.

داعش…حقیقت یا افسانہ

نصرت جاوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہت دنوں سے ہمارے ہاں میڈیا اور فیس بک وغیرہ پر چند لوگ بڑی شدومد سے یہ دہائی مچاتے دِکھ رہے ہیں کہ ’’داعش‘‘ کے نام پر بنی تنظیم پاکستان پہنچ چکی ہے۔ ذاتی طور پر مجھے یہ دعویٰ ہضم کرنے میں کافی مشکل پیش آ رہی ہے۔ 1980 کی دہائی میں جب ایران عراق جنگ اپنی انتہاء پر تھی تو ہمارے ہاں افغان جہاد کی بدولت منظم ہونے والی کئی قوتوں نے عرب اور عجم کے درمیان برپا ایک اور جنگ کو مسلکی بنیادوں پر پاکستان میں بھی متعارف کروا دیا تھا۔ اپنے صوفیاء کی پھیلائی تعلیمات کو مگر سلام کہ پاکستانی عوام کی اکثریت اس تقسیم سے لاتعلق ہی رہی۔ اگرچہ ہماری ریاست، سیاستدانوں اور صحافیوں نے اس معاملے پر تقریباََ سفاکانہ خاموشی اختیار رکھی۔

اپنی بات پر مگر اڑ جانے کی مجھے عادت نہیں۔ خود کو عقل کل سمجھنے کی بیماری سے بچانے کے لیے اشد ضروری ہے کہ وقتاََ فوقتاََ اپنے شدید ترین موقف کے بارے میں سوالات کر لیے جائیں اور ان کی روشنی میں تھوڑی بہت تحقیق کے بعد کچھ ٹھوس جوابات ڈھونڈے جائیں۔ اس ویک اینڈ کی چھٹیوں کے دوران میں نے ’’داعش‘‘ کے سلسلے میں یہی رویہ اپنایا۔ مشرق وسطیٰ کے حالیہ واقعات کے بارے میں چند بین الاقوامی جریدوں میں چھپے مضامین پڑھے جو صحافیوں کے بجائے محققین نے لکھے تھے۔ اپنے پیشہ وارانہ فرائض ادا کرتے ہوئے میں نے عراق، شام اور لبنان کے دوروں کے بعد عرب دُنیا کے بارے میں مسلسل لکھنے والے چند صحافیوں کے ساتھ ’’ای میل-دوستیاں‘‘ بھی بنائی ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کے ساتھ انٹرنیٹ کے ذریعے لمبی لمبی گفتگو کی۔

صبح اُٹھ کر مگر جب یہ کالم لکھنے بیٹھا تو اپنے ’’گرانقدر‘‘ خیالات کو آپ تک پہنچانے کا حوصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ عمران خان صاحب جیسے قدآور رہ نما نے اپنے جہلم والے جلسے میں دعویٰ کیا ہے کہ نواز حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کے ذریعے کالم نگاروں اور اینکر حضرات میں کروڑوں روپے بانٹے ہیں۔ میں کالم بھی لکھتا ہوں اور اینکری کرتے ہوئے بھی سات سال ہو گئے ہیں۔ خان صاحب کا زیادہ گرویدہ بھی نہیں۔ ان کی سیاست کے بارے میں بلکہ اسی دن سے اکثر اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہتا ہوں جب 2011 کے اکتوبر میں انھوں نے لاہور میں ایک تاریخ ساز جلسہ کیا اور ہمارے میڈیا کے دل و دماغ پر چھا گئے۔

عمران خان کے خلاف لکھنے اور بولنے کے حوالے سے میرا حصہ انٹیلی جنس بیورو کی فراہم کردہ رقوم میں کافی بھاری ہونا چاہیے۔ ابھی تک میرے پاس مگر ایک دمڑی بھی نہیں پہنچی۔ اپنا حصہ وصول نہ کر سکنے کی وجہ سے مجھے دو طرح کے وسوسوں نے گھیر رکھا ہے۔ پہلا شبہ تو یہ ہو رہا ہے کہ کسی نے میرے نام سے رقم لے کر مجھ تک نہیں پہنچائی۔ میرا یہ شک صرف اسی صورت دور ہو سکتا ہے اگر IB میرا حصہ مجھے فی الفور پہنچائے اور مجھ سے فراہم کردہ رقم کی باقاعدہ سٹامپ پیپر پر رسید حاصل کر کے اپنے ریکارڈ کا حصہ بنائے۔

ایسا نہ ہوا تو میں شدید احساسِ کمتری میں مبتلا رہوں گا کہ in One 2یعنی کالم نگار اور اینکر پرسن ہوتے ہوئے بھی IB کی نوازشوں سے محروم رہا۔ اسی احساسِ کمتری کی بدولت ذہن مفلوج ہے کہ ’’داعش‘‘ کے بارے میں میری تھوڑی بہت تحقیق کو قاری اہمیت کیوں دیں گے۔ شاہ حسین والا ’’نہ تو میں خوب صورت ہوں اور نہ کسی گن کی مالک‘‘ روگ ذہن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ بہرحال بددلی سے سہی ’’داعش‘‘ کے بارے میں کچھ لکھ کر آج کی (حلال) روزی کمانے کا بندوبست کرتا ہوں اور اس ضمن میں سب سے پہلے عرض یہ کرنا مقصود ہے کہ داعش کو سمجھنے سے پہلے ہمیشہ یہ بات یاد رکھئے کہ عراق، شام، لبنان اور فلسطین تقریباَ 5 صدیوں تک ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کا حصہ رہے ہیں۔

ترکی والے اگر غیر مسلم ہوتے تو ہم ان ممالک کو اس خلافت کی نوآبادیاں بھی کہہ سکتے تھے۔ یوں کہہ لیتے ہیں کہ خلافتِ عثمانیہ اپنے غیر ترک علاقوں میں ’’پاشاؤں‘‘ کے ذریعے حکومت کیا کرتی تھی۔ یہ زیادہ تر اپنے خاندانوں سے بہت بچپن میں الگ کر دیے گئے افراد ہوا کرتے تھے جنھیں بڑی محنت سے صرف خلافتِ عثمانیہ کا جانثار بنا کر آداب حکمرانی سکھائے جاتے تھے۔

’’پاشا‘‘ حضرات نے مقامی لوگوں کو اپنا طابع کرنے کے لیے ریگستانوں سے اٹھے ان قبائلی سرداروں پر انحصار کیا جن کا تعلق ایک مخصوص مسلک سے ہوا کرتا تھا اور وہ ’’بندئہ صحرائی‘‘ ہوتے ہوئے شہروں میں موجود خوش حال طبقات کے طرزِ زندگی کو سخت ناپسند بھی کیا کرتے تھے۔ پھر ہو گئی پہلی عالمی جنگ۔ برطانیہ نے لارنس آف عریبیہ کے ذریعے ’’عرب قوم پرستی‘‘ کو ابھار کر خلافتِ عثمانیہ کے خلاف مسلح مزاحمت کروائی۔ فرانس اور برطانیہ اس جنگ میں ایک دوسرے کے حلیف تھے۔ خلافِ عثمانیہ کو سوویت یونین کی طرح بکھیرنے کے بعد ان دونوں ممالک نے اپنے اپنے زیرنگین ’’خودمختار ریاستیں‘‘ قائم کر دیں۔ برطانیہ نے ان ریاستوں کے ’’بادشاہ‘‘ وہی لوگ بنائے جنھیں ترکی اپنے ’’پاشاؤں‘‘ کے ذریعے استعمال کیا کرتا تھا۔ فرانس والے مگر عیسائیوں کی پشت پناہی کو ترجیح دیتے رہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوا مگر یہ کہ وہاں پہلے ترکی اور بعدازاں سامراجیوں کی بنائی عسکری قیادتوں نے ’’قوم پرستی‘‘ کے نام پر ’’عوامی جمہوری مملکتیں‘‘ قائم کر دیں۔ عراق اور شام میں یہ مملکتیں ان آمروں کے قبضے میں رہیں جو ان ممالک کے اکثریتی مسلک سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ صدر بش کی عراق پر مسلط کردہ جنگ نے مگر یہ نظام بُری طرح بگاڑ دیا۔ ’’صحیح جمہوریت‘‘ کے نام پر جو نظام متعارف ہوا اس نے صدیوں پرانی اشرافیہ کے تسلط کو انتقام کی بے رحم آگ کے ذریعے تباہ و برباد کر دیا۔ ’’داعش‘‘ درحقیقت اس شکست خوردہ اشرافیہ کے دُکھ اور خوف پر مبنی غصے کا شدید ترین اظہار ہے۔ اس کے قیام اور فروغ کی تمام تر وجوہات مقامی ہیں۔

امریکا اور اسرائیل وغیرہ ’’داعش‘‘ کے ظلم و ستم کی داستانیں تو بہت بیان کرتے ہیں مگر وہاں کی مکار انتظامیہ اس تنظیم کے بارے میں زیادہ فکر مند اس لیے نہیں کہ اس تنظیم کے غصے کا اصل ہدف عراق جنگ کے بعد ابھرنے والے حکمران طبقات ہیں۔ داعش امریکا، برطانیہ یا فرانس کے لیے ویسا خطرہ ہرگز نہیں جو ’’القاعدہ‘‘ کے حوالے سے ان ممالک کے حکمرانوں کے ذہن میں آتا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ہوئے داعشی پراپیگنڈے کے ذریعے بلکہ ان ممالک میں موجود مذہبی انتہاء پسند وہاں سے اچانک اپنے گھر بار چھوڑ کر عراق اور شام پہنچ رہے ہیں تا کہ ’’داعش‘‘ کے نام پر بنی ’’خلافت‘‘ کے مضبوط دفاع کا بندوبست ہو سکے۔

مختصر’’داعش‘‘ کو فی الحال اپنا دائرہ کار پاکستان جیسے ممالک تک پھیلانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ اشد ضرورت تواسے بلکہ ایسے ممالک سے ایسے ’’مجاہدین‘‘ کی ہے جو داعش کی سپاہ کے ساتھ مل کر عراق اور شام کے اندر برپا جنگ کو تیز تر کر سکیں۔ مغربی میڈیا میں ’’داعش‘‘ کے خلاف ہونے والا پراپیگنڈہ اس تنظیم کی ’’ریکروٹمنٹ‘‘ کا کام ایک حوالے سے آسان کر رہا ہے۔ ’’داعش‘‘ کے نام پر پاکستان میں لگائے بینرز اور پوسٹرز صرف ’’کمپنی کی مشہوری‘‘ ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.