.

ایک ’’اسٹیٹس کو‘‘ ملک

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب بھی میں بنگلہ دیش واپس آتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی اور ادارہ زوال کا شکار ہو چکا ہے۔ گزشتہ مرتبہ یہ پارلیمنٹ تھی اور اس مرتبہ عدلیہ جو ایک چوٹی کے وکیل کے تبصرے کے مطابق بس موت بانٹنے والا ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔

لیکن جو چیز افسوسناک ہے کہ ایک ایسا ملک جس نے بہت جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی وہ اب محض ایک ’’اسٹیٹس کو‘‘ معاشرہ بن کر رہ گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اب بھی یہ ملک فوج کے سائے میں لیکن فوج روز مرہ کی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی تاہم ایک چوٹی کے ریٹائرڈ آرمی افسر کے مطابق ’’ہم نے ایک مرتبہ حکومت کی تھی لیکن ہمیں پتہ چل گیا کہ یہ معاشرہ الجھے ہوئے ذہن کے لوگوں کی بادشاہی کو فوج کی منظم حکمرانی پر ترجیح دیتا ہے۔

آج بھی چیلنج ویسا ہی ہے گو کہ اس کی شکل مختلف ہے وزیر اعظم حسینہ شیخ تمام طاقت اپنی ذات میں اکٹھی کر رہی ہیں اور کلیدی عہدوں پر ایسے افسروں کو تعینات کر رہی ہیں جو ان کے وفادار ہیں۔ وہ اپنی ذات میں ہی قانون بن گئی ہیں حالانکہ اس ملک کے لوگ اپنی سرکشی اور آزاد خیالی کے حوالے سے اپنی شناخت پیدا کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم حسینہ پارلیمنٹ کو کنٹرول کرتی ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) نے بغیر سوچے سمجھے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے عوامی لیگ کے لیے، جس کی سربراہ حسینہ شیخ ہیں، میدان کھلا چھوڑ دیا۔ ۔ نتیجتاً انھوں نے پارلیمنٹ کی %60 سے زیادہ نشستیں جیت لیں حالانکہ ابھی ووٹنگ کا آغاز ہی نہیں ہوا تھا۔ یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اب نئے انتخابات کروائے جائیں گے تا کہ موجودہ انتخابات کے بارے میں جعل سازی کا تاثر ختم ہو سکے۔ لیکن اس کے برعکس حسینہ شیخ نے اپوزیشن کے بغیر ایوان پارلیمنٹ کو بہت پسند کیا حتی کہ گمنام اراکین پارلیمنٹ یہ یقین کرنا شروع ہو گئے کہ یہ حسینہ کی مقبولیت تھی جس نے انھیں ایوان کا رکن منتخب کروا دیا ہے۔

یہ بہت بری بات ہے اور اس سے بھی بری بات حکمران پارٹی کی یہ سوچ ہے کہ انتخابات باعث زحمت‘ بے ہنگم اور غیر یقینی ہوتے ہیں۔ لہذا عوام کی رائے جاننے کے لیے کوئی اور طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ مجھے ڈر ہے کہ حسینہ جو کہ اپوزیشن کو ویسے ہی پسند نہیں کرتیں اپنے بے تحاشہ اختیارات کے زعم میں انتخابی عمل کو کہیں مکمل طور پر ترک ہی نہ کر دیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ لوگ احتجاج کے طور پر سڑکوں پر نکل آئیں گے لیکن پرعزم تحکم رکھنے والی انتظامیہ کے لیے اس قسم کی صورت حال پر قابو پانا کوئی مشکل کام نہیں جیسا کہ یہ ماضی میں بھی کرتی رہی ہے۔ان حالات کی اصلاح کے لیے عدلیہ کی آزادی ناگزیر ہے۔

بنگلہ دیش کے ایک صحافی نے، جو دو دہائیوں سے عدالتی رپورٹنگ کرتا رہا ہے، مجھے بتایا کہ کرپشن عدلیہ کے مکمل وجود میں داخل ہو چکی ہے۔ ’’انصاف بِکتا ہے اور ججوں کے بیٹے انھی عدالتوں میں وکالت کر رہے ہیں جن کے بنچ میں ان کے والد یا چچا بیٹھے ہوتے ہیں‘‘۔ اس سے صورت حال اور زیادہ بگڑ گئی ہے۔ وزیر اعظم حسینہ نے ججوں کی تعیناتی میں بے ضابطگی کی انتہا کر دی ہے۔ بنگلہ دیش کا آئین کہتا ہے کہ ججوں کو صدر وزیر اعظم کے مشورے سے تعینات کرے گا۔ حسینہ نے ’’مشاورت‘‘ کے معنی کو وسیع تر کرتے ہوئے ’’اتفاق رائے‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ایسے ایسے ناتجربہ کار وکیلوں کو ججوں کے منصب جلیلہ پر فائز کر دیا گیا ہے۔

جن کی واحد خوبی حکمران عوامی لیگ سے وفاداری کا دم بھرنا ہے۔ججوں کے فیصلے مبینہ طور پر کسی ایک طرف واضح جھکاؤ رکھتے ہیں اور ان کا معیار گھٹیا اور انداز بے ڈھنگا ہوتا ہے۔ لیکن کوئی ان کے تقرر کو چیلنج کرنے کی جرات نہیں کرتا کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے خلاف ’’دشمن کا حامی‘‘ ہونے کے نعرے بلند ہونگے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بی این پی بڑے بڑے ہجوم اکٹھے کر رہی ہے لیکن جو لوگ پارٹی لیڈروں کو سننے کے لیے آتے ہیں ضروری نہیں کہ ان کے پیروکار بھی ہوں۔ حکمرانوں پر تنقید عوام کے کان کی موسیقی ثابت ہوتی ہے۔ وہ روز افزوں گرانی اور شدید افراط زر کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

تاہم اگر کسی جماعت کے پاس حقیقی معنوں میں وفادار پیروکار موجود ہیں تو وہ صرف جماعت اسلامی ہے۔ ان کی بنیاد پرستی میں اب بھی ایک کشش ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں پاکستان نواز عناصر بہت تھوڑے ہیں۔ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق ان کی شرح اندازاً %20 ہے جب کہ عوامی لیگ کے حامیوں کی شرح 30 سے %35 تک ہو سکتی ہے۔

مجھے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو دوستانہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ یہ حسینہ شیخ کا کریڈٹ ہے کہ اس نے دونوں ملکوں کے مابین جو تلخیاں تھیں وہ ختم کر دی ہیں۔ اب بنگلہ دیش میں بھارت دشمن شدت پسند موجود نہیں ہیں۔ جس بات پر کہ نئی دہلی کو ماضی قریب تک بہت تشویش رہی ہے۔

افسوس کہ اب یہاں وہ مثالیت پسندی بھی نظر نہیں آتی جو اس وقت نمایاں تھی جب بنگلہ دیشی آزادی کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ دور ان کا مثالی دور تھا۔ پاکستان کے خلاف ان کے دل میں کوئی تلخی باقی نہیں ہے حالانکہ اس کی طرف سے تحریک آزادی کو کچلنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ’’ہمیں تو ان پر (یعنی پاکستانیوں پر) ترس آتا ہے‘‘۔ بہت سے بنگلہ دیشیوں کا یہ کہنا ہے جب وہ اپنے ملک کو گوناگوں مسائل میں گھرا ہوا دیکھتے ہیں اور وہ باقاعدہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک اوسط درجے کا بنگلہ دیشی ایک اوسط درجے کے پاکستانی سے بہتر ہے۔

ممکن ہے یہ درست ہو لیکن اب اس معاشرے میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آتا جو میں نے اپنے گزشتہ دوروں میں دیکھا تھا۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ لوگ تھک گئے ہیں۔ اور انھوں نے حکمرانوں کے تحکمانہ انداز کو قبول نہیں کیا۔ لگتا ہے کہ حسینہ کو اس کا احساس ہو گیا ہے چنانچہ اس نے خاندانی حکمرانی قائم کرنے کا ارادہ کر لیا ہے جس کا ان کے والد اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان پر شبہ کیا جاتا تھا کہ وہ اپنی بیٹی حسینہ کو اپنا جانشین بنانے کی تربیت دے رہے ہیں۔

حسینہ کا بیٹا آج ملک کا سب سے طاقتور شخص ہے حالانکہ اس کا قیام امریکا میں ہے تاہم شیخ حسینہ نے اس کو ایک تکنیکی میدان میں سرکاری منصب بھی دے رکھا ہے اور مبینہ طور پر اس کو تنخواہ بھی ادا کی جاتی ہے۔ بلاشبہ اس سارے معاملے سے خاندانی حکمرانی کی جھلک نظر آتی ہے۔ غالباً حسینہ نے اندرا گاندھی‘ راہول گاندھی کے خاندان سے ایک سبق حاصل کیا ہے۔ فوج ملک کا طاقتور ادارہ ہے۔ وہ بڑے اطمینان سے ایک طرف بیٹھے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا ادارہ کسی بھی سیاسی پارٹی سے زیادہ مقبول ہے۔ حسینہ نے آرمی افسروں کو بہترین مراعات اور تنخواہیں دیکر انھیں اپنا طرفدار بنا رکھا ہے۔

میں نے ایک چوٹی کے ایڈیٹر سے پوچھا کہ آخر لوگ مسلح افواج کے خلاف بغاوت کر کے انھیں باہر کیوں نہیں نکال دیتے۔ اس نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس تصادم کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس نے کہا کہ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے والی بات ہو جائے۔ ممکن ہے کہ جماعت اسلامی کے منظم بنیاد پرستوں کی فتح ہو جائے۔ اور یہی خدشہ ہے جو تبدیلی کے خواہش مند آزاد خیال لوگوں کو بھی کسی پیشرفت سے باز رکھے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش ’’اسٹیٹس کو‘‘ کو کیوں چھیڑنا نہیں چاہتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.