افغان صدر کا دورہ اور مستقبل کے امکانات اور خدشات

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

میں آج سخت مشکل میں ہوں کہ فوج کے ترجمان جنرل باجوہ نے افغان صدر کے دورے سے اچھی توقعات وابستہ کی ہیں اور مجھے اس رائے سے اختلا ف کرنا ہے۔ میں جنرل باجوہ کے حُسنِ ظن کا احترام کرتا ہوں، فوج کی طرف سے بیان جاری کرتے ہوئے ظاہر ہے وہ سفارتی نزاکتوں کو پس پشت نہیں ڈال سکتے اور مجھے اپنی آزاد رائے کا اظہار کرنا ہے، اس لئے کبھی اختلاف رائے بھی حالات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور میں نے اسی امید پر قلم اٹھایا ہے۔ پہلے تو دو دن کی غیر حاضری کی معذرت، کچھ ذاتی پریشانیوں کی وجہ سے لکھنے کے لئے وقت نہیں نکال سکا، ایک روز تو قبلہ حافظ محمد سعید کی زوجہ محترمہ کی وفات پر عیادت میں گزر گیا۔ اللہ مرحومہ کو جنت عطا فرمائے اور پسماندگان خاص طور پر طلحہ بیٹے کو صبر جمیل عطا کرے۔ اُم طلحہ کو تاریخ ایک لیجنڈ کے طور پر یاد رکھے گی۔ وفات سے ایک روز قبل انہوںنے ایک ہزار خواتین کو درس قرآن سے بہرہ مند کیا تھا۔

افغان صدر نے اچھی اچھی باتیں کی ہیں اور اس کے لئے ان کا خصوصی شکریہ، ورنہ سابق صدر کرزئی نے ہمیشہ شعلوں کی زبان میں گفتگو کی اور کابل سے پاکستان کی طرف کبھی ٹھنڈی ہَوا کا جھونکا نہیں آیا مگر اب اشرف غنی کی خوشگوار باتیں تو رہیں ایک طرف، افغان سرحد سے پاکستان میں گولہ باری میں اضافہ ہو گیا ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ جنرل راحیل کے ساتھ اشرف غنی کی ملاقات بہت ہی خوشگوار رہی ہو۔ اس لئے کہ افغان گولہ باری میں ہماری فوج کے جوان اور افسر شہید ہو رہے ہیں اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ افغان سرزمین، دہشت گرد بھگوڑوںکے لئے جنت ہے اور پاکستان میں وہ جب چاہیں خون کی ہولی کھیل سکتے ہیں۔ مَیں سن 2002ء کا وہ دن نہیں بھولتا جب افغانستان پر امریکی یلغار ہونے ہی والی تھی اور مَیں نے اسلام آباد میں متعین افغان سفیر مُلا ضعیف کا انٹرویو کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان آپ کے لئے ہمیشہ مر مٹنے کے لئے تیار رہتا ہے مگر آپ پاکستان کے بھگوڑوں کا کھلے بازوؤں سے استقبال کرتے ہیں اور وہ کھلے عام آپ کے ملک میں مٹر گشت کرتے ہیں، پاکستان ان کو واپس طلب کرتا ہے مگرآپ کوئی تعاون نہیں کرتے۔ مُلا ضعیف نے کمال بھول پنے میں جواب دیا کہ ہم تو کسی کو پہچانتے نہیں۔ چلئے ان کی بات پر یقین کر لیتے ہیں لیکن موجودہ افغان قیادت سے یہ پوچھا جانا چاہئے کہ آپ ہر روز حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہیں، کیا آپ نے ان کو اپنے شناختی کارڈ جاری کر کے پاکستان میں دھکیل رکھا ہے۔

افغانستان کے لئے پاکستان نے کیا نہیں کیا اور میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ کیوں کیا، اتنا تو ہم نے مشرقی پاکستان کے لئے بھی نہیںکیا ہو گا۔ سوویت روس نے کابل پر جارحیت کی تو ہم پر کب لازم تھا کہ ہم افغانستان کے دفاع کے لئے قربانیاں دیں۔ دونوں ہمسائے کسی مشترکہ دفاعی معاہدے سے منسلک نہیں تھے، بہرحال ہم نے تن من دھن کی بازی لگا دی اور سوویت روس کو مار بھگایا، تو ہمارے ہاتھ کیا آیا؟ منشیات کا دھندہ، کلاشنکوف مافیا، فرقہ واریت ، افغان متحارب گروپوں کی کشمکش اور لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ۔
کابل کے تخت تک طالبان کو ہم نے اپنے ٹینکوں پر سوار کر کے پہنچایا مگر جیسے ہی نائن الیون ہوا اور امریکہ نے افغانستان پر ہلہ بولنے کے لئے پَر تولے تو ہم طالبان کے عشق کو بھول گئے۔ امریکہ نے اپنی فوجیں افغانستان میں اتاری تھیں لیکن اس نے ڈرون حملے ہمارے علاقوں میں کئے۔ ڈمہ ڈولا، سلالہ اور ایبٹ آباد بھی یہی ہوا۔ اس طرح امریکہ نے دہشت گردی کی جنگ ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے افغانستان کے راستے پاکستان میں منتقل کر دی اور پچھلے بارہ برسوںمیں یہ جنگ عملی طور پر ہماری سرزمین پر لڑی گئی جس نے ساٹھ ہزار بے گناہوں کی جانیں لے لیں، ان میں سویلین بھی شامل ہیں اور فوجی افسر اور جوان بھی۔ نائن الیون میں پاکستان کاکیا قصور تھا، کچھ بھی تو نہیں۔

ایک طرف پاکستان کی یہ بیش بہا اور بلاوجہ قربانیاں اور دوسری طرف پاکستان کے خلاف مستقل الزام تراشی۔ امریکہ کی طرف سے بھی اور افغانستان کی طرف سے بھی۔ افغان عوام اور افغان میڈیا بھی پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے میں پیش پیش رہے۔ اس کی کوئی منطق سمجھ میں نہیں آ سکتی سوائے اس کے کہ ہم بھی بلیم گیم کا سہارا لیں اور اس کے لئے بھارت کو موردِ الزام ٹھہرائیں، مگر بھارت نے ایسا کیا تو کیوںکیا، وہ بھی تو دہشت گردی کی جنگ میں امریکی حلیف تھا اور ہم بھی، ہماری اور ان کی زبان تو ایک سی ہونی چاہئے تھے، فکر و عمل یکساں ہونا چا ہئے تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ امریکہ کی کوشش بھی یہ تھی کہ جب وہ خطے سے نکل جائے تو بھارت ایک منی سپر پاور کی طرح اس علاقے کی قسمت کا مالک بن بیٹھے۔

افغان امور طے کرنے میں ایک کردار اور سامنے آ گیا ہے اور وہ ہے چین کا جس سے ہم دوستی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن افغان صدر نے پاکستان آنے سے پہلے چین کا دورہ کیا جہاں چینی صدر نے انہیں یقین دلایا کہ افغانستان کو کسی بھی بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے معاملات چلانے کا اختیار ہے۔ اس اعلان کا جو مطلب پاکستان میں لیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ چین کی یہ وارننگ پاکستان کے لئے ہے کہ وہ افغانستان کے امور میں منہ نہ مارے، چلئے جی، ہماری چالیس سالہ قربانیوں کا قصہ تمام ہوا۔ کہاں وہ وقت کہ ہم افغانستان کو اپنی دفاعی گہرائی قرار دیتے تھے اور کہاں یہ نوبت آ گئی کہ چین جیسا ہمارا قریبی دوست بھی ہمیں اس دفاعی گہرائی میں گھسنے سے منع کر رہا ہے، اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بھارت کی تعمیراتی کمپنیوں کو پہلے ہی ٹھیکے مل چکے ہیں اور وہ اپنے ورکروں کی سیکورٹی کے نام پر اپنی فوج کو پاکستان کی سرحد پر پھیلا چکے ہیں۔ ہم یہ بھی سنتے آئے ہیں کہ پاک افغان سرحد پر درجنوں بھارتی قونصل خانے کام کر رہے ہیں ان میں سے قندھار کے قونصل خانے سے بلوچستان کے شورش پسندوں کو اسلحے اور روپے پیسے کی امداد دینے کی خبریں عالمی ذرائع سے بھی ملتی ہیں۔ مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں ہمارے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے اس پر احتجاج بھی کر چکے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاک سرحد سے افغانستان میں مداخلت کا خطرہ درپیش ہے یا افغان سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دی جاتی رہے گی۔ اس سوال کا جو بھی جواب ہو، اس کا کوئی حل تلاش کرنا ضروری ہے اور میں نے پہلے بھی یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر بھارت جیسا، بڑی فوج رکھنے والا، ملک پاکستان کے ساتھ سرحد پر خاردار باڑ نصب کر سکتا ہے تو پاکستان اور افغانستان کو مل جل کر ڈیورنڈ لائن پر ایسی باڑ لگا لینی چاہئے تاکہ کسی بھی طرف سے دخل اندازی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ دوسرے اگر امریکی انخلا کے بعد حالات معمول پر آ جاتے ہیں تو ٹریک ون اور ٹریک ٹو کی طرز پر افغانستان سے بھی مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے جس میں پہلے تو یہی جاننے کی کوشش کی جائے کہ پاکستان اپنے ا س اسلامی ہمسائے کے لئے اور کیا قربانیاں دے کہ ہم کابلی حکومت، کابلی میڈیا اور افغان عوام کے نظروںمیں مجرم کے بجائے محسن قرار پائیں۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size