.

نہرو کا انڈیا

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کھانے کے بعد انڈیا کی کانگریس پارٹی اپنے محاسبے کی کوشش میں ہے۔ اس کے پاس پھر سے ایک سیاسی قوت کے طور پر سامنے آنے کے لئے جو بہترین آپشن دکھائی دیا وہ یہ ہے کہ وہ جواہر لعل نہرو کی اُس سیاسی وراثت کو سامنے لائے جو اس عظیم رہنما اور جدید ہندوستان کے بانی نے چھوڑی تھی۔ نہرو کی پچاسویں برسی پر نئی دہلی میں ہونے والی ایک حالیہ کانفرنس، جس کی صدارت سونیا گاندھی کر رہی تھیں، میں سونیا گاندھی نے دنیا بھر سے آئے ہوئے حاضرین کو نہرو کی خوبیوں اور صلاحیتوں سے آگاہ کیا۔ اُنھوں نے کہ نہرو کی سیاسی بصیرت اُن کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ نہرو نے بھارت کے غیر جانبدار ملک اور ایک عظیم جمہوریت بننے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت بھارتی وزیرِ اعظم، نریندر مودی بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے کمر بستہ ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ مغربی ممالک کے قریب اور سیکولرازم سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا آج نہرو کی یاد کانگریس کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی؟

زیادہ تر پاکستانی نہرو کو مسلہ ٔ کشمیر کے حوالے سے یاد رکھتے ہیںکہ کس طرح اُنھوں نے ایک ولن کا کردار ادا کرتے ہوئے کشمیر میں استصواب ِ رائے کا وعدہ کیا لیکن اسے پورا کرنے سے انکاری ہو گئے۔ درحقیقت اُنھوں نے یو این میں کہا تھا کہ کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کی اجازت دیں گے، لیکن وہ دن او آج کا دن، بھارت یہ بات سننے کا بھی روادار نہیں۔ درحقیقت ’’تقسیم کا یہ ادھورا عمل‘‘ ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مستقل تنازع اور کئی جنگوں کا باعث بن چکا ہے۔ تاہم ہمیں یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ نہرو کے بغیر بھارت ایک ویسا جمہوری ملک نہیں بن سکتا تھا جیسا کہ وہ آج ہمارے سامنے ہے.... بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کہلاتا ہے۔ دوسری طرف ہم ابھی تک جمہوری راہ پر ڈگمگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔

1947ء میں جب پاکستان اور بھارت، دونوں معرضِ وجود میں آئے تو یہ ایک طرح کی جڑواں ریاستیں تھیں جو مشترکہ زبان، ثقافت اور رہن سہن کے علاوہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی تاریخ رکھتی تھیں۔ ان کی بیوروکریسی اور آئین کے بڑے حصے ایک جیسے ہی تھے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ سرحد کے آر پار عام آدمی کی زندگی میں کوئی فرق نہ تھا۔ دنوں ممالک نے جمہوریت کے لئے جد و جہد شروع کی، لیکن اس دوڑ میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا۔ آج بھارت ایک مستحکم جمہوریت اس لئے ہے کہ یہ کل ایک جمہوریہ تھی۔ ہر سال اس کاجمہوری سفر بہتر سے بہتر ہوتا گیا۔ اور یہ نہرو تھے جنہوں نے بھارت میں جمہوریت کی بنیاد رکھی اور اسے توانا کیا۔ وہاں جمہوری عمل میں کبھی رخنہ یا خلل نہیں ڈالا گیا۔ دوسری ہمارے ہاں روز اول سے ہی دفاعی اور سول افسران نے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا۔ آج ہم اس راہ پر قدم رکھنے کی کوشش میں ہیں تو اس کا ذمہ داری ہمارے کل پر عائد ہوتی ہے کہ ہمیں کوئی نہرو جیسا حکمران نہ ملا۔

اگر کھل کر بات کی جائے تو نہرو نے بھارت کے لئے ابتدائی ماہ میں جن آپشنز کا انتخاب کیا، اُنھوںنے وہاں جمہوری قدروں کی آبیاری کرنے میں مدد کی۔ بطور وزیر ِ اعظم، اُنھوں نے منتخب شدہ کابینہ سے ریاست کے معاملات کو چلایا۔ دوسری طرف ہمارے ہاں غیر منتخب شدہ افراد، جن کا تعلق فوج اور سول افسران سے تھا، پر مشتمل کابینہ نے ریاستی امور کی ذمہ داری سنبھالی۔ نہرو نے آزاد بھارت کے لئے آزادی معاشی راستے کا انتخاب کیاجبکہ ہم نے پاکستان میں فری مارکیٹ اکانومی کی طرف دیکھا۔ ہم نے امریکی امداد کا دامن تھاما اور سرد جنگ کا حصہ بن گئے۔ دوسری طرف نہرو نے بھارت کو سرد جنگ کا حصہ بننے سے بچایا۔ پاکستان نے مختلف معاہدوں میں شریک ہوتے ہوئے سوویت یونین کے خلاف امریکہ کو اپنے فوجی اڈے پیش کئے۔ آنے والے سالوں میں پاکستان مذہبی انتہا پسندی نے اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دئیے جبکہ نہرو نے انڈیا کو کثیر المذہبی، کثیر انسلی، کثیر لسانی ملک بنا دیا۔ اس کے ریاستی ڈھانچے میں کئی ایک اقوام اور مذاہب نے مل کر رہنا سیکھ لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں ریاست نے سیکولر نظریہ اپنایا اور خود کسی بھی مذہب کی سرپرستی سے دور رکھا۔

جمہوری قدروں کے احیاء کے لئے آئین اور قانون کی پاسداری کا شعور اجاگر کیا گیا۔ عقیدے کی جگہ قانون کی حکمرانی کی کوشش کی گئی۔ ہم اس کے برعکس راستے پر چلتے رہے۔ بدقسمتی سے قائد اعظم محمد علی جناح قیام ِ پاکستان کے فوراً بعد خالق ِحقیقی سے جاملے اور ان کا ریاست کے لئے سیکولر ورژن بھلا دیا گیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس ریاست میں تمام مذاہب کے لوگ یکساں شہری بن کررہیں۔ وہ کوئی ملائیت قائم کرنے نہیں جارہے تھے، لیکن ان کے بعد فوجی اور سول افسران کی کم نگاہی نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو بڑھا دیا۔ آج یہ کہنا بھی قابل ِ گردن زنی ہے کہ اس ریاست میں مسلمان اور غیر مسلم یکساںدرجہ رکھنے والے شہری ہیں۔ جدید انڈیا میں جمہوریت اور معاشی اور سیاسی آزادی کا سفر بلاروک ٹوک جاری رہا۔ تاہم آج نہرو کی خدمات یاد دلاکر کانگریس بہت بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکتی کیونکہ یہ چیزیں انڈیا سماج میں رچ بس چکی ہیں۔ آج کا بھارتی معاشی خوشحالی چاہتا ہے۔ اُسے روزگار اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سیاسی میدان میں کانگریس کی نسبت مودی زیادہ کامیاب جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ نہرو کی ایک اور وراثت بھی بکھر چکی ہے۔1962ء میں نہرونے شیخ عبداﷲ کو پاکستان بھیجا لیکن اس کاکوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ 1973ء میں نہرو کی بیٹی ، اندار گاندھی نے بھٹو کے ساتھ شملہ معاہدے پر دستخط کیے لیکن اس دوطرفہ معاہدے سے بھی کچھ مثبت پیش رفت دیکھنے میں نہ آئی ۔ اس کے بعد بی جے پی نے پہلے حکومت کے دوران نواز شریف کے ساتھ کچھ بات کرنے کی کوشش کی لیکن پھر جنرل مشرف کا دور آگیا۔ آج کانگریس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ان کی کل کی طاقت ، آج کی کمزوری بن چکی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.