پاک چین دوستی اور امریکا

شکیل فاروقی
شکیل فاروقی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

امریکا کے صدر بارک اوباما حال ہی میں میانمار (برما)، آسٹریلیا اور چین کے دورے پر گئے تو واشنگٹن سے روانگی کے بعد ان کا پہلا پڑائو بیجنگ میں تھا جہاں انھوں نے چین کے صدر کے ساتھ باہمی تعلقات، ساؤتھ چائنا سی، سائبر جاسوسی اور انسانی حقوق سے متعلق انتہائی اہم موضوعات پر نہایت اہم اور مفصل گفت و شنید کی۔ آج نہ صرف چین دنیا کی سپر پاور شمار کیا جاتا ہے بلکہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن آج سے ٹھیک 50 سال پہلے کا منظر نامہ اس سے قطعی مختلف تھا جب چین کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور امریکا اسے خاطر میں نہیں لاتا تھا۔

11 نومبر 1964 کی بات ہے جب سی جی ایس ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران صدر پاکستان ایوب خان نے کہا تھا چین کے 700 ملین عوام کو اقوام متحدہ سے نظرانداز کرنا خود امریکا کے مفاد میں نہیں ہے۔ صدر ایوب کی نظریں اس وقت مستقبل پر مرکوز تھیں۔ چناں چہ انھوں نے بڑے واضح انداز میں یہ پیشن گوئی کی تھی کہ چند سال کے عرصے میں دنیا کے نقشے پر جو تین زبردست سپر پاورز ابھر کر سامنے آئیں گی وہ امریکا، یو ایس ایس آر اور چین پر مشتمل ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان تینوں سپر پاورز کے مابین مفاہمت نہ ہوگی اس وقت تک دنیا میں انتشار اور خلفشار ہی برپا رہے گا۔ چین کے بارے میں صدر ایوب نے ان تاثرات کا اظہار بہت کھل کر ایک گھنٹے پر محیط ایک خصوصی پروگرام میں کیا تھا جس کا عنوان تھا ’’یو ایس اور دو چین‘‘۔ سچ پوچھیے تو عالمی امور میں چین کے اہم کردار اور مقام کے حوالے سے یہ ایک معنی خیز مباحثے کا آغاز تھا۔ سی جی ایس کے اس ٹی وی پروگرام کے دوران سرکردہ امریکیوں نے اصرار کیا کہ امریکا کو چین کے بارے میں اپنی فرسودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا (جہاں چینیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے) کے گورنر پیٹ براؤن نے چین کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کا پرزور مطالبہ کیا۔ ان کا استدلال تھا کہ امریکا کو چین کے بارے میں شتر مرغ کی ریت میں گردن دھنسانے والی پالیسی سے ہٹ کر چین کے وجود کو تسلیم کرلینا چاہیے کیونکہ آنکھیں موند کر یہ سمجھ لینا کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے خام خیالی اور خود فریبی کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے دوسرے سیاسی قائد اور سربراہ حکومت تھے جنھوں نے چین اور امریکا کے درمیان پاکستان کو ایک پل بتایا۔ امریکا خواہ پاکستان کی ان عظیم خدمات کا اعتراف کرے یا نہ کرے لیکن چینی عوام اور چینی قیادت نے پاکستان کے اس اہم کردار کو ہمیشہ مدنظر رکھا ہے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں اور ناقابل تردید ہے کہ اگر پاکستان نے چین کے ساتھ امریکا کو ملوانے کی پر خلوص کوشش نہ کی ہوتی تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے بالکل انجان اور قطعی اجنبی ہوتے جس سے ان دونوں ہی کو نقصان ہوتا۔

پاکستان کی ماضی کی قیادت کو اس بات کا کریڈٹ دینا پڑے گا کہ اس نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے باہمی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے چین کے ساتھ اپنی سرحدوں کا تعین کرکے کسی بھی قسم کے تنازعے اور تلخی کے امکانات کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند کرکے پاک چین لازوال دوستی کی بنیاد رکھ دی۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافت اور تجارت کے مسلسل اور مستقل فروغ کی بنیاد بھی یہی ہے۔

دفاعی اور صنعتی شعبوں میں تعاون میں اضافے کی اساس بھی یہی ہے۔ یہ اہم کارنامہ ایوب خان کے دور میں ہی انجام پذیر ہوا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ چین کے ساتھ ملنے والی ہماری سرحد کی طرف سے ہم بالکل مطمئن اور بے فکر ہوگئے جب کہ بھارت، افغانستان اور اب تو ایران کے ساتھ بھی ہماری سرحدیں محفوظ نہیں رہی ہیں۔

اگر ہم ماضی کی طرف مڑکر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بہت زیادہ قریبی اور مستحکم نہیں تھے۔ اس وقت کے چینی جغرافیائی نقشوں میں بعض شمالی علاقہ جات کو جو واقعتاً پاکستان کے کنٹرول میں تھے چینی علاقے ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ 1962 کی بات ہے۔ اس وقت کی پاکستانی قیادت کی ڈپلومیسی اور ذہانت کی داد دینا پڑے گی کہ اس نے اقوام متحدہ کے انتہائی اہم ادارے سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے لیے چین کی پرزور حمایت کی جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان انتہائی قلیل عرصے میں باہمی تعلقات اس حد تک وسیع اور مستحکم ہوگئے کہ چین نے تمام متنازعہ جغرافیائی نقشے واپس لے لیے اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دونوں ممالک کی سرحدوں کا تعین ہوگیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 2 مارچ1963 کو باقاعدہ ایک معاہدہ طے پا گیا۔

شاید بہت سے پاکستانیوں کو اس معاہدے کے بارے میں کوئی علم ہی نہ ہو لیکن درحقیقت یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ اسی معاہدے کا ثمر ہے کہ وہ تمام علاقے جو چین کے علاقے سنکیانگ سے ملحق و متصل تھے اور پاکستان کے کنٹرول میں تھے وہ پاکستان ہی کے پاس رہ گئے۔ اس کے علاوہ چین نے 1,924 کلومیٹر پر محیط وہ علاقہ بھی پاکستان کے حوالے کردیا جو عملاً چین کے زیر کنٹرول تھا۔ یہ اضافی علاقہ شمشال ریجن پر مشتمل ہے جو اس آبی مقام پر محیط ہے جو دونوں ممالک کی شمالی سرحدوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ اس علاقے میں ہنزہ کے لوگوں نے اپنے مویشیوں کے لیے چراگاہیں بنا رکھی ہیں جن کی ایک تاریخی حیثیت ہے۔

اس معاہدے کے تحت چین ہنزہ کے علاقے پر اپنی بالادستی سے ہمیشہ کے لیے دست بردار ہوگیا۔ ماضی بعید میں ایک وقت ایسا بھی گزر چکا ہے جب گلگت اور ہنزہ چین کے قبضے میں تھے لیکن آٹھویں صدی کے اختتام پر اس علاقے میں چین کی بالادستی رفتہ رفتہ ختم ہوتی چلی گئی۔ تاہم ہنزہ کے لوگوں کے روابط چینیوں کے ساتھ قائم رہے جس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ 1911 تک ہنزہ کے حکمراں چین کی بالادستی کو تسلیم کرتے تھے اور معاوضے کے طور پر سالانہ ڈیڑھ اونس سونا خراج کے طور پر شہنشاہ چین کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ برطانوی دور حکومت میں بھی بدستور جاری رہا۔

ہنزہ پر برطانیہ کا تسلط1891-92 میں قائم ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روس نے سنکیانگ پر اثر و رسوخ حاصل کیا تھا۔ برطانیہ کو اس وقت یہ تشویش لاحق ہوئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چین ہنزہ پر اپنا دعویٰ کر بیٹھے اور پھر جنوب کی جانب پیش قدمی کردے۔ چنانچہ انگریزوں نے 1899 میں قراقرم کے کنارے کے ساتھ والی سرحد پر چین کے ساتھ حد بندی کی کوشش کی تھی۔ پھر اس کے بعد انھوں نے 1905 میں اسی طرح کی ایک اور کوشش بھی کی جس کے نتیجے میں انھیں شمشال دروازہ کی جانب محض معمولی سی پیش رفت حاصل ہوسکی۔ تاہم 1927 تک برطانیہ والوں نے جارحانہ انداز کو ترک کرکے واٹرشیڈ کو ہی اصل باؤنڈری تسلیم کرلیا اور اس طرح یہ قصہ تمام ہوا۔

اس کے بعد جب 1947 میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو اسے برطانوی حکومت سے ماضی کی وہی سرحدیں ورثے میں ملیں۔ پاکستان کی قیادت کے پاس دو ہی راستے تھے۔ اول یہ کہ سرحدوں کے تعین سے متعلق متنازعہ معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے طے کرلیا جائے یا پھر لڑائی جھگڑے کا راستہ اختیار کیا جائے جیساکہ بھارت نے کیا تھا اور جس کے نتیجے میں اسے منہ کی کھانا پڑی تھی۔

خوش قسمتی سے پاکستان کی قیادت نے چین کے ساتھ جھگڑا مول لینے کے بجائے مفاہمت کی راہ اپنائی جس کے نہ صرف فوری مثبت نتائج برآمد ہوئے بلکہ پاک چین دوستی دنیا کے دیگر ممالک کے لیے ایک روشن اور قابل تقلید مثال بن گئی۔ پاکستان کو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس کے کروڑوں ڈالر کے دفاعی اخراجات کی ہمیشہ کے لیے بچت ہوگئی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی راہیں بھی کھل گئیں اور دوستی کے بندھن مضبوط سے مضبوط ہوتے چلے گئے۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی راہیں مزید ہموار کردیں۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف حال ہی میں چین کا تین روزہ دورہ کرکے آئے ہیں جسے انتہائی کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے میں پاکستان اور چین کے درمیان 45 ارب ڈالر کے 19 معاہدوں اور مفاہمت کی دو یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ سرکاری ذرایع کا کہنا ہے کہ 34 ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں پر اور گیارہ ارب ڈالر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔

وطن عزیز کو اس وقت جن سنگین بحرانوں کا سامنا ہے ان میں توانائی کا بحران سب سے زیادہ شدت اختیار کرچکا ہے جس کے باعث نہ صرف دیگر شعبوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے بلکہ بے روزگاری میں بھی روز بہ روز تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم بھی بڑھ رہے ہیں اور زندگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ان کے حالیہ دورہ چین سے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بڑی مدد ملے گی اور بالآخر توانائی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ "ایکپسریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size