دھرنا ہو تو ایسا ہو

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مولانا آزاد کی یہ بات اپنی جگہ کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ مولانا کا مطلب یہ ہے کہ سیاستدانوں کا دل درد مند نہیں ہوتا لیکن ہم نے ایسے سیاستدان بھی دیکھے اور سنے ہیں کہ ان کے پاس دل تو ہوتا ہے مگر پتھر کا ہوتا ہے یعنی سنگ خارا۔ ان سیاستدانوں کی ایک تازہ بلکہ تروتازہ مثال ہمارے سندھ کے وزیراعلیٰ شاہ صاحب ہیں ان کے صوبے کے علاقے تھر میں نوزائیدہ بچے بھوک اور پیاس دونوں سے مر رہے ہیں بھوک تو یہ ہے کہ ان کی بھوکی اور نڈھال ماؤں کے سینے میں دودھ ہی نہیں رہا اور پیاس یوں کہ تھر کے علاقے میں انسانوں کے پینے کا میٹھا پانی نہیں ہے۔

اس طرح یہ پاکستانی بچے دوگونہ عذاب کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ویسے یہ بچے خوش نصیب ہیں کہ ہماری اس دنیا کو دیکھنے کے مسلسل عذاب سے بچ جاتے ہیں اور جنت میں چلے جاتے ہیں۔ جناب وزیراعلیٰ نے ان بچوں کے بارے میں متعدد دلخراش اور دلچسپ بیان جاری کیے ہیں اب تازہ بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ یہ بچے تو تھر میں مرتے ہی رہتے ہیں پہلے بھی مرتے تھے اب بھی مرتے ہیں لیکن اب کے ان کی موت کا نوٹس لیا گیا ہے۔ محترم شاہ صاحب نے گزشتہ دنوں اس علاقے میں اپنی کابینہ کا اجلاس بھی کیا تھا اور سو سے زیادہ گاڑیوں نے دھول اڑائی تھی مگر اس کا نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور یہ بچے اب بھی بھوک اور پیاس دونوں سے مر رہے ہیں اور اپنے حکمران کی سنگدلی کو یاد کر رہے ہیں۔

سندھ سے ایک اور خبر موصول ہوئی ہے ایسی کسی خبر کو پڑھنے کی حسرت تھی جو اب پوری ہوئی ہے۔ رشوت ستانی کے خلاف سندھ کے ایک سابق وزیر ذوالفقار مرزا نے دھرنا دیا ہے پہلا دھرنا جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد دھرنا تھا۔ مرزا صاحب لوگوں کو جمع کر کے رشوت ستانی اور کرپشن کے خلاف باہر نکل آئے اور ڈی سی آفس کے باہر دھرنا شروع کر دیا۔ اس دوران مختار کار کے خلاف رشوت کی شکایات پر ان پر چڑھائی کر دی جس کے نتیجے میں مختار کار وہاں سے فرار ہو گیا۔

یہ دھرنا دیکھ کر اور وہ بھی ایک سابقہ وزیر داخلہ کی قیادت میں برپا احتجاجی دھرنے میں لوگوں نے شکایات کا انبار لگا دیا ۔ ایک عورت نے الزام لگایا کہ بدین کے مختار کار نے اس سے پچاس ہزار روپے کی رشوت لی مگر کام بھی نہیں کیا۔ مرزا صاحب نے اپنی جیب سے پچاس ہزار روپے اس خاتون کو ادا کر دیے۔ اس دھرنے کے دوران رشوت خور عملہ دفتر سے فرار ہو گیا۔ مرزا صاحب اس سے یہ رشوت واپس وصول کرنا چاہتے تھے۔

اس کے بعد ڈپٹی کمشنر بدین محمد رفیق اور ایس پی حسیب افضل بیگ، مرزا صاحب کو منانے کے لیے دھرنے میں پہنچے جہاں ان کے درمیان تکرار ہو گئی۔ اس گرما گرمی میں ڈی سی وہاں سے چلے گئے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ سرکاری دفتروں میں کوئی کام بھی بغیر رشوت کے نہیں ہوتا۔ پیدائشی سرٹیفکیٹ سے لے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اجراء تک کی رشوت لی جاتی ہے۔ وہ اپنے ساتھ پندرہ بیس لاکھ روپے نقد لائے ہیں تاکہ وہ غریب لوگوں کی طرف سے افسران کو رشوت دے سکیں اور ان کے کام کرا سکیں۔

سرزمین پاکستان میں یہ واقعہ اور دھرنا ہم پاکستانیوں کی خوش نصیبی کی علامت ہے کہ ہمارے بعض سیاستدان اس قدر درد مند دل رکھتے ہیںکہ غریب لوگوں کی اپنی جیب سے مدد بھی کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ رشوت خوروں کے خلاف دھرنے بھی دیتے ہیں۔ ضلع بدین کے اس سیاستدان کا یہ دھرنا ایک قومی دھرنا ہے جس کے نعروں میں غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی آوازیں شامل ہیں اگر یہ دھرنے ملک کے دوسرے حصوں میں بھی چل نکلیں تو شاید بدعنوانی اور کرپشن میں کچھ افاقہ ہو جائے۔ یہ صورت حال صرف سندھ کے ضلع بدین کی نہیں پورے ملک کی ہے اور رشوت ہر جگہ چل رہی ہے اگر کوئی سرکاری ملازم رشوت نہیں لیتا تو اسے کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے کہ تم ہمارے کام میں رکاوٹ نہ بنو۔

جس ملک میں رشوت نہ لینے والا کوئی عام ملازم یا افسر ہیرو سمجھا جاتا ہو اس کی اخلاقی کیفیت کا آپ اندازہ لگا لیں کہ تنخواہ لینا اور ڈیوٹی ادا کرنا کوئی کمال کی بات نہیں لیکن اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ہمارا پسندیدہ پاکستانی اور ہیرو ہے۔ اگر غور کریں تو یہ بھی ایک اچھی بات ہے کہ نیکی کی قدر افزائی کا جذبہ باقی ہے ورنہ جن قوموں میں یہ جذبہ ختم ہو گیا ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا۔ ہم پاکستانی ابھی تک کچھ زندہ ہیں کہ نیکی کی قدر باقی ہے اور اچھائی کی عزت کی جاتی ہے یہاں ہر لیڈر سے زیادہ باعزت اور محبوب خلائق عبدالستار ایدھی ہے ڈاکٹر امجد ثاقب ہے اور اس طرح کے دوسرے پاکستانی ہیں جو غریبوں اور مجبوروں کی رضا کارانہ مدد کرتے ہیں۔

افریقہ کے ایک مسیحی لیڈر نیلسن منڈیلا کے اس قول کا میں حوالہ دیتا رہتا ہوں کہ غربت نقد مالی امداد سے نہیں انصاف سے دور ہو سکتی ہے اور ہمارے خلفائے راشدین تو اس انصاف کے ساتھ ہی دنیا میں خوشحالی اورامن قائم کرتے رہے۔ دنیا نے جہاں بانی کا فن ان سے ہی سیکھا اور بعد میں بھی جو آئے وہ اگر انصاف پسند تھے تو اب تک ذہنوں میں زندہ ہیں۔ مساوات اور انصاف کسی اسلامی ملک کی دو بنیادیں ہیں جن کے بغیر کسی حکومت کو مسلمانوں کی حکومت نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے ہاں نقد امداد کے باقاعدہ محکمے قائم کیے جاتے ہیں اور اربوں روپے ان کے ذریعے تقسیم ہوتے ہیں لیکن غربت جوں کی توں باقی رہتی ہے۔

اس لیے کہ یہ رقم بانٹنے والے حکمران انصاف نہیں کرتے۔ اگر حقدار کو اس کا حق دے دیا جائے اور لوگوں کے درمیان انصاف قائم کر دیا جائے تو پھر غربت اور محتاجی کو کہاں جگہ مل سکتی ہے۔ ایک ہاتھ سے آپ لوگوں سے ان کا حق چھینتے رہیں اور دوسرے ہاتھ سے تھوڑا بہت کچھ دیتے رہیں تو مجبوری اور غربت کیسے دور ہو سکتی ہے اور پاکستان میں تو اب نوبت اس مقام تک آ چکی ہے کہ رشوت کے خلاف ہر سرکاری دفتر کے باہر دھرنا دیا جائے اور رشوت خوروں کے دلوں میں خوف پیدا کردیا جائے۔ وہ ایمانداری کے ساتھ نوکری کریں یا پھر اسے چھوڑ کر عوام کی گردنوں سے اتر جائیں۔ ایسے دھرنوں میں ہنگامہ نہیں امن ہے اور قوم کا سکون ہے۔ آج کی ہر طرح کی بدامنی چوری چکاری اور قتل و خونریزی کی وجہ انصاف کا فقدان ہے اور کچھ نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size