ضربِ عضب پر امریکی اطمینان

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ساری دنیا اس آپریشن کی کامیابی پر انگشت بدنداں ہے، امریکہ نے اس کے اعتراف میں جنرل راحیل کے سینے پر لیجن آف میرٹ آویزاں کیا ہے۔ فاتحین عالم جس علاقے میں خوف کے مارے قدم نہیں رکھ سکے اسے پاک فوج نے ایک ہلے میں دہشت گردوں سے پاک کر دیا ہے۔ جنرل راحیل شریف امریکہ کے سات روزہ دورے پر ہیں۔ چار سال بعد یہ کسی پاکستانی آرمی چیف کا دورہ ہے جس کی دعوت خود امریکہ نے دی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف بھی دو مرتبہ امریکہ ہو آئے ہیں۔ وہ باتیں کر کے واپس آ گئے۔ مگر جنرل راحیل کیا کرنے گئے ہیں ، کیا لے کر آئیں گے اور کیا دے کر آئیں گے، بہت سے سوالات ہونٹوں پر ہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔

سب سے پہلے جناب سرتاج عزیز نے اس دورے کی ناکامی کو یقینی بنانے کے لئے کردار ادا کیا، وہ وزرات خارجہ کے مشیر ہیں، دفاع ان کا شعبہ نہیں، نہ داخلہ امور کا قلمدان ان کے ہاتھ میں ہے لیکن انہوںنے بی بی سی سے انٹرویو میں فرمایا کہ ہم ان لوگوں کو کیوں ماریں جو ہمیں نہیں مارتے۔ سرتاج عزیز جو نقصان کرنا چاہتے تھے اس کا ازالہ کرنے کے لئے ہماری وزارت خارجہ کے افسران حرکت میں آئے، انہوں نے فوری بیان جاری کیا کہ پاکستان تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر رہا ہے۔

امریکہ ایک عرصے سے پاکستان پر دباﺅڈال رہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جائے، جنرل کیانی ٹالتے رہے، ٹالتے رہے، پاک فوج اس آپریشن کی تیاری کر چکی تھی مگر کیانی یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ وہ امریکی دباﺅکے تحت یہ اقدام کر رہے ہیں۔ جنرل راحیل نے کمان سنبھالی تو دہشت گردوں نے تباہی و بربادی کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑنے کی کوشش کی، ایک جرنیل کو شہید کر دیا گیا، ایک چرچ کو خون میں نہلا دیا گیا اور کراچی ائر پورٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کوشش کی گئی۔ دہشت گردوں کو مذاکراتی ڈرامے سے ایسا حوصلہ ملا کہ انہوں نے چین کے صوبے سنکیانگ میں بھی قیامت برپا کر دی، اب آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا، یہ نہ چین کی ضرورت تھا نہ امریکہ کی، ہماری اپنی بقا کا سوال تھا۔ آپریشن کی کامیابی کے بارے میں اب کوئی دوسری رائے نہیں ہے اور اسی پس منظر میں امریکہ نے جنرل راحیل کو مدعو کیا۔ وہ امریکی سنٹرل کمان کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کر چکے ہیں، پینٹاگان میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔

یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات اب منجمد نہیں رہے، ڈھیر ساری برف پگھل چکی ہے، سلالہ اور ایبٹ آباد نے دراڑ ڈال تھی۔ جنرل کیانی نے نیٹو سپلائی معطل کر دی تھی۔ مگر آہستہ آہستہ طرفین کی ضرورتیں حاوی ہو گئیں۔ امریکہ کو افغانستان سے رخت سفر باندھنا ہے، اس سے ایک خلا واقع ہو گا۔ بھارت اس کا فائدہ اُٹھانے پر تُلاہوا ہے مگر پاکستان نے پچھلے تیس برس میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، سوویت روس کو پسپا کیا ہے، اسے شکست و ریخت سے دوچار کیا ہے، اس جنگ کے اثرات کو برداشت کیا ہے،کلاشنکوف مافیا، ہیروئن مافیا، فرقہ پرست مافیا، تیس چالیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اور نہ جانے کیا کیا، بلکہ کیا کچھ نہیں۔ اب بارہ برس سے دہشت گردی کی جنگ نے پاکستان کو خون میں نہلا دیا ہے، ساٹھ ہزار بے گناہوں کا خون، معیشت کا الگ نقصان، ملک میں چارسُو اندھیرے۔ یہ صلہ ہے دہشت گردی کی جنگ کا۔ اگر ہم اس میں نہ کودتے تو امریکہ ہمیں پتھر کے دور میں دھکیل دیتا، ہم اس میں کود گئے تو پھر بھی پتھر کے دور میں دھکیل دئیے گئے۔ امریکیوں کے سامنے یہ بہی کھاتہ جنرل راحیل کھولیں گے اور مستقبل کے لئے راہ عمل کا تعین کریں گے۔

تازہ ترین اطلاعا ت کے مطابق جنرل راحیل نے امریکیوں کو مطلع کیا ہے کہ بھارتی مداخلت سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں، مغربی محاذ پر پاکستان ایک لاکھ چالیس ہزار فوج متعین کر چکا ہے تاکہ دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے کو بھی تباہ کر دیا جائے مگر عین اس وقت جب ضربِ عضب آپریشن اپنے عروج پر تھا تو بھارت نے ورکنگ باﺅنڈری اور کنٹرول لائن پر پاک فوج کو اُلجھا لیا۔ بھارت نے افغانستان میں اب تک جو اثر و نفوذ حاصل کر لیا ہے اس کے پیش نظر خدشہ یہ ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پر پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ چھیڑ دے گا۔ امریکیوں کو مستقبل کی نقشہ کشی میں بھارتی فیکٹر کو ملحوظ رکھنا ہو گا۔

یہ تو ہے شکوہ شکایت مگر جنرل راحیل کی جھولی میں کیا کمائی ہے جسے دکھا کر وہ امریکہ کو اپنے حق میں رام کر سکتے ہیں۔ کمائی سب کو نظر آ رہی ہے۔ پانچ ماہ کے آپریشن میں شمالی وزیرستان میں بارہ سو دہشت گردوں کی ہلاکت، دو سو ٹھکانے تباہ، حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان تحریک کا مکمل صفایا۔ پاک فوج کے اس روشن کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ کو سو بار سوچنا ہوگا کہ وہ افغانستان میں استحکام کے لئے بھارت پر بھروسہ کرے یا پاکستان سے معاملہ کرے جو افغانستان پر سوویت جارحیت کے دور سے امریکہ کا بااعتماد حلیف ثابت ہوا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف افغانستان کے مستقبل کا نہیں ، پاکستان کے مستقبل کا بھی ہے جو اندھیروں کی نذر ہو چکا ہے، خون میں لت پت ہے، جہاں صحرائے تھر میں بچے بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں اور پنجاب جیسے خوشحال صوبے میں نوجوان اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں ہاتھوںمیں تھامے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ جس کے صوبے بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر نام کی شے عنقا ہے اور جس کا روشنیوںمیں نہایا ہوا شہر کراچی آج بدحالی کی آخری اتھاہ کو چُھو رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے اس بااعتماد حلیف کی دستگیری کرے گا یا اسے اسی طرح یکہ و تنہا چھوڑ کر علاقے سے رخصت ہو جائے گا جیسے اس نے افغان جہاد کے خاتمے کے بعد کیا تھا۔ یہ تو ممکن نہیں کہ جنرل راحیل ان سب سوالوں کا جواب حاصل کر سکیں مگر امریکہ کو انہیں اس حد تک ضرور مطمئن کرنا پڑے گا کہ پاکستان کو اگر افغان دلدل میں دھنسنا ہے تو اس کی پشت پر مشرقی سرحد کو پُرامن بنا رکھنا لازمی ہے۔ پاکستان کے لئے ممکن نہیں کہ مغربی سرحد پر دہشت گردوں سے لڑے اور مشرقی سرحد پر بھارتی فوج سے اُلجھے۔ ایسی چومکھی جنگ میں تو امریکہ ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا۔ دیکھئے باقی ماندہ ٹرپ میں جنرل راحیل کے ساتھ امریکہ کیا کچھ طے کر پاتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size