.

امارات کی فیصلہ کن بلیک لسٹ

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات سعودی عرب کے بعد دوسرا خلیجی عرب ملک ہے جس نے یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ کو دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے۔یہ قدم بہت سے پہلوؤں سے اہمیت کا حامل ہے۔خاص طور پر اس سے ایک ایسے خطے میں تعلقات کا ازسرنو تعیّن ہوا ہے کہ جس میں خطرناک سیاسی تبدیلیاں رو نما ہورہی ہیں۔اس گروپ کو اس لیے بلیک لسٹ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ ایران سے ہدایات وصول پارہا تھا اور وہ یمنی ریاست پر علاقائی جنگ کے لیے قابض ہورہا تھا۔

حوثی تحریک ان چوراسی گروپوں میں شامل ہے جنھیں یو اے ای نے ہفتے کے روز سرکاری طور پر دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔امارات کے اس اقدام پر بعض جماعتوں اورخاص طور پر اخوان المسلمون سے وابستہ میڈیا ذرائع نے اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔اخوان المسلمون دہشت گرد تنظیموں کی اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

یہ میڈیا ذرائع اخوان المسلمون کے نام کی شمولیت پر زیادہ شوروغوغا نہیں کررہے ہیں بلکہ اس فہرست سے لبنان کی حزب اللہ کے نام کے اخراج پر زیادہ واویلا مچا رہے ہیں اور انھوں نے اس کی مذمت کی ہے حالانکہ یو اے ای نے حزب اللہ کو بہت عرصہ قبل بلیک لسٹ کردیا تھا اور اس پر پابندی عاید کردی تھی۔

امارات کی اس فہرست میں حزب اللہ کے بعض علاقائی دھڑے شامل ہیں۔ان میں سعودی عرب کے علاقے حجاز سے تعلق رکھنے والی حزب اللہ کا نام ہے۔یہ گروپ ایران سے ہدایات وصول کرتا ہے۔خلیجی علاقے میں حزب اللہ ،بدر تنظیم اور عراق کی شیعہ ملیشیا اصیب اہل الحق کے نام فہرست میں شامل ہیں۔یہ تمام انتہا پسند شیعہ گروپ ہیں۔

اس فہرست میں متعدد انتہا پسند سنی تنظیمیں شامل ہیں۔ان میں القاعدہ ،دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) حرکۃ الاحرارالشام ،انصارالشریعہ لیبیا، انصارالشریعہ تیونس ،انصار بیت المقدس مصر،الجماعۃ الاسلامیہ مصر،اجناد مصر اور خلیج اور جزیرہ نما عرب کی اُمہ جماعتیں۔موخرالذکر تمام جماعتیں انتہا پسند سلفی گروپ ہیں۔

ماضی میں دہشت گرد گروپ اپنی تعداد کے اعتبار سے محدود ہوا کرتے تھے اور ان کے واضح پلیٹ فارمز ہوتے تھے۔تاہم آج ایک تہائی عرب ممالک میں افرتفری اور جنگوں کے نتیجے میں ان گروپوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ بہت سے لوگوں کی نظروں میں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔

ایسی فہرستیں ہمیشہ ممالک کے پاس موجود رہی ہیں۔تاہم ان کو داخلہ اور خارجہ امور کی وزارتوں تک محدود کردینا سیاسی طور پر کوئی فائدہ نہیں دے سکتا کیونکہ ان تنظیموں کو محدود کرنے کے لیے ان کے ناموں کو منظرعام پر لانا اہم ہے۔مثال کے طور پر اس طرح حوثی باغیوں کو یہ پتا چلے گا کہ یمن میں کمزور عبوری حکومت کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کے مخالف ہیں۔چنانچہ پھر حوثی یہ دیکھیں گے کہ وہ کس کیمپ کو ترجیح دیں گے۔

امارات کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست پر سب سے زیادہ اعتراضات اخوان المسلمون کی جانب سے وارد کیے گئے ہیں۔اخوان دراصل اس وقت دوسری جماعتوں کی جانب سے یو اے ای کے ساتھ ایک لڑائی لڑرہی ہے اور وہ جو بھی جواز پیش کررہی ہے،انھیں دراصل ان کی مذمت کے لیے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لبنان کی حزب اللہ کا اس فہرست میں نام شامل نہیں ہے لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ اس جماعت کو یو اے ای نے بہت عرصہ قبل دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔حزب اللہ ایک طویل عرصے سے خود اخوان المسلمون کی بھی اتحادی ہے۔اخوان کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی اور دانشور گروپ ہیں اور اس کو بھی داعش اور القاعدہ جیسی جماعتوں کی فہرست میں شامل کرنا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔یہ ماضی میں درست تھا۔تاہم مصر اور غزہ میں رونما ہونے والے واقعات اور خلیج میں اخوان المسلمون کی سرگرمیوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ گروپ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کو بروئے کار لانے سے ہچکچائے گا نہیں اور آج کے مصر میں ایسا ہی ہورہا ہے۔

اخوان المسلمون میں جڑیں رکھنی والی حماس نے غزہ میں اقتدار پر قبضے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی مخالف جماعت فتح کے بیسیوں ارکان کو قتل کردیا تھا۔خلیج میں اخوان المسلمون کے گروپ مقامی حکومتوں کے خلاف بغاوت پر زوردے رہے ہیں۔ذرا سوچیے کہ کیا یہ مناسب ہوگا کہ اقتدار پر قبضے کے لیے عرب بہاریہ کی افراتفری کی لہر کے گھوڑے پر سوار ہوا جائے۔جب یہ ایسا کرنے میں ناکام رہی تو اس نے ان ممالک میں اپنے بیرونی مخالفین کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا۔

اخوان المسلمون کے سیاسی اور عسکری شعبوں کا کردار گذشتہ تین سال کے دوران مسخ ہوچکا ہے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل قریب قریب اور مل کر کام کررہے ہیں۔اس سے یواے ای اور دوسرے ممالک یہ بات سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ وہ اخوان کو داعش سے بھی زیادہ خطرناک سمجھیں۔طوائف الملوکی کے موجودہ مرحلے میں تمام چیزیں بالکل واضح ہونی چاہئیں تاکہ ہرکوئی یہ جان سکے کہ کیا ہورہا ہے اور ایک دشمن اور دوست میں کیا تمیز ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.