.

دو "ڈاکٹرائنز" کی آزمائش

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر اشرف غنی کے پہلے دورہ پاکستان کے موقع پر ان کی طرف سے اس نئے بیانیے "ماضی کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے" کا اظہار ہوا تو اس کا پاکستان میں بالعموم خیر مقدم کیا گیا۔ باوجودیہ کہ اہل پاکستان کے ساتھ اسی بیانیے کا اظہار ہندوستان کی مختلف حکومتوں کی طرف سے بھی وقتا فوقتا کیا جاتا ہے لیکن نتیجہ ہمیشہ ڈھاک کے تین پات والا رہا ہے۔ اشرف غنی کے اس اسلوب کے سامنے آنے کو یوں کہیے کہ افغان صدر جنہوں نے اپنے دورہ پاکستان کو بھرپور مشاورت اور تیاری کے ساتھ قرار دیا تھا اس تناظر میں ان کے مشاورتی حلقوں کی بھی بھنک مل گئی۔ ان کی طرف سے بھارت کے سفارتی تجربے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش یوں بھی محسوس ہوئی کہ اشرف غنی نے اپنےدورے کے موقع پر اہل پاکستان کے ان تحفظات اور تشویش پر ظاہرا کوئی بات نہیں کی جو وہ پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کی افغانستان میں آزادانہ آمدورفت اور پناہ لینے کے علاوہ افغانستان میں موجود بھارتی ضرر رسانی اور پاکستان کے لیے منفی کردار کی وجہ سے ہے۔ صدر اشرف غنی نے ان معنوں میں ایسا کوئی تاثر بھی گہرا نہیں ہونے دیا کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے کرزئی حکومت کے مقابلے میں کوئی بہتر اور موثر لائحہ عمل رکھتے ہیں۔

شاید یہی وجہ بنی کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل کو اپنے امریکی دورے کے دوران امریکی فوجی حکام کی اس جانب توجہ مبذول کرانی پڑی کہ "دہشت گردی کے خلاف پاکستانی کوششوں میں بھارت کی وجہ سے مشکلات آرہی ہیں۔" پاکستان کے جہاں دیدہ، باریک بین اور گرم و سرد چشیدہ مشیر خارجہ و سلامتی امور سرتاج عزیز نے بھی صدراشرف غنی کے دورہ کے بعد ہی ایک عالمی نشریاتی ادارے کو انٹرویو کے دوران ایسا اسلوب اختیار کیا جو پاکستان کے دشمنوں میں اضافہ نہ کرنے کے حوالے سے تھا۔ بلا شبہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کی اندر کی صورت حال کا اندازہ پاکستان سمیت ہر اس ملک کو ہو سکتا ہے جو طالبان کے حربی تجربے اور استقامت کے ساتھ کھڑے رہنے ہی نہیں، کھلے عزائم سے بھی آگاہ ہے۔ طالبان کی انہی باتوں کا اعتراف خود امریکا کے سب سے بڑے اتحادی برطانیہ کے جنرل پیٹروال نے محض چند روز قبل ایک عالمی نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو میں کیا ہے، کہ انہیں افغانستان میں درپیش ہونے والے چیلنجوں کا اندازہ وہاں فوج بھیجنے سے پہلے نہ ہو سکا تھا۔ جنرل وال نے اپنی فوج کے پاس وسائل کی کمی کا بھی رونا روتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کو افغانستان بھجوانے کی وجہ نیٹو سے کیا گیا وعدہ بنا تھا۔

اگر برطانوی فوج کے جرنیل کے ان خیالت کو درست مان لیا جائے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ امریکا اس ٹرائکا کا باضابطہ حصہ بن کر افغانستان سےاگلے ماہ واپس جارہا ہے جس کی 1842 میں برطانیہ نے بطور ایک سپر پاور بنیاد رکھی تھی اور ایک دوسری سپر پاور سوویت یونین نے 1989 میں کئی سال کی معاشی، فوجی اور جانی و اسلحی قربانی کے بعد بے نیل و مرام افغانستان سے انخلاء قبول کیا تھا۔ سوویت یونین کے لیے بلا شبہ یہ انخلاء صرف افغانستان سے ثابت نہ ہوا بلکہ بعد ازاں اسے عالمی نقشے سے بھی کوچ کرنا پڑاتھا۔ اب امریکا بھی ماضی کی دو سپر پاورز کے نقش قدم پر پے۔

ایسے میں پاکستان کے پختون مشیر خارجہ نے بڑھے سیدھے اور دو ٹوک بیانیہ کا سہارا لیتے ہوئے پاکستان کی پوزیشن واضح کی ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ اشرف غنی پاکستان کو کوئی یقین دہانی کرا کے نہیں گئے بلکہ صرف پاکستان سے یقین دہانی لینے آئے تھے۔ ان کی یہ فکر مندی بلاوجہ بھی نہیں ہے انہیں امریکی انخلاء کے بعد طالبان کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے انہوں نے افغان صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالتے ہی سعودی عرب اور چین کا دورہ کیا اور پاکستان بھی آئے ۔ لیکن افسوس کہ پاکستان آمد کے موقع پر وہ یکطرفہ تعاون کے خواستگار نظر آئے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے خارجہ اور دفاعی شعبوں میں اعلی ترین مناصب پر فائز شخصیات کو لب کشائی پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی ان دونوں اہم شخصیات نے ابھی اس اجمال کی تفصیل میں جانا پسند نہیں کیا۔ حالانکہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی جس میں بلوچستان میں بغاوت اور علیحدگی کے نام پر جاری دہشت گردی کے لیے تقویت کے مراکز کی بھی بات کی جا سکتی تھی۔ بظاہر اس طرح کی بات نہیں کی گئی ہے اور اگر کی گئی ہے توشاید اشاروں کنایوں میں کی ہے۔ ممکن ہے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو درپیش اس چیلنج کی تفصیل کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھا گیا ہو۔ تاہم یہ طے ہے کہ پاکستان اس سب کچھ کو ایک حد تک ہی برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن پاکستان جس کے فوجی سربراہ کی ایک شناخت "اندرونی خطرات ہی اصل خطرات" کی ڈاکٹرائن کے ساتھ سامنے آئی تھی۔ پاکستان کی سلامتی کو درپیش مذکورہ بالا خطرات کو امریکا، اور دوسرے نظر انداز کرتے ہیں تو جنرل راحیل کو پاکستان کی روایتی دفاعی ڈاکٹرائن کی طرف پلٹنا پڑے گا۔

پاکستان کی طرف سے فی الحال افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کو روکنے کی اطلاعات نہیں ہیں۔ ممکن اس کی ایک وجہ اس معاملے میں افغانستان کا کردار امریکا کو محض فوجی اڈے اور سرزمین کے استعمال کی اجازت دینے کی حد تک ہو۔ لہذا سرکاری طور پر امریکی ڈرون حملوں کو ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے خلاف قرار دینے والا پاکستان امریکا سے یہ مطالبہ کرے کہ جب افغانستان سے انخلاء مکمل ہو گیا ہے اور امریکا نے افغانستان میں فوجی کارروائی بھی ختم کر دی ہے تو پاکستان پر ڈرون حملے کیوں جاری ہیں۔ امریکا کو پاکستان میں ڈرون حملوں کو اب سبھاو کے ساتھ روک کر سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے پاکستان اور اس کی پاک فوج پر اعتماد کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر پاکستان کی حکومت اور فوج کے لیے اپنی قوم کو یہ اطیمنان دلانا مشکل تر ہو جائے گا کہ افغانستان میں امریکی آپریشن ختم ہونے کے بعد پاکستان کی حرماں نصیبی کے دن بھی ختم ہو گئے ہیں۔ یقینا ان ڈرون طیاروں کی افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے کےلیے پرواز اگر اب بھی نہ رکی تو افغانستان کے نئے صدر اور حکومت کے لیے پاکستان کے تعاون کا جواز کمزور پڑ سکتا ہے۔ یہ بات پاکستان کو بدیر نہیں جلد باور کرانا ہو گی۔ ان معنوں میں پاک افغان تعلقات کے نئے دور کے لیے ان نئے چیلنجوں کا ادراک ہر طرف اور ہر سطح پر ضروری ہے۔

افغان سرزمین کو اب پاکستان کے خلاف کوئی اسلحی و عسکری حوالے سے استعمال کر سکے اور نہ ہی نگرانی اور انٹیلی جنس کی ضروریات کے لیے اور نہ ہی تخربی ریشہ دوانیوں کے لیے استعمال نہ کر سکے گا۔ افغان صدر اشرف غنی کو بھی نئی شروعات کے حوالے سے پیش کردہ ڈاکٹرائن کو اپنی ثابت کرنے کے لیے پاکستان کی طرف سے ان امور پر کھلی بات شروع ہونے سے پہلے خود ہی قدم بڑھانا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا، تو اشرف غنی اس ڈاکٹرائن کا کریڈٹ نہیں لے سکیں گے۔ بلکہ الٹا یہ ان کے قدموں کی زنجیر بن جائے گی کہ انہوں نے پاکستان آتے ہوئے پہلا سبق ہی بھارتی نیتاوں سے لیا تھا۔ اس صورت میں دوطرفہ اعتماد سازی کیونکر ممکن ہوگی؟

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.