.

سیمی فائنل

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آپ پاکستان کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ مریض کی کیفیات سمجھ لیں آپ کو ملک کی سمجھ آ جائے گی‘ دنیا میں جب بھی کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو وہ پانچ مراحل سے گزرتا ہے‘ پہلی اسٹیج میں لوگ مریض کو بتاتے ہیں ’’تمہیں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے‘‘ لیکن مریض ’’میں الحمدُللہ ٹھیک ہوں‘‘ جیسا فقرہ بول کر یہ مشورہ مسترد کر دیتا ہے‘ دوسری اسٹیج پر مریض کو اپنے بیمار ہونے کا احساس ہو جاتا ہے اور وہ اپنے عزیزوں‘ رشتے داروں اور دوستوں سے درخواست کرتا ہے۔

’’مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں‘‘ وہ خود بھی کوئی اچھا ڈاکٹر تلاش کرتا ہے‘ تیسری اسٹیج پر مریض کی بیماری عوامی چرچہ بن جاتی ہے‘ مریض کے دوست‘ احباب‘ عزیز‘ رشتے دار‘ محلے دار اور شہر کے لوگ خان صاحب بیمار ہیں‘میاں صاحب فلاں بیماری کا شکار ہو چکے ہیں جیسے اعلانات شروع کر دیتے ہیں‘ چوتھی اسٹیج میں مرض کی تشخیص کی جاتی ہے‘ مریض کا مکمل معائنہ ہوتا ہے‘ مرض کی وجوہات تلاش کی جاتی ہیں اور مریض کے ٹیسٹ ہوتے ہیں اور پانچویں اور آخری اسٹیج پر مریض کا علاج شروع ہوتا ہے۔

مریض کو ادویات دی جاتی ہیں اور اگر مقامی ڈاکٹر علاج نہ کر سکیں تو مریض کو دوسرے ممالک کے ڈاکٹروں‘ اداروں اور اسپتالوں میں لے جایا جاتا ہے‘ پاکستان بھی ایک ایسا ہی مریض ہے‘ یہ مریض پانچویں اسٹیج پر پہنچ چکا ہے لیکن وہ لوگ جن کے پاس ملک کا علاج ہے وہ ابھی تک پہلی‘ دوسری اور تیسری اسٹیج پر کھڑے ہیں‘ آپ ملک کے عام شہری سے لے کر صدر تک کسی شخص سے پوچھ لیں‘ آپ ملک کی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی تقریریں سن لیں‘ آپ کو لیڈروں سے لے کر بھنگیوں اور چرسیوں تک تمام لوگ ملک کے سارے مسائل گنواتے نظر آئیں گے‘ یہ مرض کی پوری علامات بیان کریں گے‘ یہ آپ کو بتائیں گے ملک میں قانون کی عملداری نہیں‘ پولیس رشوت خور ہے‘ ملک میں طاقتور کے لیے ایک اور کمزور کے لیے دوسرا قانون ہے۔

جج کم ہیں اور مقدمے زیادہ۔ عدالتی نظام سے تاخیر کے سوا کچھ نہیں نکلتا‘ پٹواری بادشاہ ہیں‘ مسجدیں محفوظ ہیں اور نہ ہی امام بارگاہ‘ ملک کے کسی شہر میں صاف پانی نہیں ملتا‘ عوام خوراک کی کمی کے شکار ہیں‘ مہنگائی برداشت سے باہر ہے‘ دنیا کا کوئی معاشی ماہر دس ہزار روپے میں بجٹ نہیں بنا سکتا‘ بجلی کے بل ادا نہیں کیے جا سکتے‘ لوڈ شیڈنگ نے معیشت کی مت مار دی‘ گیس کی کمی سردیوں کو مزید ٹھنڈا کر دیتی ہے‘ سیاسی قائدین مفادات کی ناک سے آگے نہیں سوچتے‘ سیاسی جماعتیں چند خاندانوں کی جاگیر ہیں‘ سیاستدان‘ بیورو کریٹس اور تاجر کرپٹ ہیں‘ فوج سیاست میں مداخلت کرتی رہے گی۔

ہمارا انتخابی نظام درست نہیں‘ الیکشن سے صرف کرپٹ اور نااہل لوگ اوپر آتے ہیں‘ مٹھی کا قحط انسانی المیہ بن چکا ہے‘ ہم جب تک دہشت گردی ختم نہیں کریں گے‘ یہ ملک آگے نہیں بڑھے گا‘ ہمارا تعلیمی نظام صلاحیت کے بجائے ڈگریاں پیدا کر رہا ہے اور ہم جب تک معاشرے اور مذہب کے درمیان قانون کی دیوار کھڑی نہیں کرتے ہم سکون سے زندگی نہیں گزار سکیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ملک کا ہر شخص خواہ وہ تھڑے پر بیٹھا ہو یا کنٹینر پر چڑھا ہو یا پھر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر تشریف فرما ہو‘ وہ یہ تمام خامیاں ایک سانس میں قوم کے سامنے رکھ دے گا مگر کیا اس حق گوئی اور بے باکی سے مریض کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے؟

اس کا جواب ناں ہے! کیوں؟ کیونکہ مریض تشخیص اور علاج کی اسٹیج پر پہنچ چکا ہے‘ یہ ڈاکٹر اور دواء چاہتا ہے مگر بدقسمتی سے عام شہری سے لے کر سیاسی قائدین اور سیاسی قائدین سے لے کر حکمرانوں تک تمام لوگ صرف علامات کا واویلا کر رہے ہیں‘ یہ لوگ اول ڈاکٹر نہیں ہیں اور یہ اگر ڈاکٹر ہیں تو انھیں مریض کے علاج سے کوئی دلچسپی نہیں‘ یہ صرف ’’یہ بیمار ہے‘ یہ بیمار ہے‘‘ کا واویلا کر رہے ہیں اور یہ اس واویلے کو اپنا وژن‘ اپنی پرفارمنس‘ اپنی حب الوطنی اور اپنی کامیاب سیاست قرار دے رہے ہیں‘اب سوال یہ ہے کیا اس رویئے سے مریض ٹھیک ہو جائے گا؟ کیا ہم اس اپروچ سے ملک کو چلا لیں گے؟ مریض اس سوال کا جلد سے جلد جواب چاہتا ہے کیونکہ مریض میں اب مرض سہنے کی مزید گنجائش باقی نہیں۔

ہم عمران خان سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں‘ ہم ان کی طرز سیاست سے بھی اختلاف کر سکتے ہیں‘ ہم لانگ مارچ اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے اور دھرنے کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کے بھی خلاف ہیں اور ہم ان کے طرز تکلم پر بھی اعتراض کر سکتے ہیں لیکن ہمیں بہر حال ان کی دو باتوں سے اتفاق کرنا ہوگا‘ ایک‘عمران خان کے مطالبات غلط نہیں ہیں‘ نظام میں واقعی خامیاں موجود ہیں اور ہم جب تک یہ خامیاں دور نہیں کریں گے۔

یہ مریض صحت مند نہیں ہو سکے گا ۔ دو‘ عمران خان کی تحریک غیر جمہوری دور سے نکل کر جمہوری فیز میں داخل ہو چکی ہے‘ یہ دھرنے سے جلسوں پر بھی شفٹ ہو گئے ہیں اور یہ وزیراعظم کے استعفے سے بھی دست بردار ہو چکے ہیں چنانچہ حکومت کو اب فتح کے شادیانے بجانے کے بجائے عمران خان سے مذاکرات کرنے چاہئیں‘ عمران خان جوڈیشل کمیشن بنانا چاہتے ہیں‘ حکومت بنا دے‘ یہ جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمایندوں کو شامل کرنا چاہتے ہیں‘ آپ یہ بھی کر دیں‘آخر کیا حرج ہے؟ آئی ایس آئی اور ایم آئی بھی ریاستی ادارے ہیں اور ہمیں ان پر اعتماد کرنا چاہیے۔

حکومت کو بحران حل کرنے کا سنہری موقع مل چکا ہے لیکن حکومت موقع کو غنیمت جاننے اور عمران خان کا کیچ پکڑنے کے بجائے ضد کی طرف جا رہی ہے‘ حکومتی وزراء فتح کے جوش میں معاملات بگاڑ رہے ہیں‘ حکومت کو عوام پر مہربانی کرنی چاہیے اور عمران خان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھولنا چاہیے‘ یہ عقل کا تقاضا بھی ہے اور سیاست کا قرینہ بھی۔ دنیا میں تاخیر ہمیشہ نقصان پہنچاتی ہے‘ میاں صاحب کو اس معاملے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے‘ حکومت کو مذاکرات کے علاوہ بھی چند فوری اقدامات کرنے چاہئیں‘ ملک کو انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے‘ حکومت الیکٹورل ریفارمز کمیٹی سے بلاتاخیر سفارشات مرتب کرائے‘ پارلیمنٹ سے یہ سفارشات پاس کرائے اور یہ ایشو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دے‘ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی ہنگامی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔

ہم اگر 20 کروڑ لوگوں کے ملک سے ایک غیرمتنازعہ اور متفقہ چیف الیکشن کمشنر منتخب نہیں کر سکتے تو پھر ملک کی گنجائش باقی نہیں رہتی‘ آپ الیکشن کمیشن کو بھارتی الیکشن کمیشن جتنی خودمختاری بھی دیں‘یہ بھی ضروری ہے‘ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے دھرنے کی ’’برکت‘‘ سے حکومت نے وفاقی وزراء کی پرفارمنس کا جائزہ لینا شروع کیا تھا‘ کابینہ کے خصوصی اجلاس بھی ہوئے مگر ان اجلاسوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا‘ وہ وزراء آج بھی اپنی کرسیوں پر موجود ہیں جن کی کارکردگی سے وزیراعظم تک مطمئن نہیں ہیں‘ حکومت نے نئے وزراء کا تقرر بھی کرنا تھا‘ وہ تقرر بھی نہیں ہو سکا‘ ملک کے 50 بڑے اداروں کے سربراہ اٹھارہ ماہ سے تعینات نہیں ہو سکے‘ امیدواروں کے چھ چھ انٹرویوز ہو چکے ہیں لیکن وزیراعظم کو حکم جاری کرنے کی فرصت نہیں مل رہی۔

پنجاب میں بھی ساڑھے تین سو تعیناتیاں وزیراعلیٰ کی توجہ کی طالب ہیں مگر وزیراعلیٰ کو بھی احکامات جاری کرنے کے لیے وقت نہیں مل رہا‘ پنجاب کی بیس سے زائد وزارتیں بے وزیر ہیں‘ میاں شہباز شریف محنتی اور ان تھک ہیں لیکن یہ اس کے باوجود انسان ہیں‘ یہ آخر کتنے لوگوں کا کام کر لیں گے؟ آپ کو اگر 11 کروڑ لوگوں کے صوبے اور 341 ایم پی ایز میں سے 20 اہل لوگ نہیں مل رہے تو پھر آپ کو اپنی ناکامی تسلیم کر لینی چاہیے اور میدان عمران خان کے حوالے کر دینا چاہیے‘ ہمارا خیال تھا وزیراعظم عمران خان کے دھرنے کے بعد جاگ اٹھے ہیں‘ یہ اپنے معمولات تبدیل کر لیں گے‘ یہ میٹنگز کے بجائے فیصلے کریں گے لیکن تاحال کوئی بڑا فیصلہ سامنے نہیں آیا‘ مجھے ایوان اقتدار کے اندر سے ایک ایس ایم ایس آیا تھا میرے کسی کالم کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم نے رات گئے تک دفتر میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن کیا اس فیصلے پر عملدرآمد بھی ہوا یا پھر یہ فیصلہ بھی تاحال دوسرے فیصلوں کی طرح ایک فیصلہ ہے؟

قوم اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتی‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے 15 ارکان فارورڈ بلاک بنا رہے ہیں‘ وزیراعظم ان کی شکایات تک سننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ وزیراعظم خیبر پختونخوا کو صوبہ اور پرویز خٹک کو وزیراعلیٰ بھی نہیں مان رہے‘ یہ انھیں کسی نیشنل اور انٹرنیشنل تقریب میں ساتھ لے کر نہیں جاتے‘ یہ سیاسی تفریق بھی ختم ہونی چاہیے‘ وزیراعظم نے سادگی بھی اختیار کرنی تھی مگر سادگی تو دور ابھی تک اس کا اعلان تک نہیں ہوا‘ ہمارا خیال تھا یہ دھرنے خاندانی سیاست پر بھی کاری ضرب لگائیں گے لیکن حکومت نے اس پر بھی توجہ نہیں دی‘ آج لاہور ہائی کورٹ حکومت کو حکم دے رہی ہے آپ مریم نواز کو لون اسکیم کی سربراہی سے الگ کریں ورنہ ہم حکم جاری کر دیں گے مگر حکومت اس حکم کو بھی سیریس نہیں لے رہی۔

میری حکومت سے درخواست ہے آپ 30 نومبر کو 14 اگست کی طرح آسان نہ سمجھیں‘ یہ 30 نومبر سیاست کو نئے فیز میں دھکیل دے گا‘ حکومت سیریس نہ ہوئی تو عوام اور ریاستی اداروں کوحکمرانوں کی غیر سنجیدگی کا یقین ہو جائے گا اور یہ یقین آگے چل کر حکومت اور نظام دونوں کے لیے خطرناک ہو گا‘ آپ ایک لمحے کے لیے سوچئے‘ یہ صورتحال اگر طوالت اختیار کر لیتی ہے اور سپریم کورٹ معاملات سلجھانے کے لیے ایکٹو ہو جاتی ہے‘ یہ کوئی فیصلہ دے دیتی ہے اور فوج کو اس فیصلے پر عملدرآمد کا حکم جاری کر دیتی ہے تو حکومت اور نظام کا کیا مستقبل ہو گا‘ آپ دوسرا سیناریو بھی سوچئے اگر معاملات نہیں سلجھتے اور ملک کی دوسری سیاسی جماعتیں عمران خان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہیں تو کیا ہو گا؟ حکومت کو جاگ جانا چاہیے کیونکہ یہ 30 نومبر صرف 30 نومبر نہیں ہوگا یہ سیمی فائنل ہو گا‘ یہ گیم چینجر بھی ثابت ہو سکتا ہے‘ عمران خان جیتیں یا ہاریں نقصان بہرحال حکومت کو ہو گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.