دھاندلی اورجنرل کیانی

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

پاکستان، جس کا اصل مسئلہ اخلاقی انحطاط اور منافقت ہے، کے سماج میں جو منفی رجحانات فروغ پارہے ہیں، ان میں سرفہرست جانے والے کے لئے گالی اور آنے والے کی پوجا کا کلچر ہے۔ جو جج کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے، اس کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں لیکن رخصت ہوتے ہی اس کی کردارکشی کا عمل زور پکڑتا ہے ۔ جنرلوں کے ساتھ تو بالخصوص اسی سلوک کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب تک جنرل ریٹائر نہیں ہوتا، اس کی’’ جمہوریت پسندی‘‘ پر اسے خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور اسے نہایت پروفیشنل فوجی قرار دیا جاتا ہے لیکن جونہی وہ ریٹائرڈ ہوجاتا ہے تو اس کی کردارکشی کا آغاز ہو جاتا ہے۔

ان دنوں سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو ثانی الذکر مرحلے کا سامنا ہے۔ وہ پہلے ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ پھر آرمی چیف بنے اور پھر ان کو تین سال کے لئے توسیع ملی، اس لئے اہل سیاست اور اہل صحافت نے طویل ترین عرصے تک ان کی تعریفوں کے پل باندھے۔ مولانا فضل الرحمٰن سے لے کر میاں نواز شریف تک، شاید ہی کوئی پاکستانی لیڈر ہو جس نے ان کے دور میں ان کے ’’پروفیشنلزم‘‘ کی آن دی ریکارڈ تعریف نہ کی ہو۔ آصف علی زرداری اور سید یوسف رضا گیلانی نے تین سال کی توسیع دے کر عمل سے بھی ان کے پروفیشنل یا بہترین کمانڈر ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ عمران خان صاحب کی پارٹی کو چونکہ ان کے دور میں عروج ملا اس لئے جلوت کے ساتھ ساتھ خلوت میں بھی وہ ان کی تعریفیں کرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے اور میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ نجی اور خفیہ ملاقاتوں یا پھر خوشامدمیں چوہدری برادران اور تحریک انصاف کے قائدین ہی سر فہرست رہے۔

شیخ رشید احمدبھی اس حوالے سے اپنی مثال آپ تھے ۔ ہم جیسے لوگ ‘جو جنرل کیانی کے دور میں طالبان ‘ افغانستان اور داخلی سلامتی سے متعلق ان کی پالیسیوں کے ناقد رہے‘ کے ساتھ بھی بحث و مباحثے میںبھی یہ حضرات کیانی صاحب کا دفاع کرتے رہے۔ 2 مئی کے بعد جنرل کیانی اور جنرل احمد شجاع پاشا کی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ نشست میں ابصار عالم ‘ طلعت حسین اور میری ان حضرات سےتلخی تک ہو گئی لیکن چوہدری برادران اورخان صاحب جیسے سیاسی رہنماء ایبٹ آباد آپریشن جیسے معاملے پربھی جنرل کیانی اور جنرل پاشا کے رول کا بھرپور دفاع کرتے رہے۔ یہاں بھی شیخ رشید احمد صاحب حسب عادت آئی ایس پی آر کے ترجمان سے دو قدم آگے تھے لیکن اب جبکہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ریٹائرڈ ہو گئے ہیں اور حسب عادت انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کرکے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے تو یہ حضرات ان کے خلاف زبان درازی کرنے لگے ۔

تحریک انصاف کے بعض سرکردہ رہنماء جنہوں نے وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھے تھے یا کسی کے کہنے پر عمران خان کو دکھائے تھے‘ نجی محفلوں میں یہ کہنے لگے کہ نوازشریف کے حق میں دھاندلی جنرل(ر) اشفاق پرویز کیانی کے ایما پر ہوئی ۔ اسی تسلسل میں عمران خان صاحب نے ایک انٹرویو میں ایم آئی کے ایک بریگیڈئرپر پنجاب میں دھاندلی کرنے کا الزام لگایا لیکن پھر جب متعلقہ لوگوں نے خبردار کیا توہ اس موضوع پر میڈیا میں تو خاموش ہوگئے لیکن نجی محفلوں میں اب بھی یہی الزام دہرارہے ہیں ۔ اسی تسلسل میں چوہدری شجاعت حسین نے جنرل کیانی پر 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا لیکن جب ان کو بھی چھڑی دکھائی گئی تو اگلے دن آئیں بائیں شائیں کرنے لگے ۔اس تناظر میں گزشتہ انتخابات کے حوالے سے جنرل کیانی کے کردار کے بارے میں چند حقائق سامنے لانا چاہتا ہوں اور شکر ہے کہ ابھی فخرالدین جی ابراہیم زندہ ہیں جو میرے ان دعووں کی تصدیق یا تردید کرسکتے ہیں ۔مکرر عرض ہے کہ قومی سلامتی‘ خارجہ پالیسی ‘ قبائلی علاقوں میں آپریشن جیسے ایشوز کے حوالے سے میں جنرل کیانی کی بعض پالیسیوں کا شدید ناقد رہا ۔

اس کا اظہار ان کے ساتھ صحافیوں کی نشستوں میں بھی کرتا رہا اور میڈیا میں بھی حسب استطاعت تنقید کرتا رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2008ء اور 2013ء کے انتخابات میں ان کا کردار کسی صورت منفی نہیں تھا۔ ہوا یوں بھی کہ جب فخرو بھائی نے پولنگ اسٹیشنوں کے اندر فوج تعینات کرنے کی خواہش ظاہر کی تو جنرل کیانی اس کے حق میں نہیں تھے ۔ وہ اس حوالے سے اپنا موقف ان کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر کو جی ایچ کیو بلاتے تھے تو بھی مناسب نہیں تھا اورخود الیکشن کمیشن جاتے تو بھی ایشو بن جاتا۔ چنانچہ نادرا کے دفتر میں ملاقات کا پروگرام بنایا گیا۔ اس کے لئے سیکرٹری الیکشن کمیشن سے کوآرڈینشن ہوئی تھی۔ وہاں جنرل کیانی نے فخروبھائی کو بتایا کہ فوج اندر تعینات ہوسکتی ہے اور نہ انتخابی عمل کا حصہ بن سکتی ہے ۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ڈیڑھ لاکھ فوج مغربی سرحد پر ہے ۔

ایک لاکھ کے قریب مشرقی سرحد پر ہے ۔ اسی ہزار پولنگ اسٹیشنوں میں جب فی پولنگ اسٹیشن دو جوان تعینات کئے جائیں گے تو ڈیڑھ لاکھ جوان درکار ہوں گے اور اتنی تعداد میں فوج فراہم کرنا ممکن نہیں ۔ فخروبھائی نے پھر بھی اصرار کیا تو جنرل کیانی نے تجویز دی کہ پھر انتخابات مرحلہ وار کرائے جائیں تو وہ یہ ذمہ داری لے لیں گے لیکن اس پر فخروبھائی تیار نہیں ہوئے ۔

جنرل کیانی کی دلیل یہ بھی تھی کہ پولنگ ا سٹیشن کے اندر دو سپاہیوں کی تعیناتی سے فائدہ تو کوئی نہیں ہوگا لیکن کل ہارنے والوں کی طرف سے الزام فوج پر بھی لگایا جائے گا۔ دو گھنٹے کی اس نشست میں‘ جن میں دونوںکی معاونت کے لئے دیگر لوگ بھی موجود تھے میں معاملہ طے نہ ہوسکا اور جنرل کیانی یہ کہہ کر اجازت لینے لگے کہ انتخابی عمل کا حصہ بنانے کی بجائے وہ صرف امن وامان کو یقینی بنانے کے لئے پولنگ اسٹیشن کے باہر ہی فوج کو پولیس اور رینجرز کے ساتھ تعینات کریں گے لیکن دوسری جانب فخرو بھائی کی ضعیف العمری کا یہ عالم تھا کہ جب جنرل کیانی اجازت لینے لگے تو انہوں نے جنرل کیانی ہی سے کہا کہ اپنے چیف کو میرا سلام کہنا ۔

جنرل کیانی کی یہ میٹنگ پہلے سے شیڈول ہوگئی تھی ‘ ان کے سینے پر ان کے نام کی فلیٹ بھی لگی تھی لیکن وہ اس عاجزی اور تابعداری کے لہجے میں فخرو بھائی سے بات کررہے تھے کہ ان کا خیال یہ رہا کہ وہ جنرل کیانی نہیں بلکہ ان کے کسی نمائندے سے بات کر رہے ہیں ۔ اس ملاقات کے علاوہ الیکشن سے قبل فخرو بھائی سے جنرل کیانی کی ایک اور ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں انہوں نے تجویز دی تھی کہ امیدواروں سے آیت الکرسی اور چھ کلمے پڑھوانے کی بجائے ایف بی آر ‘ نیب اور دیگر اداروں سے امیدواروں کا ریکارڈ لے کر ریٹرننگ افسران کو بھجوایا جائے اور وہ اس کی چھان بین کے مطابق امیدواروں کی اہلیت اور ناااہلیت کا فیصلہ کریں۔ تاکہ پریس کے سامنے امیدواروں کی سبکی بھی نہ ہو اور حقیقی معنوں میں کردار کی بنیاد پر اسکروٹنی بھی ہوجائے لیکن فخرو بھائی نے اس وقت یہ دلیل دی کہ ریٹرننگ افسران کا تعلق چونکہ عدلیہ سے ہے ‘ اس لئے وہ ان کو ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے ۔ اب اگر جنرل کیانی کی اس تجویز پر عمل ہوتا تو اس کا تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کو فائدہ جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو نقصان ہوتا لیکن فخرو بھائی ضعیف العمری کی وجہ سے یا پھر اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کی ہیت میں تبدیلی کی وجہ سے اس تجویز پر بھی عمل درآمد نہ کرسکے ۔ اسی طرح میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اور خود جنرل کیانی کے بیٹے سروش سے میں نے تصدیق کی ہے کہ ان کے اہل خانہ نے تحریک انصاف کو ووٹ دئیے تھے۔

جنرل کیانی اپنے ووٹ کی چوائس کے بارے میں بتاتے نہیں لیکن وہ صبح سویرے خود ووٹ ڈالنے اس لئے گئے اور اس لئے اس کی میڈیا کوریج کرائی تاکہ عوام کی نظروںمیں انتخابی عمل کی وقعت بحال ہو۔ اب اس شخص پر گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانا اور وہ بھی مسلم لیگ(ن) کے حق میں ‘ زیادتی نہیں تو اور کیا ہے؟ انہوںنے اگر نوازشریف کے حق میں دھاندلی کرانی تھی تو پھر قبائلی علاقوں اور سوات جیسے علاقوں میں مسلم لیگ(ن) کو کیوں نہیں جتوایا جہاں مکمل طور پر فوج کا کنٹرول ہے ۔ الیکشن سے پہلے جو پری پول رگنگ ہوئی ہے ‘ وہ زیادہ پی ٹی آئی کے حق میں اور بلوچستان میں بلوچ قوم پرستوں کے خلاف یا پھر پختون بیلٹ میں فوج مخالف سیاسی جماعتوں کے حق میں ہوئی ہے لیکن ملکی سطح پر ملک گیر دھاندلی کسی بھی ادارے نے نہیں کی ۔ دراصل مسلم لیگ(ق) اور تحریک انصاف کو جنرل کیانی سے دھاندلی کی نہیں بلکہ دھاندلی نہ کرنے کی شکایت ہے ۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت ناراض ہے کہ جنرل مشرف کے منصوبے کے مطابق 2008ء کے انتخابات میں دھاندلی کروا کر جنرل کیانی نے مسلم لیگ(ق) کو دوبارہ حکمران کیوں نہیں بنایا اور تحریک انصاف کے قائد کو شکوہ ہے کہ فوج کے بعض عناصر کے منصوبے کے مطابق جنرل کیانی نے نواز شریف کو آوٹ کر کے یا پھر براہ راست دھاندلی کروا کر عمران خان کو وزیراعظم کیوں نہیں بنوایا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں