.

بنتی گرینڈ گیم اور پاکستان

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ہفتے میں بڑی تیزی سے ایسی ایسی خبریں آ رہی ہیں جو جنوبی ایشیا جنوب مغربی ایشیا (پاکستان، افغانستان، ایران اور ترکی) اور روس تا افغانستان لینڈ لاکڈریجن کی صورتحال میں بڑی تبدیلیوں کا واضح عندیہ دے رہی ہیں۔ ان خطوں اور ان کے ممالک میں آشکار ہو رہا ہے کہ پاک چین، پاک روس، پاک افغانستان، پاک بھارت، پاک ایران، امریکہ بھارت، پاک امریکہ، افغان بھارت اور امریکہ افغان کے کروٹ لیتے دو طرفہ تعلقات، عالمی سیاست کے رواں مرکز و محور، تینوں خطوں اور ان کے سنگم پاکستان و افغانستان کے خارجی اور داخلی امور کو بہت بلند درجے پر متاثر کریں گے۔ بالکل واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اپنے جغرافیائی محل وقوع اور مجموعی پوزیشن کے حوالے سے، دوبارہ بہت اہمیت اختیار کرنے کو ہے۔ نئے دو طرفہ تعلقات کی غیرمعمولی صورت کے اعتبار سے تینوں خطوں اور ممالک کے باہمی تعلقات کی مخصوص گیم میں پاکستان اور افغانستان کو اپنے جملہ نوعیت کے مفادات کے لئے بہت مستعد اور سرگرم ہونا ہو گا۔ ملک کے خارجی امور خصوصاً نئے پاک افغان تعلقات، بھارت میں جارحانہ مزاج کی حامل بنیاد پرست ہندو حکومت کا قیام بھارتی سیکولر ازم کا تیزی سے مغلوب ہونا اور نئے پاک روس و چین تعلقات کی سرگرمی ادھر بھارت کے لئے بہت کچھ نظر انداز کر کے امریکہ کی بڑھتی ہوئی نازبرداریاں، ان خطوں میں ہونے والی گرینڈ و سفارتی گیم کا پتہ دے رہی ہیں اس تناظر میں میں گزشتہ روز دوسری وزیر دفاع کے دورہ اسلام آباد سے شروع ہونے والے پاک روس دفاعی تعلقات کے معاہدے کو خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

ساتھ ہی صدر اوباما کے دورہ بھارت قبل، ان کا وزیر اعظم نواز شریف کو خیرسگالی کی کال اور بہتر پاک، بھارت تعلقات کی امریکی خواہش کے روایتی اظہار کرنا اور وزیراعظم نواز شریف کا جموں و کشمیر کونسل سے خطاب کرتے ہوئے یہ بیان کہ ’’پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا کر بھارت اپنے گناہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے قبل کشمیری رہنمائوں سے مشاورت کریں گے۔‘‘ بھارتی رویئے سے مایوس ہو کر وزیراعظم پاکستان کی لی گئی نئی پوزیشن کا عکاس ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کے حریت رہنمائوں سے ملاقات کو وجہ بنا کر دونوں ملکوں کے درمیان معطل امن عمل کی امکانی بحالی کے امکان کو ختم کر دیا ہے۔ یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ دو ماہ قبل جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھارتی سفارتی ذرائع نے نیو یارک میں پاک بھارت وزراء اعظم کی روایتی رسمی ملاقات کے برعکس ملاقات نہ ہونے کے امکانات کو بار بار واضح کیا، جبکہ دوسری جانب برسوں کے بعد جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تاریخی اور حقیقی موقف کو ایک بار پھر دہرایا اور عالمی برادری پر مسئلہ کشمیر کی حساسیت کو واضح کیا۔ اس دوران، اس سے قبل اور بعد بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری، دونوں کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی اور آزاد کشمیر کے دیہات پر بھارتی بمباری اور پاکستان کی جوابی کارروائی کا سلسلہ جاری رہا۔ گویا پاکستان کے گرد و نواح میں شطرنج کے ایک بڑے کھیل کی تیاریوں کے لئے بساط بن رہی ہے، جس میں اسلام آباد اور کابل کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔

ہمارے لئے فکر کی بات یہ ہے کہ ایسی بڑی چیلنجنگ صورتحال میں جبکہ ہمیں ایک بہت ہی اعلیٰ استعداد کے وزیر خارجہ کی ضرورت ہے اور وزارت خارجہ کی سفارتی استعداد میں تین گنا اضافہ مطلوب ہے، حکومت کی تشکیل کو ڈیڑھ سال گزر گیا، ابھی تک پاکستان کے لئے کوئی وزیر خارجہ نہیں مل رہا اور یہ قلمدان بھی وزیر اعظم جو پہلے ہی بڑے بڑے داخلی اہداف اور مخالف سیاسی جماعتوں کے دبائو کے حوالے سے بوجھل ہیں، سنبھالے ہوئے ہیں۔ وزارت دو بزرگ مشیر چلا رہے ہیں، نہ جانے کیسی چلا رہے ہیں؟

ذرا غور تو فرمائیں کہ خارجی امور میں پاکستان کے مفاد کے حوالے سے ایک سے بڑھ کر ایک پیش رفت ہو رہی ہے اور ملک کا الگ سے کوئی وزیر خارجہ نہیں، ایک ثانوی اہمیت کے حامل کے طور پر اس صورتحال میں بھی یہ عہدہ وزیراعظم کے پاس ہے، گورننس کے اس بڑے افلاس پر جو تنقید شدت سے جاری ہے، اس میں بھی خارجی امور یکسر نظر انداز ہیں۔ کچھ داخلی سیاست کے تناظر میں ہی ہو رہا ہے۔

پاکستان میں چین کی 42 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، امریکی دعوت پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا دورہ واشنگٹن شروع ہونے سے ذرا پہلے، امریکی وزیر دفاع (پینٹا گان ) کی رپورٹ میں پاکستان سے افغانستان اور بھارت میں دہشت گردی کا الزام اور اس پر پاکستان کا یوں شدید ردعمل کہ وزارت خارجہ نے امریکی رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا اور امریکی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے اس پر احتجاج بھی کیا گیا۔ اس کے بعد واشنگٹن میں جنرل راحیل شریف کا پرتپاک خیر مقدم انہیں اعلیٰ امریکی عسکری اعزاز سے نوازنا اور اب دورہ بھارت شروع کرنے سے پہلے پاکستان کو اعتماد میں لینے کے لئے امریکی صدر اوباما کی وزیراعظم نواز شریف کو خیر سگالی کال بھی امریکہ کے بھارت سے تعلقات بڑھاتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے محتاط رہنے اور پاکستان کو ناراض نہ کرنے کی سفارتی کوشش کی شکل میں اشارہ ہے، حالانکہ پاکستان تو اب بھارت امریکہ تعلقات کی برسوں سے کوئی پرواہ نہیں کر رہا۔ البتہ پاکستان کے بلا امتیاز دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے باوجود پاکستان پر امریکہ اور بھارت کی الزام تراشی یکسر سیاسی ہے۔ جیسا کہ اعلیٰ امریکی عسکری حکام سے بات چیت کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے امریکیوں پر واضح کر دیا کہ بھارت کی پاکستان میں موجود ہشت گردی کی بھارتی پشت پناہی سے آپریشن ضرب عضب میں خلل پڑ رہا ہے۔

جنرل صاحب نے امریکیوں پر واضح کر دیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب بلا تخصیص تمام دہشت گرد گروپس کے خلاف کیا جا رہا ہے نیز یہ بھی کہ ’’پاکستان اور افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیا جائے گا۔‘‘ واضح رہے کہ جنرل صاحب کے دورے پر جانے سے ہفتہ دس روز قبل لاہور اور ایک دو اور شہروں میں ’’داعش‘‘ کے حق میں رات گئے وال چاکنگ کی گئی، لاہور میں پولیس نے کچھ ملزم گرفتار بھی کر لئے اور اب حکومت دعویٰ بھی ہے کہ ’’پاکستان میں ’’داعش‘‘ کا کوئی وجود ہے نہ ہو گا۔

پاکستان کے خارجی امور میں اتنی سرگرمی اس امر کی فوری متقاضی ہے کہ ہم اپنی ایک تجربے کار اور فعال وزیر خارجہ کی قیادت میں وزارت خارجہ کی سفارتی سکت میں جلد اور زیادہ سے زیادہ اضافہ کریں اور پاکستان کی نئی اور ہماگیر خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے۔ ایسے میں پارلیمنٹ کہاں ہے؟ اور ہے کوئی جو قوم کو آگاہ کر سکے کہ نئی بنتی گرینڈ گیم میں پاکستان کی پوزیشن کیا ہو گی؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.