.

آرمی چیف کا دورہ امریکہ !

عارف نظامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف واشنگٹن تشریف لے گئے ہیں ۔ ایک ہفتہ کے طویل دورے کے دوران پاکستان اور امریکی فوج کی قیادت باہمی تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور کرے گی۔ یہ دورہ اس لحاظ سے خا صا اہم ہے کہ جنرل راحیل شریف کے پیش رو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیا نی فروری 2010ءمیں سٹرٹیجک ڈائیلاگ کرنے واشنگٹن گئے تھے۔ تب وفد کی قیادت اس وقت کے وزیرخا رجہ شاہ محمود قریشی کر رہے تھے ۔ اس مرتبہ امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل لائیڈ آسٹن کی دعوت پر پاک فوج کے سربراہ پینٹاگون گئے ہیں۔ یہ بھی حقیقت تیزی سے آشکار ہو تی جا رہی ہے کہ میاں نواز شریف سویلین وزیراعظم تو ہیں لیکن اب جنرل راحیل شریف بلا کم وکاست براہ راست معاملات طے کر رہے ہیں اور لگتا ہے کہ امریکہ بھی جوخودکو سویلین سپر میسی کا چیمپئن کہتا ہے اب “ون ونڈو آپریشن” کا قائل ہوتا جا رہا ہے۔ ستمبر میں جب نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے نیو یارک گئے تو امریکی انتظامیہ نے انہیں کوئی خاص گھاس نہیں ڈالی جبکہ منظر پر بھارت کے انتہا پسند نو منتخب وزیراعظم نریندر مودی چھائے رہے ۔ گزشتہ روز برسبین میں اختتام پذیر ہونے والی جی 20میں بھی تقریبا ً سبھی مغربی شرکاءنریندر مودی سے بغل گیر ہونے کے لیے کو شاں تھے ۔

نو منتخب افغان صدر اشرف غنی بھی جب اسلام آباد پہنچے تو پروٹوکول کی موشگافیوں کے برخلاف وہ خود آرمی چیف سے ملاقات کے لیے جی ایچ کیو گئے جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ ظاہر ہے کہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ پاک افغان سرحد پرکشیدگی ،پاکستانی طالبان اور دہشت گردوں کا افغانستان جانا اور وہاں سے پاکستان کے اندر کارروائیاں کرنا نیز افغانستان کا یہ الزام کہ طالبان کے مخصوص گروپوں کو افغانستان میں دھکیلا جاتا ہے تا کہ وہ وہاں دہشت گردی کی کارروائیاں کریں ایسے سوالات زیربحث آئے ہو نگے۔ یقینا اشرف غنی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہو گا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی طالبان سے افغان حکومت کے مذاکرات کرانے میں مد د دے۔ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے بعد صدر اشرف غنی نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی لیکن اصل معاملات جی ایچ کیو میں ہی زیر بحث آئے۔ جہاں تک میاں نواز شریف کا تعلق ہے وہ تو بھارت اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک مخصوص سوچ رکھتے ہیں جو فوج کے نقطہ نگاہ سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہے میاں صاحب نظریاتی طور پر اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کی حکمت عملی اپنانا چاہتے ہیں لیکن اس ضمن میں فوج کا مخصوص سٹر ٹیجک پیراڈائم جسے وہ قومی مفاد کے لیے لاز م و ملزم قرار دیتی ہے بعض اوقات آڑے آ جاتا ہے اس تناظر میں امریکہ “ڈومور”کی رٹ لگائے رکھتا ہے۔ اس کے باوجود کہ پاک فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن “ضرب عضب “میں گیا رہ سو سے زیادہ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگا چکی ہے جبکہ اس لڑائی میں پاک فوج کے ایک سو سے زائد افسر وجوان جام شہادت نو ش کر چکے ہیں ۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ دہشت گردوں کو بلا تخصیص ٹا رگٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن امریکہ اور بھارت کا یہ اصرار ہے کہ پاکستانی فوج بعض مخصوص دہشت گرد گروپوں کی جو بھارت اور افغانستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں پشت پناہی کرتی ہے۔ نریندر مودی کے حالیہ دور ہ امریکہ کے اختتام پر جو مشترکہ اعلا میہ جاری کیا گیا اس میں خلاف معمول ان گروپوں کے نام بھی دیئے گئے جن میں القاعدہ ،لشکر طیبہ ،جیش محمد ، ڈی کمپنی اور حقانی گروپ نمایاں ہیں۔ اس ضمن میں پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بلا تخصیص کارروائی کی جا رہی ہے اور حقانی نیٹ ورک ماضی کا حصہ بن چکا ہے لیکن وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور خارجہ امور سرتاج عزیزنے بالکل متضاد بات کی ہے، ان کے مطابق پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ نہ بننے والے شدت پسندوںکو کیوں نشانہ بنائیں۔یہ اس لحاظ سے انوکھی منطق ہے کہ پاکستان کسی گروپ کو اپنی سرزمین سے ہمسایہ ملکوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی کیونکر اجازت دے سکتا ہے؟

امریکہ کے بعد اب دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت چین بھی علاقائی صورت حال میں دلچسپی لے رہا ہے۔ چین سنکیانگ کے علاقے سے ابھرنے والی دہشت گردی اور وہاں” یو ئی غور “مسلمانوں کی برپا کردہ شورش کے بارے میں متفکر ہے۔ حال ہی میں بیجنگ میں ہو نے والے پاکستان ،افغانستان کے درمیان مذاکرات کے لیے استنبول ڈائیلاگ میں چین نے کابل اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک علاقائی فورم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے ۔چینی وزیراعظم لی کی چیانگg Likiqianنے استنبول پراسس کا نفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام افغان گروپوں کو اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر سیاسی مصالحت و مفاہمت کے عمل میں شریک ہو نا چاہیے ۔ یقینا افغان صدر اشرف غنی نے اس ضمن میں پاکستان سے بھی مذاکرات کیے ہو نگے ۔ جہاں تک سنکیانگ میں گڑ بڑ کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ چین پاکستان کا قریب ترین دوست ہے وہ کیونکر وہاں دہشتگردوں کی پشت پناہی کرے گا تاہم “ضرب عضب”سے قبل شمالی وزیرستان اور ملحقہ علاقے ہر قسم کے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکے تھے اور یہ گروپ ہمسایہ ملکوں میں کھل کھیل رہے تھے۔اب صورت حال مختلف ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اب بھی پاکستان کو ہی نکو بنایا جارہا ہے ۔امریکی افواج افغانستان سے جا رہی ہیں علاقائی سطح پر اگرچین اس خلا کوپُر کرتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہو گی۔چین افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔ بھارت سے بھی سرحدی تنازعات ہونے کے باوجود اس کے خوشگوار سیاسی اوراقتصادی روابط ہیں ۔ وہ جنوبی ایشیا میں چین کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے پاکستان کے چین سے نہ صرف گہرے اقتصادی روابط ہیں بلکہ دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات بھی مثالی ہیں ۔اس تناظر میں چین افغانستان میں امن عمل میں بھارت کو بھی شامل کر سکتا ہے ۔

جنرل راحیل شریف اپنے دور ہ امریکہ میں ان دفاعی اور سٹرٹیجک معاملات کو جو امریکہ اور پاکستان کے درمیان وجہ نزاع ہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنا سامان باندھ چکا ہے اور

اس قضیے کا چین کی قیادت میں علاقائی سطح پر حل تلاش کرنا مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستان اورافغانستان دہشت گردی کا قلع قمع کر کے خطے کو امن کا گہوارہ بناکر ترقی کا محوربن سکتے ہیں لیکن اصل مسئلہ بھارتی قیادت ہے جو صرف اپنی شرائط پر ہی امن کے قیام کی کوششوں میں ساتھ دینے پر تیار ہو گی۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.