.

بالائی کھانے والا بالائی طبقہ!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ اکثر بالائی طبقے کا ذکرکرتے ہیں۔ یہ بالائی طبقہ آخر چیز کیاہے جس نے ہم سب کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ میرے خیال میں سوال کنندہ کو علم ہے کہ بالائی طبقہ کیا ہوتاہے، اگرانہیں واقعی علم نہیں تو ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ طبقہ وہ ہے جو دودھ پر سے ’’بالائی ‘‘اتار کر کھاجاتا ہے اور باقی جو ’’پھوک‘‘ بچتا ہے اس میں چھپڑ کا پانی ملا کر 18 کروڑ عوام میں تقسیم کردیتا ہے۔ تاہم یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ میرا اشارہ گجروں کی طرف نہیں ہےکیونکہ گجر توبڑے بھلے مانس لوگ ہوتے ہیں۔ وہ دودھ میں پانی ملاتے ہیں تو گاہکوں کو بتاکر ملاتے ہیں۔ نیزاپنی بڑائی کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتے بلکہ خودکوگناہگا ر سمجھتے ہیں اور اپنے اس گناہ کی تلافی کے لئے ہر سال داتا صاحبؒکے عرس پرزائرین کو خالص دودھ مفت سپلائی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بالائی طبقہ دودھ پر سے بالائی اتارنے اور بچے کھچے دودھ نما چیز میں چھپڑ کا پانی ملانے کے باوجود خود کو ملک و قوم کا محسن بھی قرار دیتا ہے۔ معزز بن کراعلیٰ مسند پر فائز بھی ہوتا ہے، حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ بھی بانٹتا ہے اور فراعنہ مصر کے بعد یہ واحد طبقہ ہے جس کے افراد کو یقین ہے کہ انہوں نے مرنا نہیں ہے اور خدا کے حضور بھی پیش نہیں ہونا۔ یہی وجہ ہے کہ اس طبقے کے افراد انسانوں سے خدا کے لہجے میں بات کرتے ہیں، بہت سے انسان تو انہیں خدا سمجھ بھی بیٹھتے ہیں چنانچہ ان کے قصیدے لکھتے ہیں اور ان کے حضور سجدہ ریز ہوتےہیں لیکن جب سجدے سے سر اٹھاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا’’خدا‘‘ تو مرچکا ہے۔ پھرانہیں افسوس ہوتا ہےکہ انہوں نے ایک فانی انسان کے قصیدےکیوںلکھے۔ان کی تو ساری مناجاتیں ضائع چلی گئیں۔ مگر حیرت ہے کہ اس کے باوجود وہ کسی نئے ’’خدا‘‘ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور از سر نو مناجات کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔

بالائی طبقے کے افراد کی موت کے حوالے سے جو تحقیق ہوئی ہے اس کے مطابق ان کی موت بھی زیادہ تعداد میں بالائی کھانے سے ہوتی ہے۔ جب تک یہ تھوڑا تھوڑا کھاتے رہتے ہیں یہ چاق و چوبند رہتے اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے عوام کو یہ یقین دلانے میں کامیاب بھی رہتے ہیں کہ ملک و قوم کی بقا کے لئے ان کی بالادستی ضروری ہے لیکن جب یہ دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کرتے ہیں اور عوام نان جویں کے لئے بھی ترسنے لگتے ہیں تو ایک طرف عوام میں ان کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے اور دوسری طرف زیادہ تعداد میں بالائی کھانے سے ان کے جسم اور دماغ پر اتنی چربی چڑھ جاتی ہے کہ وہ عوام کو بے وقوف بنانے والے فیصلے عقلمندی سے نہیں کرپاتے جس کے نتیجے میں ان کے خلاف بغاوت ہو جاتی ہے اور تخت کی جگہ تختہ ان کا مقدر بنتا ہے۔ چنانچہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ روس، چین، ایران، فرانس اور دوسرے بہت سے ملکوں میں بالائی طبقے کی موت زیادہ بالائی کھانے کی وجہ سے ہوئی۔ ان واقعات کے نتیجے میں بالائی طبقہ پر دنیا کی بے ثباتی کا اس درجہ اثر ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے بچے کھچے دن قوم کی بچی کھچی بالائی پر بھی ہاتھ صاف کرنےمیںبسر کردیتے ہیں کہ اگرمرنا ہی ہے توکیوں نا بالائی کھاتے ہوئے مرا جائے۔ یہ سوچ ان کی کم فہمی کا نتیجہ ہے۔ یورپ کے بالائی طبقے نے سبق سیکھا اوراپنے حصےمیں سے عوام کو بھی حصہ دینا شروع کردیا جس کے نتیجے میں عوام بھی موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے اور یہ طبقہ بھی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا مگر پسماندہ ممالک کا بالائی طبقہ ذہنی طور پر بھی پسماندہ ہوتا ہے۔ چنانچہ آخری گھنٹی بجنے پر بھی وہ ہوش میں نہیں آتا جس کا خمیازہ اسے بہرحال بھگتنا پڑتا ہے۔

بالائی طبقے کے بارے میں بتانے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کچھ عرصے سے اس طبقہ کے افراد خود کو عوامی ثابت کرنے کے لئے نچلے طبقے کے چند افراد کو بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اس نچلے طبقے کے افراد اپنے طبقے کے مفادات کی حفاظت کی بجائے اپنے آقائوں کے مفادات کےمحافظ بن جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کو یہ یقین دلانے میں لگے رہتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں بالائی طبقہ ان کے حقوق پر چھاپہ نہیں مار سکتا۔ کچھ عرصے تک ان نمائشی پہلوانوں کی حکمت عملی بہت کامیاب رہتی ہے یعنی عوام انہیں اپنا سمجھتے رہتے ہیں لیکن ایک وقت آتا ہے کہ ان کٹھ پتلیوں کی حقیقت عوام پر واضح ہو جاتی ہے۔ مگر اس وقت تک نچلے طبقے کے یہ افراد بنفس نفیس بالائی طبقے میں تبدیل ہوچکے ہوتے ہیں اور یوں بیچارے عوام صرف دانت کچکچا کر رہ جاتے ہیں۔

یوں تو بالائی طبقے کے بارے میں بتانے کی اور بہت سے باتیں ہیں لیکن طوالت سے بچنے کے لئے آخر میں صرف عرض کرنا ہے کہ بالائی طبقہ کسی ایک طبقے کا نام نہیں بلکہ اس میں بہت سے مفاداتی اور طاقتورگروپ شامل ہوتے ہیں۔ یہ طبقہ بزنس مین، بیوروکریٹ، سیاستدان، جرنیل، حکمران، اپوزیشن وغیرہ کا ملغوبہ ہوتا ہے۔ اس کے متنوع ہونے کا اندازہ آپ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ بالائی طبقہ بیک وقت چوروں اور ’’سادھوئوں‘‘ پر بھی مشتمل ہوسکتاہے اوریہ ان کی بقا کے لئے ضروری ہے۔ تاہم واضح رہے بقا صرف خدا کی ذات کو ہے، باقی سب کو فنا ہوتا ہےاور ایمان والوں کو اس میں کوئی شک نہیں.....!

اور آخر میں ان کے شر سے بچنے کے لئے عامر سہیل کی ایک مختصر نظم ’’خلق خدا کے لئے دعا‘‘ بھی پڑھ لیں!

خلق خدا کے لئے ایک نظم
مری آنکھ، میرا قبیلہ دعا
مرے ہاتھ، میرا وسیلہ دعا
میں راتوں کو رازوں کے پہرے میں ہوں
کنویں میں ہوں اور سب سے گہرے میں ہوں
مری پشت پر کوئی دجلہ نہیں
مرے خون کا کوئی بدلہ نہیں
عطا کائناتوں کے نقشے تمہیں
وہ رب سماوات بخشے تمہیں
عامر سہیل، بہاولنگر

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.