صرف ’’چُک‘‘ کا ذکر کروںگا۔ مجھے علم نہیں اردو میں چُک کو کیا کہتے ہیں مگر یہ عجیب و غریب بیماری ہے۔ انسان کسی چیز کے حصول کے لئے جھکتا ہے اور بس انہی لمحوں میں سے کوئی ایک لمحہ ہے جب اسے چُک پڑتی ہے اور پھر وہ واپس سیدھا کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ کھڑا نہیں ہو پاتا۔ یہ چُک خواہشات کی چُک ہے جو انسان کو غیر انسان بنا دیتی ہے چنانچہ جب تک ’’چُک‘‘ نکل نہ جائےوہ کورنش بجا لانے کے آسن ہی میں دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ دنوں مجھےبھی ’’چُک‘‘ پڑ گئی تھی جس کے نتیجے میں، میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس مرض کا شمار ’’امراض خبیثہ‘‘ میں ہونا چاہئے!

اس مرض کا شمار امراض خبیثہ میں اس لئے بھی ہونا چاہئے کہ اس کا ’’شریفانہ‘‘ علاج کوئی نہیں۔ نہ دائیں مڑا جاتا ہے نہ بائیں مڑا جاتا ہے اور نہ سیدھا کھڑا ہوا جاتاہے لیکن ’’سیانے‘‘اس کا علاج یہ بتاتے ہیں کہ کوئی ہٹاکٹا آدمی کمر کے عین درد والے حصےپر کاری ضربیں لگائے مثلاً وہ مریض کوکمر پر لاد کر شدید قسم کے جھٹکے دے تاآنکہ کمر میں سے ’’چٹاخ‘‘ کی آواز آئے، اس سگنل کا مطلب یہ ہے کہ چُک نکل گئی ہے مگریہ آواز کس ظالم کو سنائی دے گی، یہ بیچاری تو مریض کی آہ و بکا میں دب کر رہ جائے گی۔ دوسرا نسخہ بھی کچھ اسی قسم کا ہےیعنی ماہرین ’’چُک‘‘ مریض کو کسی تختےپرالٹا’’بچھا‘‘ کر اس کی کمر پراچھلتے کودتے ہیں تاکہ ’’تخت یا تختہ‘‘ قسم کا کوئی فیصلہ ہو سکے۔ ایک علاج یہ بھی ہے کہ چُک نکالنے والا پہلوان مریض کو چند قدم چلنے کے لئے کہتا ہے۔ جس پر بیچارہ ’’کبڑا عاشق‘‘ تعمیل ارشاد میں چند قدم اٹھاتا ہے اور اس دوران پہلوان ہوری مریض کی بے خبری میں پیچھے سے اس کی کمر پر ایک زوردار لات رسید کرتے ہیں تاہم الحمد للہ مجھے ان میں کسی ایک طریق علاج کو بھی آزمانے کا موقع نہیں مل سکا۔ یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں جو غالباً مجھے Demoralise کرنے کے لئے مبالغہ آمیزی کے ساتھ بتائی گئی تھیں۔
اورشاید اسی دہشت ہی کا اثر تھا کہ میں نے’’چُک‘‘ نکلوانےکے لئے کسی پہلوان کے آگے زانوے تلمذ طے نہیں کیا بلکہ اس کی بجائے ایک حکیم صاحب کے پاس گیا۔ حکیم صاحب اس وقت ایک لاغر مریض کو ’’لبوب کبیرہ‘‘ دے رہے تھے۔ جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے ان سے حالِ دل کہا اور پوچھا کہ چُک کا کوئی علاج ہے؟ انہوں نےکہا کیوں نہیں۔ اور پھر اپنے شاگردوں کو آواز دےکر کہا ’’اوئے چھوٹے! ذرا دوڑ کر جائو اور بشیرے پہلوان کو بلائو۔‘‘

ان طریق ہائے علاج کے علاوہ اس دوران مجھے کچھ ٹونے ٹوٹکے بھی بتائے گئے مثلاً ایک یہ کہ جو بچہ الٹا پیدا ہوا ہو اس سے لتاڑا کروائو۔ ایک بہی خواہ نےبتایا کہ دوجڑواں بہنیں جو شادی شدہ ہوں اگر کسی چُک والے مریض کو لتاڑیں تو چُک فوراً نکل جاتی ہے۔ میں نے پوچھا اس کے لئے ان کے شادی شدہ ہونے والی شرط ضروری ہے؟ جس پر اس سخن ناشناس نے اثبات میں سر ہلایا۔ اسی طرح کے کچھ ٹونےاور بھی بتائے گئےمگر میں بوجوہ ان میں کسی پر صاد نہ کر سکا اور بالآخرصحت یابی ہوئی تو ایک سفید ریش معالج کے دست ِ شفا سے جنہوں نےلات ماری نہ گھونسے رسید کئے بس مختصر سا نسخہ لکھا اور میرے حوالے کر دیا۔ اللہ اللہ خیر صلّا!

اس مرض کو میں نے امراض خبیثہ میںاس لئے بھی شمار کیا تھا کہ یہ مردود کسی لحاظ ملاحظے کی قائل ہی نہیں۔ سوشلسٹ دیکھتی ہے نہ غیر سوشلسٹ بس جب اور جسے پڑنا ہو اسے پڑ جاتی ہے۔ یہ مرض اس لئے بھی خبیث ہے کہ اس کا نشانہ زیادہ تر شاعر، ادیب اور دانشور بنتے ہیں تاہم دوسرے طبقے بھی اس کی زد میں آتے ہیں ۔ 9/11 کے سانحہ کے بعد جنرل مشرف کے ایک رفیق امریکی حکمرانوں سے ملنے امریکہ گئے۔ وہاں انہیں چُک پڑ گئی چنانچہ جب تک وہاں رہے قیام کے دوران بھی رکوع کی حالت ہی میں رہے۔واپس پاکستان آئے تو بھی اسی حالت میں رہے اب یہ تو علم نہیں کہ وہ خود کس حال میں ہیں لیکن اس وقت سے پاکستان کو چُک پڑ ی ہوئی ہے!
اور اب آخر میں برادرم اعزاز احمدآذرؔ کے حالات حاضرہ کے حوالے سےتین اشعار:

بہت بیزار ہیں کچھ بھی نہیں بھاتا ہے، کیا کیجے
تماشہ ختم ہونے میں نہیں آتا ہے، کیا کیجے

بہت کمزور ہیں کردار، فرسودہ کہانی ہے
مصنف کو مگر سب کچھ یہی بھاتا ہے، کیا کیجے

تماشائی اسی کردار سے کچھ مطمئن سے تھے
’’کلائون‘‘ کھیل کے آخر میں مر جاتا ہے، کیا کیجے

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.