.

مشرف کیس

عارف نظامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق آمر پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے نے دلچسپ شکل اختیار کر لی ہے خصوصی عدالت نے پرویز مشر ف کے اس موقف کو مانتے ہوئے کہ ایمرجنسی نا فذ کرنے کا فیصلہ محض ان کا نہیں تھا ‘سابق وزیراعظم شوکت عزیز اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد اور چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بھی اس کیس میں ملزم بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔اس طرح محض پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب ٹھہراتے ہو ئے سزا دینا اب ممکن نہیں رہا ۔اگرچہ خصوصی عدالت کے رکن جسٹس یا ور علی نے اختلافی نوٹ لکھاہے ۔خصوصی عدالت کا کہنا ہے کہ ایک سو چے سمجھے منصوبے کے تحت ایمر جنسی کی آڑ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججو ں کو سبکدوش کیا گیا وفاقی حکومت کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔

جہاں تک شوکت عزیز کا تعلق ہے وہ قانون کی دسترس سے باہر ہیں اور ان دنوںلندن میں قیام پذیر ہیں ۔کئی بڑے بڑے ملٹی نیشنل اداروں کے بورڈزپر متمکن ہیں اور دنیا بھر کی سیا حی کرتے ہیں۔ انہیں وہاں بیٹھ کر پاکستان کے حالات سے لمحہ بہ لمحہ دلچسپی تو ہو تی ہے لیکن کو ئی سروکار نہیں ۔ظاہر ہے کہ وہ مطلوب بھی ہوئے تو پاکستان واپس نہیں آئیں گے ۔جہاں تک زاہد حامد کا تعلق ہے اس کے باوجود کہ انہیں وزارت قانون کا قلمدان چھوڑنا پڑا وہ میاں نواز شریف کے قانونی مشیروں میں پیش پیش ہیں ۔جسٹس عبدالحمید ڈوگر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اب ریٹا ئر منٹ کی زندگی گزاررہے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ کہیں نیا پنڈوراباکس نہ کھول دے۔حکومت اس کے خلاف اپیل دائر کرتی ہے تو بھی یہ سارا معاملہ اپیل کے دوران زیر بحث آئے گا ۔اگرچہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مشرف نے ایمر جنسی نا فذ کرنے کے فیصلے میں دیگر افراد کو ملوث کروا کر بلا واسطہ طور پر قبول کر لیاہے کہ انہوں نے دانستہ طورپر آئین شکنی کی تھی لیکن اس فیصلے میں اور لوگ بھی شامل تھے ۔مشرف کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے علاوہ ریٹا ئر اور حا ضر سروس فوجی افسر وں کو ملوث کرنا حکومت کے لیے بہت گھاٹے کا سوداہو گا کیو نکہ موجودہ تنا ظر میں فو ج اس کی کیو نکر اجازت دے گی ۔اس بات پر بھی غور کرنا پڑے گا کہ مشرف کے استدلال کے مطابق وہ تومحض 1973ء کے آئین کے تحت صدر پاکستان تھے لیکن اس وقت کے صدر کو 1973ء کے آئین کے تحت وفاقی پارلیمانی نظام کہنا جس میں صدر کی حیثیت محض فگر ہیڈ کی ہو تی ہے مذاق سے کم نہیں ۔رولز آف بزنس کچھ کہیں لیکن اس وقت بطورچیف آف آرمی سٹاف اور صدر مشرف سیاہ وسفید کے مالک تھے اور ان کے فیصلے سے کسی شخص کا اختلاف کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرورتھا ۔

جہاں تک حکمران جماعت مسلم لیگ (ق)جسے زرداری صاحب قاتل لیگ کہتے تھے کا تعلق ہے تو وہ مرغ باد آموز کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں تھی اور شوکت عزیز جو کہ سٹی بینک سے وزیر خزانہ بنا کر لائے گئے تھے انہیں اسی بناءپر وزیراعظم بنایا گیا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین یا تو خود وزیراعظم رہنا چاہتے تھے اگر ایسا نہ ہو تو قرعہ فال کسی غیر سیاسی شخصیت کے نام نکلنا چاہیے تھا۔اسی بناءپر شوکت عزیز کی بطور وزیرا عظم تاجپوشی کی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نام نہاد ٹیکنو کریٹس جنہوں نے ملٹی نیشنلزاداروںمیں اپنے کیرئیر کا زیا دہ وقت مغرب کے جمہوری ماحول میں گزارا وہ وطن عزیز کے بارے میں جمہوری رویوں کو اختیار نہیںکرتے اور ہمیشہ ہا رڈ لائن اختیار کرتے ہیں ۔پرویز مشرف چیف جسٹس افتخار چوہدری کی آزادروی سے تنگ تھے لیکن سٹیل ملز کی پرائیویٹا ئزیشن کوکالعدم قرار دینے کے بعد وہ شوکت عزیز کے لیے بھی نا قابل برداشت ہو گئے جس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جسٹس افتخا ر چوہدری سے زبر دستی استعفیٰ مانگنے کی کو شش کی گئی اس میں بطور آئی ایس آئی جنرل اشفاق پرویز کیانی کے علاوہ وزیر اعظم شوکت عزیز بھی موجود تھے۔

بعدازاں وکلاءکی تحریک کے دوران ایک مرحلے پر جب یہ امکان غالب ہو گیا کہ جسٹس افتخار بحال ہو جائیں گے تو ایک اجلاس میں جنرل پرویز مشرف کے معتمد خصوصی اور ذاتی دوست طارق عزیز نے پرویز مشرف کو مشورہ دیا کہ جسٹس افتخار محمد چو ہدری کی بحالی کی صورت میں وہ مستعفی ہوجائیں لیکن شوکت عزیز نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی ۔ایمر جنسی پلس اگر ان کے ذہن کی اختراع نہیں بھی تھی تو وہ اس کے زبر دست حامی اور وکیل بھی تھے تاہم اگر مشرف چاہتے تو وہ ایمرجنسی نہ لگاتے کیو نکہ شوکت عزیز جیسے وزیر اعظم کو انہیں وہی تحریری ایڈوائس بھیجنا پڑتی جوان کے باس کی منشا ہوتی۔لندن میں جلا وطنی کے دوران جنرل پرویز مشرف کو یہ شدید قلق رہا کہ ان کے احسانات کی بدولت وزارت عظمی کے مزے لو ٹنے والے شوکت عزیز نے ان کا ساتھ نہیں دیا ۔ایک مرحلے پر تو تلخی اس حد تک بڑھی کہ بول چال بھی بند ہو گئی ۔

موجودہ تناظر میں تو انٹرپول کے ریڈوارنٹ ہی شوکت عزیز کو وطن واپس لو ٹنے پر مجبور کر سکتے ہیں ۔ لیکن کمانڈو مشرف کو اخلاقی جرائت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہو ئے قانونی اورتکنیکی موشگا فیوں کا سہارا لینے کے بجائے اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کر لینی چاہیے تھی۔ پاور پالٹکس کے تناظر میںمیاں نواز شریف کا مقدمہ چلانے کا اقدام ان کے لیے سنگین نتائج کا حامل تھا۔ اس سے سویلین حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات پیداہو گئے تھے۔

بعدازخرابی بسیار سنگین غداری کے الزام میں مشرف یا دیگر ملزمان کو پھانسی چڑھا نا تو درکنا رجیل بھیجنا بھی مشکل نظر آرہا تھا ۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ وطن عزیز میں سیاسی وفاداریاں بدلنے کی اتنی مکروہ روایت ہے کہ زاہد حامد مسلم لیگ (ق) سے چھلانگ لگا کر مسلم لیگ (ن) میں آگئے اورمنتخب بھی ہو گئے اور ان کو وزارت قانون کے قلمدان سے نوازا گیا۔ لیکن جب سنگین غداری کے اسی کیس میں انہیں سپریم کورٹ میں پیش ہونا پڑا تو انہیں یہ قلمدان چھوڑنا پڑگیا اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان سنبھال لیا اب خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد وہ یہاں سے بھی مستعفی ہو گئے ہیں ۔یہی حال محترمہ ماروی میمن کا ہے جنہوں نے ایک متمول خاتون کی طرح ہر پارٹی میں شاپنگ کی اور بالآخر انہیں سب سے اچھا سودا مسلم لیگ (ن) میں ملا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے نے بہت سی سیاسی منافقتوں کے بھانڈے کو بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے۔

جہاں تک پرویز مشرف کا تعلق ہے وہ تو اپنی فتح پر شادیانے بجا رہے ہوں گے۔ قانونی طورپر اب مقدمہ ازسرنو شروع کرنا ضروری ہو گا۔ یہ عمل خا صا طویل ہو سکتا ہے۔ اس وقت تک سندھ ہائی کورٹ کے ٹربیونل کے رکن جسٹس فیصل عرب سندھ ہائی کورٹ کی سربراہی کے حقدار ہو جائیں گے۔انہیں سپریم کو رٹ بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں ٹربیونل کی تشکیل نو کرنا ہو گی۔ ٹربیونل نے کسی فوجی یا سابق فوجی کو مقدمے میں فریق نہیں بنایا۔ بعض ماہرین کے مطابق خصوصی عدالت صرف مشرف کے ٹرائل کے لیے بنائی گئی تھی۔ لہٰذا اسے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹوں کی طرح آئین کی توضیح کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

یہ سارے معاملات اتنا طول پکڑ سکتے ہیں اور گنجلک ہو سکتے ہیں کہ”نہ نومن تیل ہو گا‘نہ رادھا ناچے گی” کے مصداق مشرف کے خلاف سنگین غداری کے الزام کامقدمہ چلانے کا معاملہ کھوکھاتے پڑ جائے گا۔ اس فیصلے پر فوج بھی خوش ہو گی کہ اس کے سابق سربراہ پرویز مشرف کا ٹرائل ٹل گیا ۔نیز جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی سمیت کسی فوجی کو فریق نہیں بنایا گیا۔ میاں نواز شریف نے سکھ کا سانس لیا ہو گا کہ انہوں نے مشرف پر مقدمہ چلانے کا جو پنگا لیا تھا اوراس کے نتیجے میں فوجی قیادت کی ناراضگی مول لی تھی اب یہ Irritant ختم ہو جائے گا ۔جہاں تک جسٹس یاور علی کے اختلافی نوٹ کا تعلق ہے۔ وہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے بہنوئی جسٹس (ر) خلیل رمدے کے جذبات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ مشرف کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.