تجھے کوئی دیکھے تو جلتا ہے دل

ڈاکٹر عارفہ صبح خان
ڈاکٹر عارفہ صبح خان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

کھسیانی بلی کھمبا نوچے کا محاورہ زبان زد عام ہے مگر آج کل کھسیانی بلیوں کے ساتھ ”کھسیانی بلوں“ کی تعداد میں بھی روز افزوں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی پہلے چِڑ مشہو راداکارہ مسرت شاہین تھیں۔ اب عمران خان بن گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے مزاحیہ اور غیر سیاسی بیانات نے انہیں کافی نان سیریس سیاستدان بنا کر رکھ دیا ہے۔ اب اللہ کے فضل و کرم سے اسفند یار ولی اور محمود اچکزئی نے بھی مولانا کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا۔ اسفندیار ولی نے دو دن پہلے اعتراض کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پی کے ساری رات بھنگڑے ڈال کر دن کو کیا کام کرینگے اس بیان میں پی کے پر خاصا زور تھا۔ اسفند یار ولی کو بخوبی علم ہونا چاہئے کہ صوبہ ”خیبر پی کے“ پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں ”پینے کا شغل“ سب سے کم ہوتا ہے جہاں چوری ڈاکے زنا اور ریپ سب سے کم ہوتے ہیں۔ ”پی کے“ ٹن ہونے کا کام سب سے زیادہ پنجاب اور سندھ میں ہوتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کے ایک سیاستدان ”پی کے“ جس طرح مست ہو کر ایک تھیٹر کی عورت کے ساتھ ناچے تھے۔ اس پر تو کسی کی غیرت نہیں جاگی کسی مولانا کا فتویٰ نہیں آیا‘ کسی نے نوٹس نہیں لیا مگر عمران خان کا جوش سے ہاتھ ہلانا بھی ”ناچنا“ نظر آتا ہے۔ اسفند یار ولی نے یہ بھی کہا کہ کپتان کا کنٹینر پر کھڑے ہو کر چلنا تبدیلی ہی تو ہے۔

اسفند یار ولی اپنی غیر مقبولیت سے خائف ہو کر عمران خان پر بزدلانہ حملے کر کے اپنی ذہنی حالت اور سیاسی پسماندگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ جدی پشتی سیاستدان ہونے کے باوجود آج پاکستان میں انہیں تین کروڑ لوگ بھی نہیں جانتے۔ یہ کھسیاہٹ نہیں تو اور کیا ہے۔ رہ گئے مولانا فضل الرحمٰن تو ان کی وجہ شہرت انکے تیر و تفنگ میں بجھے زہریلے ریمارکس ہیں۔ اسکے علاوہ ہر حکومت میں گھس بیٹھنے اور حصہ مارنے کی عادت ہے۔ نیز کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کے علاوہ مولانا ڈیزل کی حیثیت سے انکی شہرت ملک کے کونے کونے میں بلکہ سرحدیں پار کر چکی ہیں۔ پھبتیاں کسنے کے فن میں بھی یدطولیٰ رکھتے ہیں شہرت کے شوق میں اکثر لوگ گمراہیاں اور بدنامیاں بھی اپنا لیتے ہیں تاکہ کسی طرح مشہوری تو ہو۔ اب بھلا مولانا فضل الرحمٰن اور اسفند یار ولی ‘ محمود اچکزئی جیسے گیٹ اپ والوں کا عمران خان سے کیا موازنہ .... وہ تمام لوگ جو عمران خان کیخلاف برسر پیکار ہیں دراصل ان پر کھسیانی بلی کھمبا نوچے کا محاورہ فٹ آ تا ہے کہ جو کچھ وہ خود نہیں کر سکتے۔ عمران خان کو کرتا دیکھ کر سر سے پاﺅں تک جل جاتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ فضل الرحمٰن‘ محمود اچکزئی‘ اسفند یار ولی یا پھر نوازشریف‘ آصف زرداری‘ شہباز شریف‘ قائم علی شاہ یا پرویز رشید ناچتے ہوئے کیسے لگیں گے۔ ذرا اپنی چشم تصور سے نظارہ کیجئے اور لبوں سے ابلتے قہقہوں کو کنٹرول کیجئے یعنی پاکستان میں یہ بیماری پولیو اور کینسر سے زیادہ شدید ہے کہ جو کام کوئی آدمی خود کرنے ”جوگا“ نہیں ہوتا‘ دوسرے کو کرتا دیکھ کر حسد کی آگ میں جل جاتا ہے اس سارے عرصے میں پرویز رشید نے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کر کے نوکری پکی کی ہے حالانکہ یہ نری کچی نوکری ہے‘ ابھی 30 نومبر کو تختہ الٹ گیا تو پرویز رشید کے گلے سے آواز بھی خارج نہ ہو سکے گی۔ حال ہی میں پرویز رشید نے کہا کہ عمران سفید جھوٹ بول رہے ہیں‘ وزیراعظم نے انہیں ملاقات کےلئے بلایا ہی نہیں ‘ پہلی بات تو یہ ہے کہ شکر کریں عمران خان سفید جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ لوگ تو جھوٹ بھی کالے دھن کی طرح کالے ہی بولتے ہیں۔

کرپشن کا شور مچا کر کرپشن کے ریکارڈ توڑتے ہیں۔ میرٹ کے نام پر موجودہ حکومت نے میرٹ کی دھجیاں اڑا ڈالی ہیں۔ جتنا استحصال میرٹ کا کیا ہے اور کرپشن کے جو عالمی ریکارڈ قائم کئے ہیں اور انصاف جتنا زیادہ خون کے دریا بہائے ہیں.... اگر ان کا حساب اور احتساب ہوا تو یہ لوگ کہاں جائیں گے ؟؟؟؟ مثال کے طور پر مریم نواز کے غیر آئینی اور میرٹ کے خلاف یوتھ لون کی چیئرپرسن بننے پر اس قدر زیادہ اعتراضات‘ ناراضگیاں اور اشتعال و ردعمل آیا مگر مریم نواز نے تمام تر اعتراضات کے باوجود عہدہ نہیں چھوڑا جب لوگوں نے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے اور بتایا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ‘ قابل اور اہل لوگ تو بیروزگار بیٹھے ہیں اور وزیراعظم کی بیٹی واجبی تعلیم اور ناتجربہ کاری کے باوجود ایک بہت بڑے عہدے پر متمکن کر دی گئی ہے تو لاہور ہائیکورٹ بھی ایکشن میں آ گئی۔

لاہور ہائیکورٹ کی جواب طلبی نیز اپنے خلاف فیصلہ آنے کے ڈر سے مریم نواز نے استعفیٰ دے دیا۔ ویسے تو یہ بھی کافی دلچسپ اور حیران کن عمل ہے کہ مریم نواز کے روزانہ ٹوئٹر پر ”عمران خان“ کے حوالے سے ہی ذومعنی جملے کیوں ہوتے ہیں۔ نفسیات کی رو سے یہ بھی ایک طریقہ ہوتا ہے کہ آپ اس طرح کسی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائیں۔ اس ملک میں روزانہ سینکڑوں واقعات اور حادثات رونما ہوتے ہیں۔ مریم نواز کی معلومات اور علم اتنا محدود ہے کہ کبھی کسی اور موضوع پر دو جملے کا ٹوئٹ سامنے نہیں آیا۔ آج کل کیپٹن صفدر بھی منظر سے غائب ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ وزیراعظم کے شاہانہ دور سے ختم ہونے میں نہیں آتے اور وہ یہ دورے ہنی مون کی طرح منا کر آتے ہیں۔ کلثوم نواز بھی زرق برق قیمتی ملبوسات کے ساتھ سج دھج سے جاتی ہیں۔ آفرین ہے ان لوگوں کی بے حسی اور بے رحمی پر.... کہ تھر میں بھوک ننگی ہو کر ناچ رہی ہے ‘ موت نے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ ملک میں پولیو نے زہر پھیلا رکھا ہے۔

ڈینگی نے خون پی رکھا ہے‘ ہیپا ٹائٹس بی اور سی اس طرح پھیلا ہوا ہے جیسے عفریت کا جال!! بیروزگاری نے آدھے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ دہشتگردی نے پاکستان کو ہر طرف رسوا کر رکھا ہے اور اندرون خانہ افراتفری‘ اضطراب‘ انارکی‘ احتجاج‘ مظاہرے‘ ہڑتالیں‘ دھرنے اور ریلیاں.... کمزوری اور نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر کوئی خفا‘ نالاں‘ مشتعل‘ نوحہ کناں ہے مگر وزیراعظم ہیں کہ انکے غیر ملکی سیرسپاٹوں کا شوق قابو میں نہیں آتا۔جہلم کے جلسے میں لوگوں کو مار دیا جائے۔ کراچی میں روزانہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تو قانون حرکت میں نہ آئے لیکن عمران اور طاہر القادری کو بلاجواز‘ عدم ثبوت اور ناحق گرفتار کرنے کا حکم دے دیا جائے۔ عمران خان کو گرفتار کرنے کی ہمت کسی میں ہو تو ذرا کر کے دکھائے۔ پورے ملک میں خانہ جنگی نہ پھیل جائے تو پھر کہئے.... یہ احمقانہ اور حاسدانہ فیصلے جلد منطقی انجام تک پہنچنے کو ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size