برطانیہ نے پنجاب کو کس طرح نوازا؟

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کے سو سال پورے ہونے پر اس خوفناک واقعہ کی یاد منانے کے لئے برطانیہ میں تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ایسی ہی تقریبات میں ہندوستان کے اُن فوجیوں کو بھی یاد کیا جارہا ہے جنھوں نے اس جنگ میں کار ہائے نمایاں سرانجام دئیے۔ان فوجیوں میں تین مسلمان سپاہی بھی شامل ہیں جو برٹش آرمی کا حصہ تھے ۔ ان کی بہادری کے اعتراف کے طور پر اُنہیں وکٹوریہ کراس، جو کہ برٹش مسلح افواج کو دیا جانے والا سب سے بڑا اعزاز ہے، دیا گیا۔

ان فوجیوں کو خراج ِ تحسین پیش کرنے کے لئے برٹش ہائی کمیشن میںایک تختی رکھی گئی ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق اس تختی کو شکر پڑیاں کی پہاڑیوں پر نصب کیا جائے گا۔اس کی تنصیب غالباً مشرف دور میں بلامقصد تعمیر کی گئی ایک بدنما یادگار کے قریب عمل میں آئے گی۔ لیکن کیا وکٹوریہ کراس پانے والے فوجیوں کے ناموں والی تختی کو عوامی جگہ پر اس طرح پذیرائی دینا ایک ارفع خیال ہے؟ یہ مذکورہ سپاہی یقینا ہیرو تھے لیکن وہ اپنی سرزمین (ہندوستان) کی بجائے برطانوی سلطنت کی عظمت کے تحفظ کے لئے لڑ رہے تھے۔ اگر ان کی عظمت کو اجاگر کیا جانا مقصود تھا تو اُس کی مناسب جگہ برٹش وار میوزیم ہے تاکہ اہلِ برطانیہ کو اُن ہندوستانی سپاہیوں کی قربانیوں سے آگاہ کیا جا سکے لیکن اس کی تنصیب کے لئے پاکستان میں کسی جگہ کا انتخاب کرنا اس وجہ سے بھی بے محل ہے کہ انگریزوں نے ہندوستانی سپاہیوں کی جنگی خدمات کا کھلے دل سے کبھی اعتراف نہیں کیا ۔

پہلی جنگِ عظیم کے دوران اگست 1914ء سے لے کر نومبر 1918ء تک ہندوستان سے 683,149 فوجی بھرتی کیے گئے (تان تائی ینگ، گریژن ا سٹیٹ، صفحہ 98)۔ ان میں سے ساٹھ فیصد سے زائد جوان پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس عظیم جنگ میں دادِ شجاعت دینے والے جوانوں کو وکٹوریہ کراس ملنا اہلِ پنجاب کی دلیری اور شجاعت کا اعتراف تھا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ جنگ کے خاتمے پر برطانوی راج کی طرف سے ہندوستانی شہریوں پر زیادہ اعتما د کا اظہار کرتے ہوئے یہاں سیاسی اصلاحات کے اقدامات اٹھائے جائیں گے، تاہم جون 1918ء کو Montagu-Chelmsford کی پیش کردہ اصلاحات محض سطحی تھیں ۔ امپیریل دستور ساز کونسل کا نام بدل کر مرکزی دستور ساز اسمبلی رکھ دیا گیا۔ تاہم سامنے لائی جانے والے اصلاحات جنگ کے خاتمے کے دوماہ بعد اپنی موت آپ مرگئیں جب رولٹ بلز (Rowlatt Bill) کی صورت میں غداری کے خلاف اقدامات تجویز کئے گئے۔ جنگ کے دوران قائم ہونے والی کمیٹی نے سر سڈنی رولٹ کی سربراہی میں ان اقدامات کے لئے سفارشات پیش کیں ۔ اس دوران روس میں انقلاب کے واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے تھے۔

کمیٹی نے خدشہ محسوس کیا کہ بیرونی خطوں سے اُٹھنے والی آوازیں ہندوستانی شہریوں کو راج کے خلاف اُکسا سکتی ہیں۔ اس امکان کا سدّ باب کرنے کے لئے راج کے خلاف ذرا بھی آواز بلند کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات تجویز کئےگئے۔ یہ اُس وقت ہوا تھا جب فرانس اور دیگر جنگی محاذوں پر برطانوی افسران کی قیادت میں نصف ملین کے قریب ہندوستانی جوانوں نے جنگ کی اور اپنا لہو دیا۔ رولٹ بل نے کسی بھی ٹرائل کے بغیر گرفتاری اور کسی بھی گرفتاری پر اپیل کے حق کو خارج کر دیا۔کسی کے پاس بھی حکومت کے خلاف کوئی پمفلٹ یا مواد مل جاتا تو اُسے دوسال کیلئے جیل میں بند کر دیا جاتا۔ یہ تھا پنجاب کی قربانیوں کا صلہ !اس پرتعلیم یافتہ ہندوستانیوں کا مشتعل ہونا فطری بات تھی۔

جنگ کے بعد کا ہندوستان مختلف تھا۔مہنگائی، اشیائے ضروریات کی قلت کے ساتھ ساتھ جنگ سے واپس آنے والے سپاہیوں کے لئے روزگار کا مسئلہ بھی پیدا ہوچکا تھا۔ اسی دوران رولٹ بل ہندوستانیوں کے منہ پر ایک طمانچے کی طرح لگا۔ اُس وقت تک گاندھی جنوبی افریقہ سے واپس آچکے تھے۔وہاں اُنھوں نے عدم تشدد مزاحمت (satyagraha) کا عملی تجربہ کیا تھا۔ لاہور میں رولٹ بل کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ ہندو اور مسلمان پہلی مرتبہ اکٹھے کسی سیاسی احتجاج میں شرکت کر رہے تھے۔ 13 اپریل کو لاہور کی بادشاہی مسجد میں ایک بہت بڑے اجتماع سے شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان، ہندو اور سکھ رہنمائوں نے خطاب کیا۔ اس سے پہلے برطانوی حکام ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے بڑی آسانی سے راج کر رہے تھے، لیکن اب اس اتحاد نے اُن کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔ سب سے زیادہ پریشانی پنجاب کے گورنر مچل او ڈائر(Michael O'Dwyer) کو ہو رہی تھی۔

تین دن تک ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران لاہور میں راج کی عملداری تحلیل ہو کر رہ گئی۔ اس پر مارشل لا نافذ کر کے غیر معمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے عوام کو خائف کیا گیا۔آج یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے ، لیکن رائل ایئرفورس کے جنگی جہازوں نے نہتے ہجوم پر گوجرانوالہ میں بمباری اورمشین گنوں سے فائرنگ کی۔ بعد میں ہونے والی سرکاری انکوائری میں ہلاکتوں کی تعداد کم کر کے بتائی گئی اور کہا گیا کہ ’’ہجوم کے منتشر ہونے کے بعد بم گرائے گئے اور فائرنگ کی گئی‘‘۔ عوام پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور گوجرانوالہ میں ہر ہندوستانی کے لئے فرض قرار دے دیا گیا کہ وہ گزرنے والے ہر سرکاری افسر کو اپنی سواری سے اتر کر سیلوٹ کرے۔

تاہم یہ سب کچھ امرتسر میں پیش آنے والے واقعات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ وہاں ہجوم تشدد پر اتر آیا اورکئی ایک انگریز شہری ہلاک کردئیے گئے۔ ان میں سے کچھ بنکار بھی تھے۔ ایک برطانوی مشنری خاتون مرسیلا شیرووڈ (Marcella Sherwood) پر ہجوم نے حملہ کیا۔ وہ اُسے مردہ چھوڑ کر چلے گئے لیکن اُس میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ اُسے کچھ مقامی ہندوستانیوں نے بچا لیا۔ اُس کے شاگردوں میں سے ایک کے والد نے اُسے گھر میں چھپا لیا اور ہجوم کی آنکھ سے اوجھل ہوکر گوبندگڑھ فورٹ میں پہنچا دیا(Wikipedia)۔ کچھ اہم رہنمائوں، جن میں سیف الدین کچلو اور سیتیاپال شامل تھے،کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے بڑی تعداد میں لوگ جلیانوالہ باغ میں جمع تھے۔ جنرل رگینالڈ ڈائر (Reginald Dyer) کی قیادت میں فوج کے ایک دستے نے باغ کے دروازے کے سامنے پوزیشن سنبھال لی اور منتشر ہونے کی کوئی وارننگ دئیے بغیر فائر کھول دیا۔ اُس وقت کے سرکاری ذرائع کے مطابق 379 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 1200 افراد زخمی ہوئے۔ آزاد ذرائع کے مطابق ایک ہزار افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائدزخمی ہوگئے تھے۔ یہ سب کچھ صرف دس منٹ کی شدید فائرنگ کے دوران ہوا تھا۔ جنرل ڈائر کے نام بھیجے گئے ٹیلی گرام میں گورنر اوڈائر نے کہا، ’’تمہارا ایکشن درست تھا اور لیفٹیننٹ گورنر اس کو منظور کرتا ہے۔‘‘

انیس اپریل کو مرسیلا شیرووڈ کے گھر جاکر جنرل ڈائر نے اعلان کیا کہ جوبھی اس کی گلی سے گزرے اُس کے لئے لازم ہے کہ وہ چاروں ہاتھ پائوں کے بل چلتا ہوا گزرے۔ بعد میں جنرل ڈائر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا،’’کچھ ہندو اپنے دیوتائوں کے سامنے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے ہیں۔ میں اُنہیں یہ احساس دلانا چاہتاتھا کہ ایک انگریز عورت بھی کسی ہندو دیوتا سے کم مقدس نہیں۔اس لئے اُنہیں اس کے سامنے رینگنا ہوگا۔‘‘ سر ونسٹن چرچل کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اُنھوں نے اس قتل عام کی مذمت کی اور اُن کی تقریر کے بعد ہائوس میں جنرل ڈائر کے خلاف رائے شماری کی گئی۔ تاہم بہت سے انگریزاُنہیں ہیرو سمجھتے تھے۔ مس شیرووڈ نے اُنہیں ’’پنجاب کا نجات دہندہ ‘‘ قرار دیا۔ اس ظلم پر رابندرناتھ ٹیگور نے اپنا سر کا خطاب واپس کرتے ہوئے وائسرائے،Lord Chelmsford کو لکھا،’’وہ وقت آگیا ہے جب توقیر کے یہ نشانات بے حد توہین آمیز دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

تیرہ مارچ 1940ء کو لندن کے Caxton Hall میں اُدھم سنگھ، جو امرتسر کے واقعات کے چشم دید گواہ تھے، نے مچل او ڈائر کو گولی ماردی۔ اپنے ٹرائل کے موقع پر اُنھوں نے کہا ’’میں نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ میرے دل میں اُس کے لئے شدید غصہ تھا۔ وہ ا س کا مستحق تھا۔ مجھے موت سے کوئی ڈر نہیں۔ میں اپنے وطن کے لئے مر رہا ہوں۔ میں نے برطانوی راج میں اپنے لوگوں کو بھوک سے مرتے دیکھا ہے۔ میں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا، یہ میرا فرض تھا۔ میرے لئے اس سے بڑا شرف اور کیا ہو سکتا ہےکہ میں اپنے وطن پر جان قربان کر رہا ہوں۔‘‘ اُدھم سنگھ خود کورام محمد سنگھ آزاد کہلانا پسند کرتے تھے۔ 1952ء میں پنڈت نہرو نے اُنہیں ’’شہیدِ اعظم اُدھم سنگھ‘‘ قرار دیا۔ 1920ء میں گاندھی کی شروع کردہ سول نافرمانی کی تحریک پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔

اس کی پاداش میں ہزاروں افرادکو جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس تحریک میں پنجاب کے مسلمانوں کی طرف سے حصہ نہیں ڈالا گیا۔ فضلِ حسین، جنھوں نے پہلے رولٹ ایکٹ پر احتجاج کیا تھا اورجنھوں نے ایک سال قبل پنجاب کانگریس اور پنجاب لیگ کی قیادت کی تھی، نے نئی برطانوی کونسل میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ ہندو مسلم اتحاد، جس کا مظاہرہ ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران دیکھنے میں آیا تھا، دیر پا ثابت نہ ہوسکا۔ ہندوستان کے ہندووں ، مسلمانوں اور سکھوں نے اپنی راہیںجدا کر لیں۔ 1920ء میں ناگپور میں ہونے اجلاس میں محمد علی جناح ، جو اُ س وقت کانگریس اور لیگ، دونوں کے رکن تھے،نے گاندھی کے ساتھ ہونے والے اختلافات کی بنا پر کانگریس کو چھوڑ دیا۔ اہل برطانیہ اپنی جنگی فتوحات کی یاد ضرور منائیں۔ دوسری طرف ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ سےآشنائی حاصل کریں۔ تلخی اور نفرت کے بیج بونے کے لئے نہیں بلکہ اپنی اصلیت کو جاننے کے لئے۔ یقیناً انگریزوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والوں کو یاد رکھیں۔ ہماری اپنی تاریخ کے بھی بہت سے کراس ہمارے کندھوں پر ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں