یمن کے سابق صدر اور حوثی رہنماؤں کے لیے سزا

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یمن کی سر زمین پر جائز اور قانونی عبوری حکومت کے تحفظ اور حمایت کے لیے کوئی بین الاقوامی فوج موجود ہے نہ کوئی فضائیہ ہے کہ وہ حوثی باغیوں اور ان کے رہنماوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے۔ ان رہنماوں میں بلاشبہ 2012ء میں برطرف شدہ صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی باغیوں کے لیڈر عبدالمالک الحوثی بھی شامل ہیں، جو یمن میں امن کے درپے ہو چکے ہیں۔ تاہم ایک ہتھیار جو قانونی عبوری حکومت کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے وہ سلامتی کونسل کی طرف سے منظور کردہ حالیہ قرار داد ہے۔ جس میں علی عبداللہ صالح اور اور دو حوثی رہنماوں پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ اقوام متحدہ نے ایک مسئلے کو دیکھا ہو اور سلامتی کونسل کے کے تمام ممبران نے متفقہ رائے اختیار کرتے ہوئے ایک برطرف شدہ صدر کو اپنے ہی ملک مین بد امنی پھیلانے پر پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ امریکا نے ان پابندیوں پر فوری طور پر عمل درآمد کرتے ہوئے تینوں رہنماوں کو ''بلیک لسٹ'' کر دیا ہے، ان رہنماوں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور انہیں خبردار کر دیا گیا ہے کہ انہوں نے یمن سے باہر کسی بھی دوسرے ملک میں جانے کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان کا یہ سفر فضائی ہو یا بحری ہو اس کے نتیجے میں کسی دوسرے ملک پہنچنے کی صورت ان کی گرفتاری یقینی ہے۔

یہ پابندیاں بین الاقوامی برادری کے پاس ایک جائز اور قانونی ہتھیار کا درجہ رکھتی ہیں۔ عالمی برادری چاہے تو اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے یمنی ریاست کو تباہ ہونے سے بچا سکتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ پچھلے چند ماہ سے یمن تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے۔ یہ صورت حال یمن کے شمال اور جنوب میں پیدا شدہ باغیانہ حالات کی وجہ سے ہے۔ ان حالات تک ملک کو پہنچانے میں علی عبداللہ صالح کا بھی غیر معمولی تعلق ہے۔ بلاشبہ سلامتی کونسل کی طرف سے عاید کردہ پابندیاں صالح کے لیے سخت نقصان کا باعث ہوں گی، البتہ دوسرے دو حوثی رہنما ان پابندیوں سے کم متاثر ہوں گے کہ وہ دونوں بنکوں میں روپیہ رکھنے اور ہوائی جہازوں کے ذریعے ایک سے دوسرے ملک جانے کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے ہیں۔ بلکہ وہ تو شاید اپنی دولت سرہانے کے نیچے رکھ کر سونے والے لوگوں میں سے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل نے انٹیلی جنس کی طرف سے پیش کیے گئے ناقابل تردیدشواہد کی بنیاد پر یہ نوٹ کیا کہ صالح یمن کو بد امنی سے دوچار کرنے کے سازشی منصوبے کا حصہ ہی نہیں بلکہ ''ماسٹر مائینڈ'' ہے تاکہ یمن بدامنی کے ہاتھوں یرغمال بنے اور صالح کے اقتدار کی راہ ایک مرتبہ پھر ہموار ہو سکے۔ یہ خفیہ دستاویز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبران کو فراہم کی گئیں۔

ان دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ علی عبداللہ صالح پچھلے ستمبر سے پورے یمن میں ان پر تشدد کارروائیوں کو خفیہ انداز میں امداد دے رہا ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق علی عبداللہ صالح رواں سال میں ماہ فروری سے نہ صرف حوثی باغیوں کی حمایت کر رہا ہے بلکہ جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں اور حتی کہ القاعدہ کی بھی مدد کر رہا ہے تاکہ بدامنی بڑھے اور اس کے اقتدار کی پھر سے راہ ہموار ہو سکے۔ اس نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ صدر منصور ہادی اپنی جماعت سے الگ ہوں اور عبدالکریم الاریانی ایسے اہم ترین سیاستدان کو ان کے پوزیشن سے ہٹوا سکیں۔

ریاست کی تباہی کے درپے

اس کے باوجود سلامتی کونسل کے فیصلوں کے خلاف صالح کی پر جوش تقاریر جاری ہیں۔ سلامتی کونسل کی قرار داد کے برعکس علی عبداللہ صالح کا اصرار جاری ہے کہ اگر وہ اور اس کا خاندان واپس اقتدار میں نہ آیا تو یمن کی تباہی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی طرف سے عاید کی گئی ان پابندیوں کی وجہ سے علی عبداللہ صالح کو بہت کچھ کھونا پڑ سکتا ہے۔ کہ اس کے لاکھوں ڈالر سوئس بنکوں میں پڑے ہیں۔ یہ لاکھوں ڈالر وہ ہیں جو اس نے اپنی طویل حکمرانی کے دوران بین الاقوامی امداد سے چرائے ہیں یا تیل کے پیسے میں سے اڑائے ہیں۔ تاہم صالح نے زخمی مگر لومڑی کی طرح یہ سبب کچھ اپنے ہاتھ سے کرنے کے بجائے دوسروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے کیا ہے۔

اس کے خلاف ملنے والی شہادتیں ٹھوس ہیں۔ جن کے مطابق وہ یمن میں بد امنی کی سازش میں شریک رہنے کے علاوہ اس چیز کے لیے خوب تجربہ کار ہے کہ اپنے ہتھیارخود استعمال کرنے کے بجائے اپنے مقاصد کے لیے دوسروں کو استعمال کرے۔

وہ ان گھاگ لوگوں میں سے ایک ہے جو نہ صرف دوسروں کو پہلے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے بلکہ استعمال کرنے کے بعد ان سے جان بھی چھڑانا بھی خوب جانتا ہے۔ جیسا کہ وہ اپنے حوثی اتحادیوں سے نجات کے لیے پہلے ہی زمین تیار کر چکا ہے۔ اس سلسلے میں میں وہ ان ملکوں سے اپنی اقتدار میں واپسی کی اہمیت پر بھی بات کر چکا ہے۔ ایسے ملکوں سے بات کرتے ہوئے اس کا دعوی ہوتا ہے کہ وہی ایک رہنما ہے جو حوثیوں سے نمٹ سکتا ہے۔ صالح کے حامی بھی اس بات کو '' مارکیٹ '' کرنا شروع ہو چکے ہیں کہ ''علی عبداللہ صالح ہی یمن کے مسائل کا مداوا کر سکتا ہے اور یمن کو بچا سکتا ہے۔۔''

سلامتی کونسل کی طرف سے پابندیوں کی زد میں آنے والے دوسرے دو رہنما عبداللہ یحیی الحکیم اور عبدالخالق الحوثی ہیں۔ ان دونوں کو بھی بلیک لسٹ کرنے کی وجہ ان کی قتل وغارت گری کی سازشوں میں ملوث ہونے کے شواہد ہیں۔ یہ بھی شہادت موجود ہے کہ الحکیم نے ماہ جون کے دوران یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایک خفیہ اجلاس کیا جس میں صدر ہادی کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس اجلاس میں سکیورٹی سے متعلق شخصیات، قبائلی رہنماوں اور علی عبداللہ صالح کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔ الحکیم نے باغی فوج کی قیادت کی تاکہ عامران شہر پر قبضہ ہو سکے۔ اس رپورٹ کے مطابق الحکیم نے دارالحکومت پر قبضے کی سازش میں بھی حصہ لیا۔ وہ ابھی تک صنعاء کے داخلی دروازوں پر حوثی باغیوں کی قائم کردہ چیک پوسٹوں کا نگران ہے۔


دوسرا حوثی رہنما جس کے خلاف سلامتی کونسل نے پابندیاں عاید کی ہیں وہ عبدالخالق الحوثی ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے سرکاری فوج کی وردی پہن کر دماج شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والے باغیوں کی ماہ اکتوبر میں قیادت کی تھی۔ اس باغیانہ یلغار کے باعث بہت سے یمنی مارے گئے۔ نیز عبدالخالق الحوثی نے اسی سال ماہ اگست کے دوران یلغار کی تیاری کے لیے عمران سے صنعاء کے قریب واقع ایک کیمپ پر اسلحہ پہنچایا تھا۔ سلامتی کونسل کو حساس اداروں کی تیار کردہ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ الحوثی نے پچھلے ماہ بعض سفارت خانوں کو بھی نشانہ بنانے کی سازش کی تھی تاکہ دنیا کی توجہ یمنی حکومت کی ناکامی کی جانب مبذول کرائی جا سکے اور ملک میں انقلاب کا جواز ثابت کیا جا سکے۔

یقیناً اہل یمن کو اپنا مستقبل ان چھوٹے گروپوں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔ صالح نے اپنے تیس سالہ اقتدار کے دوران کروڑں ڈالر لوٹ رکھے ہیں وہ اس کے لیے بہت کافی ہیں۔ اسی لوٹ مار کی وجہ سے یمن میں اس کے دور میں پسماندہ رہا۔ اب صالح کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی برادری کی مدد سے اہل یمن کو خود کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک موقع دے۔ جو لوگ صالح کو جانتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اسے دوسروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا موقع نہ دیں۔ صالح کا ایران سمیت کو ئی بیرونی اتحادی نہیں ہے۔ جس کے بل پر وہ کچھ کر سکے یا کچھ کہہ سکے۔۔ اس لیے صالح کو چاہیے کہ وہ اپنے اثاثے بیچے اور اپنی دولت کے ساتھ علاج کے لیے جرمنی چلا جائے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں