.

مشرف ٹرائل

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پرویز مشرف کے خلاف حکومتی کارروائی و مقدمے میں تقریباً ایک سال کے بعد جو فیصلہ آیا ہے اسے دیکھ کر پاکستان ٹیلی ویژن کے پرانے وقتوں کا وہ ڈرامہ یاد آگیا جس میں ایک ہیرو ڈرامے کے انتہائی ڈرامائی موڑ پر اپنے ساتھی کردار پر وار کرنے کے لئے اپنا ہاتھ فضا میں بلند کرتا ہے تو فوراً ہی کمرشل بریک آجاتی ہے۔ تقریباً بیس منٹ کی صبر آزما کمرشل بریک کے بعد جب وہ منظر چلتا ہے تو فضا میں بلند ہاتھ مخالف کردار کے گال پر طمانچے کی صورت گرتا ہے اور اگلے ہی لمحے ڈرامے کی قسط آئندہ ہفتے کے لئے ملتوی کر دی جاتی ہے۔

ہمارے جذبات ویسے ہی تھے کہ جیسے کسی کالم میں محبت کے کرداروں کی پہلی ملاقات کے منظر کے آغاز پر ہی باقی آئندہ لکھ دیا جاتا ہے۔ ہم سوچتے رہ گئے کہ ایک طمانچہ دکھانے کے لئے بیس منٹ تک یہ مال کتنی کامیابی سے بیچا گیا۔ شاید ایک سال کے مشرف کے ٹرائل کے اس انجام سے پہلے قوم کو بھی جمہوریت اور آئین کا مال خوب بیچا گیا۔ مگر پھر خیال آتا ہے کہ اب اگر خصوصی عدالت نے اکیلے مشرف کے خلاف کارروائی سے انکار کردیا ہے تو وزیراعظم نواز شریف کا کیا قصور اور آئین سے غداری کے مرکزی ملزم کو سزا دلوانے میں اس ناکامی پر وہ استعفیٰ کیوں دیں اور پھر ان کے وزیر قانون سینیٹر پرویز رشید کا کیا قصور کہ انہوں نے بطور وزیر قانون مقدمے کی قانونی بنیادی اینٹ درست نہ رکھی جس پر استغاثہ کے مستری ٹیڑھی دیوار تعمیر کرتے رہے۔ اسی طرح وزیر داخلہ چوہدری نثار اس ناکامی پر صرف اس لئے اپنا عہدہ کیوں نثار کردیں کہ ان کی وزارت نے اپنے شکایت نامے میں صرف مشرف کو ہی ملزم کیوں ٹھہرایا۔ یہ تمام حضرات اصولوں کا پھندا اپنے گلے میں کیوں ڈالیں کہ جب عدالتیں آئین سے سنگین غداری کے جرم کا پھندا مرکزی ملزم کے گلے میں ڈالنے کو تیار نہیں۔

اب مشرف کو اگر عدالتیں سزا نہیں دیتیں تو اس میں وزیراعظم ‘ وزیر قانون ‘ وزیر داخلہ یا استغاثہ کے معروف وکیل کا کیا قصور ہے۔ استغاثہ کے وکیل جناب اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے ایک سال جتنا زور لگانا تھا لگا دیا اور پھر فی سبیل اﷲ آئینی جہاد تو اتنا ہی لڑا جاسکتا ہے۔ اب اگر ان کے ایک سال کی محنت پر خصوصی عدالت کے ججوں نے پانی پھیر دیا ہے تو وہ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ بطور فیس نہیں لیا تھا اور ذاتی طور پر بغیر فیس کے یہ کیس لڑنے کا ان کا فیصلہ اصولی تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی استغاثہ کی قانونی ٹیم کے اراکین اتنے آئین کے عاشق نہ تھے کہ بغیر فیس کے جمہوریت کے ریگستان میں مجنوں کی مانند نکل پڑتے۔ اسی لئے انہوں نے کروڑوں روپوں کی حکومتی فیس ضرور وصول کی۔

ایڈووکیٹ اکرم شیخ صاحب جیسے زیرک سیاستدان وکیل بخوبی جانتے تھے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے اور شاید اسی لئے حفظ ماتقدم کے طور پر اﷲ واسطے فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو آئین سے سنگین غداری کی پاداش میں سزائے موت یا عمر قید دلوانے کے لئے تیار ہوئے۔ آج کوئی ان کی طرف انگلی اٹھا کر یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ قوم کا پیسہ ضائع کیا۔ جہاں تک قوم کے وقت کا تعلق ہے تو یہ قوم ویسے ہی چائے کی پیالی پر گھنٹوں اپنے وقت برباد کرتی ہے اور اگر مشرف کے خلاف مقدمے میں ایک سال ضائع ہوگیا تو کیا ہوا۔ سب سے بڑا کام تو یہ تھا کہ ایک فوجی آمر کو تاریخ میں پہلی مرتبہ کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔ جنرل مشرف کا خصوصی عدالت کے کٹہرے میں ایک بار ہی کھڑا ہونا ہمارے عدالتی نظام اور جمہوریت کے لئے کتنی اعزاز کی بات ہے اس کا ادراک نواز شریف سے زیادہ کس کو ہوگا۔ ایڈووکیٹ اکرم شیخ صاحب اتنا کچھ کرنے کے بعد ایک تمغہ جمہوریت کے اتنے ہی حق دار ہیں جتنا کہ فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ 1988ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت بننے کے بعد حقدار تھے۔

یہ اور بات ہے کہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے بھی 1990ء کے انتخابات میں فی سبیل اﷲ جو جمہوریت کے لئے خدمات سرانجام دیں وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ حسن اتفاق دیکھیئے کہ سپریم کورٹ میں سابق ایئرمارشل اصغر خان کی ان انتخابات میں سیاست دانوں میں پیسوں کی تقسیم کے خلاف درخواست پر فیصلے سے پہلے جنرل اسلم بیگ کا فی سبیل اﷲ قانونی دفاع کرنے والے وکیل بھی کوئی اور نہیں ایڈووکیٹ اکرم شیخ تھے جنہوں نے اس وقت بھی ان سے فیس لینے سے انکار کیا۔ اس کیس کا نتیجہ بھی سب کے سامنے ہے اور سپریم کورٹ نے جنرل (ر) اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی اور موجودہ وزیر اعظم نواز شریف سمیت بہت سے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات کا فیصلہ دے رکھا ہے جس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ قصہ مختصر اکرم شیخ صاحب نے اپنے پیٹ پر اتنا بڑا پتھر باندھ کر جو شواہد اور دلائل سے بھرپور ایک سال کی آئین کے دفاع کی جنگ لڑی اس کے نتیجے میں خصوصی عدالت کے حالیہ فیصلے سے ان کو مایوس ہونے کی بجائے اپنی پیش قدمی جاری رکھنی چاہئے انشاءاﷲ ایک دن کشمیر بھی آزاد ہوگا اور فوجی آمر کو سزا بھی ملے گی جس کے لئے ہماری حکومت ‘ عوام‘ سیاستدان‘ وکلاء‘ تجزیہ نگار‘ جج صاحبان ایک ہزار سال تک قانونی جنگ لڑیں گے۔

اس تمام کار خیر میں وزیراعظم نواز شریف کی آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے خدمات نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔ سعودی عرب کے سرور پیلس میں قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود انہوں نے قانون کا راستہ نہ چھوڑا اور اسے ذاتی انتقامی کارروائی بنانے کی بجائے ایک ایسے شخص کو اپنا وزیر قانون بنا دیا جو جنرل مشرف کے 3نومبر کے فرمان غداری کے اجراءکے وقت وزیر قانون تھا۔ نواز شریف کی اس کشادہ دلی اور جمہوریت پسندی کے خلاف میڈیا سازش نہ کرتا تو آج زاہد حامد صاحب اپنے قانونی مشوروں کے ساتھ پرویز مشرف کو تختہ دار تک لے جاچکے ہوتے۔ اسی طرح نواز شریف صاحب نے زاہد حامد کے وزارت قانون سے استعفے کے بعد وزارت قانون کا قلمدان وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کی جیب میں ڈال دیا۔ پرویز رشید صاحب کے وزیر قانون بننے کے بعد قانون کی بالادستی کے حوالے سے عوام کی توقعات بہت بڑھ گئی تھیں مگر خصوصی عدالت کے معزز جج صاحبان آئین اور قانون کی حقیقی بالادستی کے لئے پہلے سے ہی مستعد تھے۔ انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں ایک سال کی عرق ریز سماعت کے بعد یہ فیصلہ دیا ”ایہہ کلے بندے دا کم نئیں“ (یہ کام کوئی اکیلا آدمی نہیں کرسکتا) ۔ یقیناً یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جس کے ذریعے اس مشکل ترین سوال کا جواب قوم کو مل گیا کہ ایک آرمی چیف کو مارشل لاءلگانے کے لئے کتنے بندوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ویسے اگر عدالت صرف چوہدری شجاعت حسین سے ہی پوچھ لیتی تو قوم کا وقت اور پیسہ مزید بچ جاتا۔ چوہدری شجاعت حسین کئی بار انکشاف کر چکے ہیں کہ اس کام کے لئے ایک جیپ اور دو ٹرک چاہئے ہوتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی صورتحال میں چند زبان دراز سیاستدان اور قلم دراز جج و صحافی صاحبان بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چلیں اچھا ہوا کہ خصوصی عدالت نے ملزمان کی فہرست میں سیاستدان ‘ ٹیکنو کریٹ اور عدلیہ جیسے اہم شعبوں کی نمائندگی ڈال کرفوجی حلقوں اور دفاعی تجزیہ کاروں کا دیرینہ مطالبہ منظور کر لیا۔ بس اب بینچ پر ایک جج ایڈووکیٹ جنرل بٹھا دیا جائے تو یہ ٹرائل سو فیصد آزادانہ و منصفانہ و بروقت اختتام پذیر ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کو کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر پرویز مشرف کے خلاف مقدمے میں ناکامی اور عوام کے وقت اور پیسے کا زیاں ہوا ہو۔ آخر اس مقدمے میں ابھی تک میٹرو بس کے منصوبے سے زیادہ رقم تو نہیں لگی نا اور ویسے بھی اس مقدمے کے باعث جہاں جمہوری حکومت کے ڈیڑھ سال پورے ہوگئے تو وہاں ساڑھے تین سال باقی تین ملزمان کے ٹرائل میں گزر جائیں تو سودا مہنگا نہیں۔ ویسے بھی نواز شریف صاحب کی سیاسی زندگی میں شاید ساڑھے تین سال کا اقتدار ہی لکھا ہے جس کی خاطر وہ کسی فوجی آمر یا اس کی مادر علمی سے منہ ماری کیوں کریں۔ یہ بات یہاں پر ہی ختم شد ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.