.

پاک افغان تعلقات: نئی تاریخ رقم ہورہی ہے

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ماضی میں کس قدر کشیدہ رہ چکے ہیں،اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب دو عالمی حریف طاقتوں نے ان دونوں ملکوں کو اپنے مفادات کے لیے بیدردی سے استعمال کیا۔ افغانستان طویل عرصے تک خانہ جنگی کا شکار رہا، سوویت افواج نے وہاں مداخلت کی، مجاہدین کو امریکا نے پاکستان کی مدد سے منظم کیا۔ سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے کے لیے دنیا بھر سے جہادی بھرتی کیے گئے، جہاد کے لیے اربوں ڈالروں کی سرمایہ کاری ہوئی۔

افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کا انخلا ہو گیا اور وہاں طالبان حکومت برسر اقتدار آئی، اسے اپنی بقا کے لیے طاقت ور گروپوں کا تعاون حاصل کرنا پڑا جس کا فائدہ اٹھا کر انتہاپسند تنظیموں نے وہاں مضبوط اڈے قائم کر لیے۔ وہیں سے 9/11 کے حملے کی منصوبہ بندی ہوئی۔ امریکا نے افغانستان میں اقوام متحدہ کی اجازت سے فوجی مداخلت کی اور طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ امریکا اور نیٹو افواج ایک دہائی کی لڑائی کے بعد اب وہاں سے رخصت ہو رہی ہیں۔ افغانستان میں جمہوری عمل کا تسلسل جاری ہے۔ اب یہ ملک قدرے مستحکم ہے۔ پاکستان بھی افغانستان میں ہونے والی جنگ اور خانہ جنگی سے براہ راست متاثر ہوا۔

سے بھی ایک بھیانک جنگ میں ملوث کر دیا گیا، لیکن ایسا کرنے والے سیاست دان نہیں تھے۔ گزشتہ 10 برسوں میں پاکستان نے اپنے خطے میں دہشت گردی کی بڑی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہزاروں پاکستانیوں نے اپنی زندگیاں اس جنگ میں نذر کیں جو دہشت گردی کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس جنگ کا آغاز ہم نے نہیں کیا تھا وہ آج ہماری قومی سلامتی کی جنگ بن چکی ہے۔ کم سے کم اب تک اس لڑائی میں پاکستان اپنے 100 ارب ڈالر کا نقصان کر چکا ہے۔

اس صورت حال سے باہر نکلنے کا راستہ اس وقت ہموار ہوا جب وہ صاحب، اقتدار سے رخصت ہونے پر مجبور کیے گئے جنھوں نے محض ذاتی اقتدار کے لیے اس تنازعے میں پاکستان کو ملوث کر لیا تھا۔ ان کو اور ان کی حکومت کو چند برسوں میں اربوں ڈالر مل گئے، وہ طویل عرصے تک امریکا کے منظور نظر بھی رہے لیکن اس دوران ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ گیا۔

وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو جمہوریت کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے۔ 2008 کے عام انتخابات کے بعد پی پی پی کی مخلوط حکومت اقتدار میں آئی اور اس نے صورت حال کو بدلنے اور افغانستان سے کشیدگی کم کرنے کے پرخطر کام کا آغاز کیا۔ اس کے نتیجے میں اسے سخت گیر عناصر کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور متعدد موقعوں پر یوں محسوس ہوا جیسے فوج حکومت کا تختہ الٹنے والی ہے۔ ذرایع ابلاغ میں بھرپور مہم چلی، ٹی وی پر عالم فاضل تجزیہ کار ، زرداری حکومت کی رخصتی کی تاریخیں دینے لگے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق کیانی قابل داد ہیں جنہوں نے بہت تحمل کا مظاہرہ کیا اور جمہوریت پر شب خون نہیں مارا یہی وجہ ہے کہ آج کے انقلابی ان پر بھی جملے چست کرنے سے باز نہیں آتے۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد دوسری منتخب حکومت اقتدار میں آئی، اسے ایوان زیریں میں اکثریت ملی اور اس نے زیادہ پرعزم انداز میں،دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے بارے میں ذہن بنایا اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کا از سرنو جائزہ لینا شروع کیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کا دورہ کیا، ان کے بعد صدر پاکستان ممنون حسین، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، سرتاج عزیز اور دیگر اہم قومی رہنماؤں نے افغانستان کے دورے کیے۔ وہاں کی قیادت کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان کی سرزمین ان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جائے گی۔ طویل عرصے کی غلط فہمیوں کو دور کرنا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ اعلیٰ ترین سیاسی، حکومتی اور عسکری شخصیات کا مختصر عرصے کے دوران افغانستان جانے کا مقصد یہی تھا کہ سب کو یہ باور کرا دیا جائے کہ پاکستان سرد جنگ کے زمانے کی پالیسیوں کو فیصلہ کن انداز میں تبدیل کرنے کا بھرپور عزم کر چکا ہے اور اس بارے میں سیاسی اور عسکری قیادت یک دل اور یک رائے ہے۔

اس پالیسی کے نتیجے میں افغانستان میں صدارتی انتخابات پر امن ماحول میں منعقد ہوئے، پاکستان کے وزیر اعظم نے اس بات پر عمل کر دکھایا کہ یہ افغانستان کے عوام کا حق ہے کہ وہ جو چاہیں فیصلہ کریں، ہم ان کے ہر فیصلے کو خوش آمدید کہیں گے۔ نو منتخب افغان صدر کی حلف برداری میں صدر پاکستان کی شمولیت اس امر کا واضح اعلان تھا کہ دونوں پڑوسی ملک اب تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرنے والے ہیں۔

افغانستان کے صدر اور ان کی حکومت کے سامنے بھی یہ مسئلہ درپیش تھا کہ وہ نصف صدی پرانی پالیسیوں، دوستیوں، دشمنیوں اور پرانے تنازعات کو نئے حقائق سے کس طور ہم آہنگ کریں۔ ایک مشکل سفر کا آغاز بہرحال ہو چکا ہے۔ صدر اشرف غنی دو روزہ دورے پر پاکستان آئے تو ان کا انتہائی گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ اعتماد سازی کا عمل کامیاب نہ ہوتا تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ صدر اشرف غنی پاکستان آنے کے بعد جی ایچ کیو کا دورہ کرتے جہاں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ان کا استقبال کیا۔

انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، چاق چوبند دستے نے انھیں سلامی دی اور سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی تھی کہ افغان صدر نے شہداء کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ جس کے بعد جنرل راحیل شریف اور صدر اشرف غنی کے درمیان خوش گوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب ماضی کا اسیر نہیں رہا، اس ملک میں بدلتے ہوئے وقت اور حالات کی تبدیلی سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی اہلیت اور صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے اور ملک کی عسکری قیادت اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ بلا شبہ، آپریشن ضرب عضب کے بعد اس ملاقات نے پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ کیا ہے۔

افغان صدر نے بھی دورہ پاکستان کے دوران جرأتمندانہ طرز عمل اختیار کیا۔ کہاں سابق صدر حامد کرزئی کا سخت گیر رویہ اور کہاں صدر اشرف غنی کا مفاہمانہ انداز۔ چند سال پہلے بھلا کون تصور کر سکتا تھا کہ افغان صدر جی ایچ کیو میں شہداء کی یادگار پر حاضری دیں گے اور یہ اعلان کریں گے کہ ان کا ملک محاذ آرائی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مشترکہ طور پر سرحدی انتظام کرنے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے جنرل راحیل شریف کی پیش کش قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک فوجی تربیت کے لیے پاکستان کی خدمات سے استفادہ کرے گا۔ صدر پاکستان نے افغان صدر کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ یہ پاکستان کی طرف سے پیغام تھا کہ وہ افغانستان کے ساتھ لڑائی جھگڑے اور محاذ آرائی کے طویل دور کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اشرف غنی نے بھی اتفاق کیا کہ اگلے 3 برسوں میں دونوں ملکوں میں باہمی تجارت کا حجم 5ارب ڈالر سالانہ تک پہنچا دیا جائے گا۔ انھوں نے ایک بڑ ا بامعنی جملہ کہا کہ افغانستان اور پاکستان تاریخ بدلنے جا رہے ہیں ۔ وزیر اعظم پاکستان کے وطن واپس آتے ہی دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی اور تجارت بڑھانے کا معاہدہ ہوا۔

اس وقت خطے کے تمام ممالک نہایت سنجیدگی سے نئی حکمت عملیاں اختیار کر رہے ہیں۔ معاشی ترقی کے جو نئے امکانات پیدا ہو چکے ہیں وہ ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ افغانستان اور پاکستان خطے کے دو ایسے ملک ہیں جو اپنی جغرافیائی حیثیت کا غیر معمولی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دونوں پڑوسی ملکوں کے تعاون اور اشتراک کے بغیر ایشیا، مغربی اور وسطی ایشیا بالخصوص اور امریکا اور مغرب کے لیے باکفایت اور تیز رفتار باہمی تجارت کرنی ممکن نہیں ہو گی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ افغان صدر نے پاکستان آنے سے پہلے چین کا دورہ کیا۔

حال میں وزیر اعظم نواز شریف کی بھی چینی قیادت سے ملاقاتیں ہوئی ہیں، حالیہ دنوں اعلیٰ ترین فوجی شخصیات چین کا دورہ کر چکی ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے بھی چین کا دورہ کیا اور وہ اس وقت امریکا میں موجود ہیں۔ ایک مختصر عرصے میں اتنے اہم رہنماؤں کی ملاقاتیں اور مذاکرات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے کو عالمی تجارت کا مرکز بنانے اور یہاں استحکام قائم کرنے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

خطے میں ایک ہلچل ہے، پاکستان کو بھی اپنے حصے کا فائدہ اٹھانا ہے، اس کے لیے سنجیدگی، تحمل اور سیاسی استحکام اولین ضرورت ہے۔ ان فیصلہ کن لمحات میں، غیر اہم مفروضوں پر دھرنے اور مارچ بے وقت کی راگنی ہیں ۔ کیسی دلچسپ بات ہے کہ خطے کے پرانے حریف ممالک تصادم کے بجائے تعاون کی راہ اپنا رہے ہیں اور ہمارے بعض سیاسی رہنما تصادم کو آخری انتہا تک لے جانے پر اڑے ہوئے ہیں ۔ کیا ’’قومی رہنما‘‘ ایسا طرز عمل اختیار کرتے ہیں؟

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.