جنرل راحیل شریف کا دورہ امریکہ

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

16 نومبر 2014ء سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف امریکہ کا دور شروع کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ 2010ء سے کوئی پاکستانی آرمی چیف امریکہ کے دورے پر نہیں گیا۔ اِس لحاظ سے اِس دورے کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ اِس دورے پر جانے سے پہلے پینٹاگون نے یہ رپورٹ شائع کی کہ پاکستان، بھارت اور افغانستان میں دراندازی کررہا ہے۔ پاکستان کے احتجاج پر افغانستان میں عالمی افواج کے سربراہ جنرل جواینڈرسن نے ایک ویڈیو کانفرنس میں دوسرے ہی روز یہ بتایا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہا ہے اور اس نے حقانی نیٹ ورک جس کو امریکہ سب سے خطرناک دشمن قرار دیتا ہے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ سرحدپار کرگئے ہیں تو بھی امریکہ اُن سے وہاں نمٹ سکتا ہے۔ ویسے بھی جلال الدین حقانی ہمیشہ سے افغانستان میں مقیم رہے۔ دوسری طرف امریکہ نے بھارت کو تھپکی دی ہوئی ہے کہ وہ پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کو اشتعال دلائے مگر پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرکے اپنے آپ کو ایک طاقتور ملک کے طور پر پیش کیا ہے۔ اِس کے علاوہ امریکہ نے سابق امریکی اسسٹنٹ وزیر خارجہ اور پاکستان میں یو ایس ایڈ کی سربراہ رابن رافیل کے خلاف جاسوسی کا الزام عائد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی ملک کی جاسوسی کررہی تھیں۔

یہ ممکن ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف پر دبائو بڑھانے کا کام اِس الزام سے لیا جائے کیونکہ عموماً تاثر یہی ہے کہ رابن رافیل پاکستان سے ہمدردی رکھتی تھیں، لیکن یہ بات عام ہے مجھے 1992ء میں ایک امریکی سفیر جان منجو نے کہا کہ پاکستانی ہمارا اتنا خیال رکھتے ہیں اور ہمیں اتنی عزت دیتے ہیں کہ ہم امریکہ جا کر پاکستان کی تعریفیں کرتے ہیں تو وہاں ہم پر پاکستان کی لابی کا الزام لگ جاتا ہے تاہم پاکستان کے چیف آف دی آرمی اسٹاف کا دورئہ امریکہ انتہائی اہم ہے وہاں وہ پاکستان کا افغانستان میں کردار کی بات کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اگر امریکہ واقعی افغانستان کو ایک مستحکم ملک بنانا چاہتا ہے تو پاکستان کے لئے ایک کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ دسمبر 2014ء میں امریکہ افغانستان سے جزوی طور پر نکل رہا ہے اور وہاں تقریباً 10 ہزار افواج اور 20 ہزار غیرفوجی افراد رہیں گے۔ وہ اُن کی سلامتی کے لئے فکرمند ہے اور پھر کہا جارہا ہے کہ 2016ء میں اُن کی تعداد اور گھٹ جائے گی، اس لئے وہ پاکستان سے اچھے تعلقات چاہے گا۔ اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہوچکی ہے، پاکستان کے صدر ممنون حسین نے افغانستان کے صدر کی حلف برداری میں 29 ستمبر 2014ء کو شرکت کی تو پاکستان نے افغان صدر سے خیرسگالی کے پیغام کے علاوہ افغانستان کی مدد کرنے کا بھی اظہار کیا تو افغان صدر نے چین کو شامل رکھنے کی تجویز دی جو پاکستان نے مان لی۔ یہی وجہ ہے کہ افغان صدر چین گئے اور پھر پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے۔ پاکستان کے چیف آف دی آرمی اسٹاف نے بھی افغانستان کا دورہ کیا،انہوں نے وہاں ایک اچھی تجویز دی کہ وہ افغانستان کی مسلح افواج کے ایک پیدل فوج کے بریگیڈ کو نہ صرف تربیت دینے کو تیار ہیں بلکہ اُن کو پاکستانی اسلحہ سے مسلح کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں تاکہ افغانستان کو یقین آجائے کہ پاکستان افغانستان کی فلاح کا خواہشمندہے۔ پاکستان کے تربیت یافتہ افغان فوجی اُن دہشت گردوں سے لڑیں گے جن سے افغانستان کو خطرہ ہے چاہے وہ کوئی بھی گروپ ہوں۔

افغان صدر شاید یہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان افغان طالبان سے افغان حکومت کے مذاکرات کرانے میں اپنے تعلقات استعمال کرے۔ پاکستان اس کے لئے بھی تیار ہے۔ اس طرح پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کا دور امریکہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، وہ پاکستان کے چار سال بعد امریکہ جانے والے پہلے آرمی چیف ہوں گے اور اُن کی جہاں یہ کوشش ہوگی کہ پاکستان اور امریکی افواج کے درمیان تعلقات قائم ہوں تو اُن کی یہ بھی کوشش ہوگی کہ پاکستان کا افغانستان میں کردار متعین ہو۔ وہاں سے بھارت کا اثرورسوخ کم ہو۔ جلال آباد اور قندھار میں بھارتی قونصل خانے بند ہوں اور بھارت پاکستان میں مداخلت بند کرے۔

پاکستان کی یہ بھی خواہش ہوگی کہ ڈرون حملے بند ہوں اس سے پاکستان کو نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ طالبان نے پھر سے یہ پروپیگنڈا شروع کردیا ہے کہ آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ میں امریکی حمایت شامل ہے۔ امریکہ پاکستان کو اعتماد میں لے کر پاکستان سے اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کراسکتا ہے۔ ورنہ پاکستان کو کوئی اور انتظام کرنا پڑے گا۔ آرمی چیف کی بھارت اور پاکستان کے درمیان خوامخواہ کی کشیدگی بھی ایک موضوع گفتگو ہوگا کیونکہ پاکستان میں عمومی طور پر یہ خیال ہے کہ سرحدوں پر اشتعال انگیزی امریکی ایماء پر کی جارہی ہے۔ ساتھ ساتھ افغانستان سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد پاکستان کو مغربی سرحدوں پر افواج رکھنے کے لئے جو تعاون فنڈز ملتے تھے وہ بند ہوجائیں گے اس لئے پاکستان کی مسلح افواج امداد کے لئے امریکہ کو امداد دینے کا نیا طریقہ وضع کرنا پڑے گا۔ اچھا ہوا کہ روس نے اُن کے دورے سے پہلے ایم آئی 35 گن شپ ہیلی کاپٹر پاکستان کو بیچنے کا ارادہ ظاہرکردیا جس سے پاکستان کو گفتگو میں مدد ملے گی۔ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف امر یکی وزیر دفاع چیک ہیگل، چیئرمین جوائنٹ اسٹاف کمیٹی جنرل مارٹن ڈیمسی، جنرل الائیڈ آسٹن مرکزی کمانڈ کے سربراہ سے ملاقاتیں کریں گے، اُن کے اِس دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی اخبار یو ایس آرمی ٹائمز کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دور امریکہ کے دوران اس بات کا امکان ہے کہ امریکی حکام کے ساتھ مستقبل میں ڈرون حملوں پر تبادلہ خیال کیا جائے۔

یو ایس آرمی ٹائمز نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ یہ اکتوبر 2010ء کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ کا پہلا امریکی دورہ ہوگا، اس وقت دونوں افواج کے مابین تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جنرل راحیل شریف کا یہ امریکہ کا پہلا دورہ ہوگا۔ واشنگٹن میں کونسل برائے خارجہ تعلقات ڈینائل مارکے کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کی جائے کہ آیا اس سال افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان میں ٹارگٹڈ حملوں کی امریکی مہم میں ڈرون کا استعمال کیا جانا چاہئے۔ یو ایس آرمی ٹائمز نے یاد دلایا ہے کہ امریکہ اس وقت بھی پاکستانی طالبان کو نشانہ بنارہا ہے جو دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔ امریکی فوج کے اخبار نے سوال اُٹھایا ہے کہ اگر امریکہ حقانی نیٹ ورک جیسے گروہوں پر حملہ کرتا ہے تو اس صورت میں پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا؟ ڈینائل مارکے کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف پاکستان کے بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات پر بھی بات کرنا پسند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف واشنگٹن کو شاید اس طرح قائل کرنا چاہیں گے کہ بھارت کو پُرسکون رکھنا ہمارے مفاد میں ہے۔ ڈینائل نے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ وہ اس مقصد کو حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہیں گے۔ اِن تبصروں سے پاکستانی آرمی چیف کا دورہ امید کی کرن نظر آتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں