نئے پاکستان کا خاکی خاکہ

مطیع اللہ جان
مطیع اللہ جان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سخت گرمی کے دنوں میں پسینے سے شرابور صرف دھوتی زیب تن کئے ایک دیہاتی اونچے درخت کی دو شاخوں پر ایک ایک پیر جمائے کھڑا بیر توڑ کر کھا رہا تھا۔ نیچے سے گزرتے پڑوسی کی نگاہ اوپر کی جانب اٹھی تو اس نے پوچھا ”اے کی ہوریا اے“؟ (یہ کیا ہورہا ہے؟)۔ دیہاتی نے نیچے دیکھے بغیر ہی ایک اور بیر منہ کی جانب اچھالا اور بولا ” توانوں تے پتہ اے ساڈے دو ای شوق نیں، چنگا کھانا تے چنگا پانا“ (آپ کو تو پتہ ہے کہ ہمارے دو ہی شوق ہیں اچھا کھانا اور اچھا لباس)۔ یہ کہہ کر درخت پر چڑھے دیہاتی نے ایک بیر پرتجسس پڑوسی کی طرف اچھال دیا اور کہا کہ ”لیہ! تو وی کھا ‘کی یاد کریں گا“ (لو! تم بھی کھاو¿، کیا یاد کرو گے)

آج کل نیا پاکستان بنانے والوں کے اندازوافکار بھی اس دھوتی والے دیہاتی سے کچھ مختلف نہیں۔ عوامی مینڈیٹ کی چوری پر ماتم کرنے والے فوجی بینڈ والی بارات کی منتظر دلہن کی طرح تیار بیٹھے ہیں۔ ایک طرف عوام کے سمندر کی لہروں پر ناز کیا جاتا ہے تو دوسری طرف اپنی کشتی کو اقتدار کے کنارے لگانے واسطے عسکری چپوو¿ں کا مطالبہ۔ آخر عمران خان کے ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے افسران کے ذریعے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبے کو اور کیا کہا جائے۔ پرانے پاکستان میں تو نوازشریف اور آصف زرداری بھی درخت پر چڑھے دھوتی والے دیہاتی کے شوق رکھتے تھے اب اگر نئے پاکستان کے بانی عمران خان بھی ایسا کریں گے تو عوام کدھر جائیں۔ ویسے بھی عمران خان تو اپنے آپ کو نوازشریف اور آصف زرداری سے بہتر سمجھتے ہیں۔ حقیقت تو شائد تحریک انصاف کے فنکار سیاستدان ابرارالحق نے گنگنا دی ہے۔ ایک خبر کے مطابق ابرار الحق نے کہا ہے کہ ایم آئی اور آئی ایس آئی کے ذریعے دھاندلی کی تحقیقات کی پیشکش خود آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے عمران خان سے ملاقات میں کی تھی۔ امید ہے آئی ایس پی آر کے سربراہ اس پر بھی کوئی ٹویٹ عنایت فرمائیں گے۔

آرمی چیف سے عمران خان کی ملاقات پر تنازعہ اور ایمپائر کی انگلی کے نعرے پر تنقید کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ خان صاحب اپنے ماتھے پر آرڈیننس فیکٹری واہ کی مہر سے جان چھڑانے کی کوشش کریں گے مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ لگتا ہے کہ نئے پاکستان کے خاکے میں صرف خاکی رنگ ہی بھرا جائے گا اور جمہوریت خاکستر ہو جائے گی۔ خان صاحب کی حکومت عدلیہ اور پارلیمنٹ پر بداعتمادی اور فوچ پر اعتقاد کل دیکھ کر نئے پاکستان کے خدوخال نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ نظریہ نیا پاکستان کے مطابق خان صاحب کی جمہوریت کسی وٹا بال (کرکٹ میں کرائی جانے والی غیر قانونی گیند) سے کم نہ ہوگی جس میں سربراہ مملکت آرمی چیف ہوں گے جو وزیراعظم عمران خان نیازی سے ملک سے وفاداری اور اس کے دفاع کا حلف لیں گے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے عہدے پر ایڈوکیٹ جنرل اور ججوں کی جگہ اسی جیگ برانچ کے دوسرے اعلی افسران تعینات ہوں گے۔ کابینہ میں وزارت دفاع کیلئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی موزوں رہیں گے۔ وزارت تعلیم و مذہبی امور کیلئے آرمی ایجوکیشن کور کے سربراہ موثر ثابت ہوں گے، وزارت صحت کیلئے کورکمانڈر آرمی میڈیکل کور، ٹیلی مواصلات کی وزارت کیلئے کورکمانڈر سگنل کور، مواصلات و شاہراہوں کی وزارت انجینئرز کے کورکمانڈرز، وزارت داخلہ کیلئے انفنٹری کے سربراہ، وزارت تجارت کیلئے کینٹین اور سٹورز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ، وزارت خوراک کیلئے ملٹری فارمز اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے الیکٹریکل اینڈ کمیکل انجینئرنگ کور اور وزارت دفاعی پیداوار کیلئے آرڈیننس فیکٹری کے سربراہ مناسب رہیں گے۔ خلائی تحقیقات و سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت پاک فضائیہ کے سربراہ کو جچے گی جبکہ بحریہ کے سربراہ پانی و بجلی کی وزارت کے ساتھ ملک میں بجلی کا بحران سمندری پانی کے ذریعے ختم کر پائیں گے۔

اصل مسئلہ وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی کا ہوگا جس کیلئے طالبان شوری سے نام مانگا جا سکتا ہے۔ اسی طرح وفاقی شرعی عدالت کی سربراہی اور ججوں کیلئے بھی اچھے مسلمانوں کی تلاش تحریک انصاف کیلئے ایک معمہ بن سکتی ہے۔ رہ گئی بات چیف الیکشن کمشنر اور کمشن کے دوسرے اراکین کی تو ملک میں صاف و شفاف انتخابات کرانے اور انتخابی دھاندلی کیخلاف ثبوت اکٹھے کرنے کی ازلی مہارت کے پیش نظر آئی ایس آئی کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ سربراہان یہ کام بخوبی سرانجام دے سکتے ہیں۔ 2000ءکے شفاف انتخابات کا انتظام کرنے کا کامیاب تجربہ کرنے کا فاخرانہ اقرار تو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احسان الحق نے بھی ڈان ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔ آئی ایس آئی کے سربراہان کا ذاتی ایک ووٹ ڈالنے کے تجربے کے بارے میں تو کچھ کہنا مشکل ہے تاہم ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ جنرل احتشام ضمیر نے ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کا پہلا ووٹ 2013 کے انتخابات میں ڈالنے کا اقرار کیا اور وہ بھی بلے کو‘ اس سے پہلے وردی میں ہوتے ہوئے شاید وہ بھی ملک و قوم کے لاکھوں ووٹوں کی خاطر اپنا ووٹ ڈالنا بھولتے رہے اب دیکھیں جنرل پاشا اپنا ایک ذاتی ووٹ کسے ڈالتے ہیں بہرحال ایسا الیکشن کمشن نئے پاکستان میں اہم کردار ادا کرے گا اسی طرح طاہر القادری صاحب کے چھوٹے صوبوں کے مطالبے کے مطابق کم از کم اتنے صوبے بنا دیئے جائیں جتنے کور کمانڈر ہیں جس سے گورنروں کی تقرری کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

یہ سب کچھ ہونے کے بعد سیاستدانوں کو مصروف رکھنے کے لئے انہیں کلاشنکوفیں دے کر سرحدوں پر بھیج دیا جائے کیونکہ یہ سیاستدان ویسے بھی سیاست میں اتنی مہارت نہیں رکھتے جتنی کلاشنکوف چلانے میں‘ اسی طرح چند دوسرے ادارے جیسے سٹیٹ بنک آف پاکستان عسکری بینک اور وزارت اطلاعات و نشریات‘ آئی ایس پی آر کے تجربہ کار سربراہ کے حوالے کی جا سکتی ہے۔ خان صاحب یقیناً اچھی خوراک اور اچھے لباس والے نئے پاکستان پر یقین رکھتے ہیں اور اسی لئے ان کی ہڈیاں بقول ان کے خود پینتیس سالہ نوجوان کی طرح مضبوط ہیں۔ اب دیکھیں دھوتی پہنے وہ دیہاتی درخت سے کب اترتا ہے اور خان صاحب کنٹینر سے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size