شراب اقتدار اور سیاست!

عطاء الحق قاسمی
عطاء الحق قاسمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سیانوں سے سنا ہے کہ اقتدار اور سیاست کا نشہ شراب کے نشے سے زیادہ ہوتا ہے تاہم یہ جڑواں ہیں، چنانچہ دونوں کا نشہ ملتا جلتا ہے۔ میں نے گزشتہ دنوں ارباب اقتدار اور ارباب سیاست کو شرابیوں کے لطیفے سنائے مگر عجیب بات ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی ان لطیفوں کو انجوائے نہیں کیا۔ بعض نے تو اِن لطیفوں کی سنجیدہ تشریح کر کے سارا مزا ہی کرکرا کر دیا، کچھ نے اتنی مہربانی کی کہ ان لطیفوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بس بُرا سا منہ بنا کر رہ گئے، چند مثالیں ملاحظہ ہوں!

جناب محمد نواز شریف:

چند شرابی رات گئے تک مے نوشی میں مشغول رہے، حتیٰ کہ ان کی مت پوری طرح ماری گئی اور ان کا اپنے اپنے گھروں تک پہنچنا مشکل ہو گیا، ان میں سے ایک جو قدرے کم نشے میں تھا، اپنے ساتھیوں کو کار میں ڈال کر انہیں ان کے گھر پہنچانے گیا۔ اس نے ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے خاتون خانہ باہر نکلی، شرابی نے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا ’’بھابی آپ جلدی سے ان میں سے اپنا شوہر پہنچانیں، میں نے ابھی باقیوں کو بھی ان کے گھر پہنچانا ہے۔‘‘

میاں نواز شریف یہ لطیفہ سن کر متفکر نظر آئے، بولے ’’ان دنوں مجھے بھی اپنے ساتھیوں کی پہچان میں دشواری ہو رہی ہے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ان میں سے کون کس طرف ہے کچھ دوست دشمنوں سے زیادہ دشمن لگتے ہیں اور کچھ دشمنوں کی صورتیں دوستوں سے ملتی ہیں، میں ان دنوں حضرت جی سے ملوں گا شاید وہ کچھ بتا سکیں۔‘‘

جناب آصف علی زرداری:

ایک امریکی خاتون بار میں لڑکھڑاتی ہوئی نکلی، رستے میں اسے قے محسوس ہوئی تو سڑک کے کنارے دھرے ڈرم میں قے کرنے کے لئے جھکی لیکن نشے کی زیادتی کی وجہ سے وہیں گر کر بے ہوش ہو گئی، ایک سردار جی ادھر سے گزرے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک خاتون جس کا سر ڈرم میں اور ٹانگیں باہر کو لٹکی ہوئی ہیں بالکل بے سدھ پڑی ہے، سردار جی اسے اٹھا کر اپنے فلیٹ میں لے گئے، رومال سے اس کا چہرہ صاف کیا، اسے بستر پر لٹایا اور پھر اپنے روم میٹ کو بلا کر تاسف بھرے انداز میں کہا ’’ہرنام سیاں یہ امریکی قوم بھی بڑی فضول خرچ ہے، اس خاتون کو دیکھو، یہ ابھی دوچار سال چل سکتی تھی لیکن یہ اسے ڈرم میں پھینک گئے ہیں۔‘‘

زرداری صاحب نے لطیفہ سنا تو کہا ’’یہی بات تو میں قوم کو سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہوں مگر میری قوم کو سمجھ ہی نہیں آتی، کوئی بات نہیں، میں کون سا اعتکاف میں بیٹھ گیا ہوں!

جناب عمران خان:

ایک شرابی نے شراب خانے میں داخل ہوتے ہی ویٹر سے کہا کہ آج تم سب لوگ میرے خرچ پر شراب پیو گے اور ہاں منیجر کو بھی میری طرف سے خوب پلائو، تم سب لوگوں کا بل میں ادا کروں گا چنانچہ اس کے اصرار پر ایسا ہی کیا گیا لیکن جب ادائیگی کے لئے اسے بل دیا گیا تو اس نے جیبیں ٹٹولنے کے بعد کہا کہ اس کے پاس تو ایک بھی پیسہ نہیں ہے جس پر منیجر نے پولیس کو فون کیا جو اسے پکڑ کر لے گئی، چھ مہینے کی قید کاٹ کر یہ شخص واپس اسی شراب خانے میں آیا اور ایک دفعہ پھر اپنی پیشکش دہرائی، بس اس میں اتنی ترمیم کی کہ اس دفعہ منیجر کو اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا اس پر منیجر نے وجہ پوچھی تو شرابی نے کہا ’’تم شراب پی کر آئوٹ ہو جاتے ہو اور پھر فون کر کے پولیس بلا لیتے ہو۔‘‘

میں نے یہ لطیفہ جناب عمران خان کو سنایا تو انہوں نے کہا ’’شرابی کا فیصلہ صحیح تھا۔‘‘ اب کے خود ہم نے بھی ’’منیجر‘‘ کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا ہے دھرنے کو تین ماہ ہو گئے ہیں نہ حکومت لفٹ کراتی ہے نہ عوام نہ ایجنسیاں ویسے ہمارے نمائندے ان دنوں بیرون ملک ہیں ان میں ایک تو بیس نومبر کو واپس آ رہا ہے، امید ہے وہ اچھی خبر ہی لائے گا!‘‘

جناب طاہر القادری:

ایک شخص شراب کے نشے میں دھت اپنے گھر پہنچا اور دروازے پر لگا تالا کھولنے کی کوشش کرنے لگا مگر نشے کی زیادتی کی وجہ سے اس کا ہاتھ ہل جاتا اور چابی اِدھر اُدھر پھسل جاتی۔ ایک راہ گیر نے اسے پریشان دیکھا تو وہ آگے بڑھا اور بولا ’تم چابی مجھے دو‘ میں تمہیں تالا کھول دیتا ہوں۔ ’’شرابی نے کہا‘‘ نہیں۔ اس کی ضرورت نہیں تم صرف مکان کو پکڑ کر رکھوں تالا میں خود کھولوں گا۔‘‘

جب طاہر القادری صاحب نے یہ لطیفہ سنا تو وہ بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے ’’کمال ہے، میرا بھی ہو بہو یہی مسئلہ ہے، تالا کھولنے کے لئے چابی تو صحیح ڈالتا ہوں مگر مکان ہلنے کی وجہ سے چابی ادھر ادھر ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں میرے کشف اور الہامات پر بھی حرف آتا ہے۔ آپ مجھے مشورہ دیں کہ مکان پر کنٹرول کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟

جناب اسفند یار ولی:

ایک سردار جی سڑک پر بھنگڑا ڈال رہے تھے اور بڑھکیں لگا رہے تھے کسی نے پوچھا ’’کیا بات ہے سردار جی، پی ہوئی ہے؟‘‘ بولے ’’نہیں ایک دوست بوتل لینے گیا ہوا ہے۔‘‘

یہ لطیفہ میں نے اسفند یار ولی صاحب کو سنایا اس وقت ان کے پاس بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے یہ سب لوگ لطیفہ سن کر سخت برافروختہ ہوئے مگر خان صاحب نے ادھر ادھر دیکھ کر ہولے سے میرے کان میں کہا ’’آپ تو اندر کی باتیں جانتے ہیں، میں آپ سے راز داری کا وعدہ کرتا ہوں، یہ بتائیں کہ واقعی کوئی ’’بوتل‘‘ لینے گیا ہوا ہے؟‘‘ پچھلی دفعہ تو ہمارے ساتھ دھوکا ہو گیا!‘‘

جناب الطاف حسین:

ایک بھلے مانس نے اپنے شرابی دوست سے کہا ’’شراب اتنی نقصان دہ چیز ہے کہ اگر یہ کسی درخت کی جڑوں میں انڈیلی جائے تو وہ درخت ہمیشہ کے لئے سوکھ جاتا ہے۔‘‘ شرابی نے یہ سن کر کہا ’’اس کا مطلب یہ ہے اگر کسی کے پیٹ میں درخت ہو تو اسے شراب نہیں پینا چاہئے۔‘‘

میں نے یہ لطیفہ الطاف حسین صاحب کو سنایا تو انہوں نے بھرپور قہقہہ لگایا اور کہا ’’آپ یہ لطیفہ مجھے کیوں سنا رہے ہیں؟ ان لوگوں کو سنائیں جنہوں نے ہمارا تعاون بھی حاصل کیا اور ہمیں وہ کچھ حاصل بھی نہ ہوا جو ہم چاہتے تھے مگر کوئی بات نہیں ہم نے بھی ان کی جڑوں میں اقتدار کی شراب انڈیل رکھی ہے نتیجہ تو سامنے آئے گا۔‘‘

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size