تاریخ سازی کا عمل

اکرام سہگل
اکرام سہگل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

جمعہ 14 نومبر 2014ء کو تاریخ بنا دی گئی۔ سفارتی آداب کو ایک طرف رکھتے ہوئے اشرف غنی نے افغانستان کے صدر کا حلف اٹھانے کے بعد پاکستان کے اولین سرکاری دورے پر اسلام آباد اترتے ہی سب سے پہلے جی ایچ کیو کا دورہ کیا۔ کابل میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک غیر ملکی سربراہ مملکت کا سیدھے جی ایچ کیو پہنچ جانا محض رسمی کارروائی نہیں تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ افغان صدر مطلب کی بات کرنا چاہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ کہاں پر کی جانی چاہیے۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ابھی برطانیہ کے دورے سے واپس نہیں لوٹے تھے جب کہ امور خارجہ کے لیے ان کے مشیر سرتاج عزیز نے جنہوں نے صدر اشرف غنی کی حلف برداری کے فوراً بعد ان سے ملاقات کی تھی ،اس میں کابینہ کی نمایندگی کی۔ اشرف غنی نے کہا کہ انھیں جنرل راحیل شریف کی طرف سے جی ایچ کیو کے دورے کی اس وقت دعوت دی گئی تھی جب انھوں نے چند دن پہلے کابل کا دورہ کیا تھا جسے فوری طور پر قبول کر لیا گیا تھا۔ افغان صدر کی آمد اور اسی موقع پر آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کی صرف دو روز قبل تعیناتی سے پاکستان کے بارے میں کابل کے رویے میں نمایاں تبدیلی نظر آئی ہے۔

جی ایچ کیو میں انھیں ایک بڑی مفصل بریفنگ دی گئی۔ جس میں 2014ء کے بعد علاقائی سلامتی کے معاملات پر روشنی ڈالی گئی بالخصوص اس میں ’’آئی ایس‘‘ کے ابھرتے ہوئے خطرے کی نشاندہی بھی کی گئی جس کا کابل کی طرف سے گرمجوشی سے جواب دیا گیا۔ صدر اشرف غنی کا جی ایچ کیو کا خلاف معمول دورہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ باہمی تعلقات‘ سلامتی اور دفاعی رابطوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے ساتھ آنیوالے وفد میں افغانستان کی تمام سویلین اور فوجی لیڈر شپ جس میں ڈپٹی چیف ایگزیکٹو مہمند خان جو عبداللہ عبداللہ کے نائب ہیں اور مرحوم احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیا مسعود، افغان صدر کے خصوصی نمایندے اور اشرف غنی کے سب سے قریبی معتمد قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمار‘ افغان وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل شیر محمد کریمی شامل تھے۔ اگرچہ نائب صدر جنرل رشید دوستم اور گلبدین حکمت یار شخصی طور پر حاضر نہیں تھے تاہم ان کی نمایندگی موجود تھی۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے اور علاقائی سلامتی کی یقین دہانی صرف اسی صورت کرائی جا سکتی ہے کہ دہشت گردی کے خطرے کو ہم اپنا مشترکہ دشمن تصور کریں اور عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ڈیڑھ ہزار میل لمبی پاک افغان سرحد کے دونوں طرف نہ بننے دیے جائیں۔ جی ایچ کیو میں جو اہم فیصلے کیے گئے ان میں انٹیلی جنس معلومات کا فوری تبادلہ‘ افغان ڈیفنس اور سیکیورٹی کے افسروں کی بریگیڈ کی سطح پر تربیت اور دونوں ممالک کی افواج میں براہ راست اور قریبی رابطہ‘ میڈیا میں بیان بازی سے اجتناب جیسے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ مزید برآں دونوں ملکوں کی ایک مشترکہ فوج کے بارے میں بھی ایک تجویز پیش کی گئی۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ تجویز بہت جلد ایک حقیقت کے طور پر سامنے آ جائے۔

افغان صدر نے پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو کی اور اسے شاندار کامیابی قرار دیا۔ ایک مشترکہ ویژن پورے ایشیا کے لیے دل کی دھڑکن ثابت ہو سکتا ہے۔ اقتصادی یکجہتی کی یقین دہانی جنوبی اور وسطی ایشیا کے ساتھ گیس اور تیل کی پائپ لائنیں بچھانے سے حاصل کرنے کی پیشکش کی گئی جو کہ جلد ہی حقیقت کی صورت میں نظر آئیں گی اور محض ایک خواب نہیں رہے گا۔ کرزئی کے دور میں نفرت کی زہریلی زبان بولی جاتی تھی جس کے نتیجے میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف کے عوام حقیقی تعمیر و ترقی سے محروم رہے لیکن نئے افغان صدر نے کہا کہ ہم نے 13 سال کی رکاوٹوں کو صرف تین دن میں دور کر لیا ہے اور اب ہم کبھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ ماضی ہمارے مستقبل کو تباہ کرتا رہے۔

مستقبل کو تباہ کرنے کا خطرہ ان تباہ کاروں کی طرف سے ہے جن کے مخصوص مفادات ہیں اور وہ اپنی تخریب کاریوں کے ایجنڈے کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں جو کہ اس خطے کے غیر مستحکم رہنے سے ہی ممکن ہے۔ پاکستانی میڈیا میں ایسے بکاؤ عناصر موجود ہیں جنھیں مختصر نوٹس پر متحرک کیا جا سکتا ہے انھوں نے فوراً ایسے سوالات اٹھانے شروع کر دیے کہ ’’آخر یہ کیسے ہوا کہ افغان صدر نے براہ راست جی ایچ کیو کا دورہ کر لیا جب کہ ان کے ساتھ نہ صدر پاکستان تھے نہ وزیر اعظم اور نہ ہی کابینہ کا کوئی سینیئر وزیر؟‘‘ پاکستان کے خلاف لڑنے والے شدت پسند اب افغانستان میں اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے محروم ہو سکتے ہیں اور مذہبی انتہا پسند اپنا رخ گھنی آبادیوں کی طرف موڑ لیں گے تا کہ ہماری سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ان تک نہ پہنچ سکے۔ افغانستان اور پاکستان دونوں کو اس موقع پر بطور خاص چوکس رہنا ہو گا تا کہ کوئی ناگوار واقعہ یا کوئی اشتعال انگیز کوشش کامیاب نہ ہو سکے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ دونوں ملکوں کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے نئے پیدا ہونے والے تعلقات کو پٹڑی سے اتارنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

حامد کرزئی بطور خاص پاکستان دشمن زبان استعمال کرتے تھے جب کہ ان کے دور میں باہمی روابط تقریباً منجمد ہو کر رہ گئے تھے۔ جب اشرف غنی نے منصب سنبھالا تو سب سے پہلے انھوں نے ہتھیاروں کے وہ سودے منسوخ کیے جو ان کے پیش رو نے بھارت کے ساتھ طے کیے تھے۔ پاکستان بھارت کے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے خلاف نہیں لیکن ان تعلقات کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم نئے افغان صدر خلوص دل سے پاکستان کے ساتھ تعاون اور دوستی پر مکمل طور پر آمادہ ہیں اور وہ باہمی تعلقات کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے دورے کے بعد محسوس ہونے لگا ہے کہ دونوں کے تعلقات اتنے اچھے پہلے کبھی نہیں رہے۔

صدر اشرف غنی کے دورہ جی ایچ کیو کے اگلے ہی روز بھارتی میڈیا نے بدحواس ہو کر پاک افغان تعلقات میں اچانک اس تبدیلی کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ بھارت نے افغانستان کی فوجی سائیکی کو پاکستان کے خلاف برانگیخت کرنے میں کئی عشروں پر محیط جو کوششیں کی تھیں وہ دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ملیامیٹ ہو کر رہ گئیں۔ جس وقت ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر افغان صدر کو جی ایچ کیو سے لے کر تقریباً شام 5 بجے واپس روانہ ہوا تو اس ’’گریٹ گیم‘‘ کا زاویہ 180 درجے تک بدل چکا تھا۔ لہذا ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف کے دورہ امریکا کی اہمیت میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اور امریکا بھی مطمئن ہو گیا کہ اس نے اس خطے میں استحکام پیدا کرنے کی ایک دہائی سے جو کوششیں شروع کر رکھی تھیں وہ بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔

تاہم تاریخی حقیقت یہ ہے کہ محض جذبات کے بل بوتے پر پائیدار تعلق استوار نہیں کیا جا سکتا جب کہ اس کو معاشی اساس میسر نہ ہو اور اس مرتبہ بڑے حساب کتاب سے اقتصادی پہلو کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔ اس راہداری کو استعمال کرنے والے اس کی فیس دیں گے جب کہ تیل گیس اور بجلی کی لائنوں سے افغانستان کو اربوں ڈالر کی رائلٹی حاصل ہو گی۔ پاکستان چونکہ گیس تیل اور بجلی کا بخوشی طلبگار ہے جو یہاں سے آگے بحر ہند تک بھی پہنچائی جا سکتی ہے جس سے دونوں ملکوں کو زبردست فائدہ ہو گا۔

اس سے نواز شریف حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسی کی بھی آئینہ داری ہوتی ہے اور گزشتہ کئی عشروں کے بعد ہم علاقے میں کچھ امن اور استحکام کی امید کر سکتے ہیں۔ تاہم اب میاں صاحب کو درون خانہ کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے انتخابی اصلاحات کا ڈول ڈالنا چاہیے جو نہ صرف ملک کی سیاسی فضا بلکہ اقتصادیات کے لیے بھی بہت سود مند ہو گا اور عوام الناس کی حالت بہتر ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size