.

عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل 26 نومبر ہے، سلالہ چیک پوسٹ کے شہیدوں کا یوم شہادت۔ لیکن اس موقع پر منیر نیازی مرحوم جن کی شاعری اور شاعرانہ بانکپن ہر کسی کو متاثر کرتا ہے کا یہ شعر رہ رہ کر پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے یاد آرہا ہے۔

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

منیر نیازی کا یہ شعر پاک امریکا تعلقات کی تاریخ کے حوالے سے ذہن میں نئے معانی و مفاہیم کے پرت کھول رہا ہے۔ ملک میں تعلیمی نصاب سے لے کر سیاسی و غیرسیاسی حکومتوں کی آمد ورفت کے لیے کانٹا بدلنے تک، معیشت کے الجھ کر سلجھتے اور سلجھ کرالجھنے والے سوالات سے لے کر ثقافت کے ادلتے بدلتے رجحانات تک، فوج کی تربیت اور پسپائی تک، مذہب کی تعبیر و تشریح سے لے کر مذہب کے بارے میں رویے کی تخلیق اور عمل و انداز کی تشکیل تک، فرقہ واریت کے امکانات اور دہشت گردوں کی واردات تک، جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو والی کیفیت ہے، کبھی مثبت ، کبھی منفی، کبھی مفید کبھی سراپا ضرر۔ کھی بظاہر مکمل بے تعلق و بے اعتننا لیکن پھر بھی حالات و واقعات کے دھارے میں ایسے موجود کہ جیسے رگوں میں خون رواں دواں ہو۔

بظاہر محض ایک دوست مگر پاکستان کے ہر گوشے میں، ہر کونے میں، ہر ایشو میں، ہر معاملے میں، ہر قضیے میں ہر تنازعے میں اس طرح پیکرمحسوس کہ جیسے گھر کا اصل مالک یہی ہو۔ پاکستان کے ساتھ اس کے اس "مبنی بر عنایت" اسلوب کے آغاز کا سرا تلاش کرنے والے معاشی اعتبار سے پچاس کی دہائی شروع ہونے سے پہلے والی امداد سے جوڑیں گے اور سیاسی و سفارتی میدان میں پاک امریکا تعلقات کی ابتداء لیاقت علی خان کے روس کے بجائے امریکی دورے پر جانے کو ترجیح دینے سے جوڑیں گے۔ اسی طرح فوجی اور عسکری تعلقات کے بیج نے جنرل ایوب کے دور میں ہی ذرخیزی کی مراد پائی ہوگا اور پھر "آپ سے تم اور تم سے تو" ہونے والی کیفیات پیدا ہونا شروع ہو گئیں لیکن ایک پہلو جس نے امریکا کے لیے "گراس روٹ لیول" تک نہیں بلکہ کہنا چاہیے زیر زمین حد تک راستے کھول دیے ہیں وہ 1950 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ذہین و فطین پاکستانی طلبہ کی ذہن سازی کے لیے "فل برائٹ" کے نام سے سکالر شپ منصوبے کا آغاز تھا۔ اگرچہ یہ تعلیمی منصوبہ 1950 کی دہائی سے پہلے شروع ہو گیا تھا ابھی اس کی عملی شروعات انتہائی حد تک تجرباتی اور ابتدائی تھیں کہ پاکستان اس منصوبے کے ہدف پر آگیا۔ گویا پاکستان میں اعلٰی ترین سطح تک امکانی طور پر پہنچنے والوں کو ایک طرح سے گود لینے کا فیصلہ امریکا نے بہت شروع میں ہی کر لیا

امریکا کے اس "فل برائٹ" پروگرام سے ایک جانب ان افراد کی زندگیوں کو ہر میدان اور سطح پر چار چاند لگنے کی راہ ہموار ہوئی تو دوسری طرف امریکا کے لیے بھی ہرمیدان کے خفیہ حقائق منکشف ہونے کے امکانات وا ہونا شروع ہو گئے۔ پاکستان کے اندر تک در آنے لے لیے یہ پروگرام بے پناہ مفید رہا۔ نسخہ مجرب ہونے کے بعد یہ پروگرام دوسرے کئی ملکوں کے لیے بھی تیزی سے بروئے کار لانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ اب یہ فل برائٹ نامی پروگرام دنیا کے درجنوں ملکوں میں امریکی امن اور دوستی کا ترجمان ہے۔ اس پروگرام کی کامیابی کا کریڈٹ یقینا سینیٹر جے ولیم فل برائٹ کو جاتا ہے جنہوں نے عوامی اور اداراتی سطح پر امریکی اثرونفوذ کی راہ ہموار کی۔ لیکن پاکستان نے کبھی ان "فل برائٹس" کو اس طرح شک کی نگاہ سے نہین دیکھا جس طرح بوڑھی سفارتکار رابن رافیل کو امریکی سکیورٹی اداروں کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ کہ اس بے چاری نے پاکستان کے لیے کہیں کلمہ خیر کہا ہے تو لازما اس نے پاکستان کے لیے جاسوسی کی ہو گی۔ اگرچہ سب جانتے ہیں کہ رابن رافیل کی زیر نگرانی یو ایس ایڈ کے نام سے پاکستان میں کس کس نوع کے پروگرام چلتے رہے ہیں اور امریکا کی کہاں کہاں تک رسائی ممکن بنتی رہی ہے۔

بہر حال پاکستان کے لیے اب اعلی تعلیم کی خاطراس "فل برائٹ" پروگرام کے علاوہ بھی کئی قسم سکالر شپ پروگرام جاری ہیں۔ غالبا سکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے "سیڈ فار پیس'' کے نام سے "کلٹیویشن" جاری ہے اور کئی برسوں کے نتائج سامنے ہیں۔ ایسے میں 26 نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر شہید ہونے والے میجر مجاہد، کیپٹن عثمان اور دو درجن کے قریب فوجی جوانوں کے تیسرے یوم شہادت پر افسوس کے ساتھ اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ

خون خاک نشیناں تھا، رزق خاک ہوا

کہ اب تو ان شہادتوں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکا میں مسلسل قید پر قومی بے بسی اور بے حسی کے ملے جلے جذبات کے سوا کچھ باقی نہیں بچا ہے ۔ حکومت منتخب ہو یا نیم منتخب، امریت ہو یا جمہوریت کے نام پر نیم آمریت ہر ایک کو اسی سے امیدیں، اسی کا خوف، اسی کو جوابدہ ہونے کی فکر اور اسی کی سرپرستی حاصل کرنے کی لگن رہتی ہے۔ فیصلوں اور ترجیحات کی رگوں میں وہی دوڑتا بھگتا نظر آتا ہے۔ ذہنوں سے لے کر اعمال تک اس کا غلبہ اور اسی کی حکمرانی کا ماحول ہے۔ اس لیے سلالہ کے شہداء کے لیے فاتحہ پڑھیے مگر منیر نیازی کے اس شعر کو ذہن میں رکھ کر اگر آپ "فل برائٹ" کے خوشہ چین نہیں رہے تو آپ پر منیر نیازی کا یہ شعر بہ انداز دگر سارے معانی و مفاہیم کی دنیا آباد کر دے گا۔ کہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی سے قومی زندگی تک حتی کہ موت اور شہادتوں کے بہت سارے حوالوں میں یہ شعر ایک مستقل حوالے کے طور پر نظر آئے گا ۔ رابن رافیل کے سابق شوہر کی بھی پاکستانی سی ون تھرٹی طیارے میں ہلاکت سے لے کر سلالہ چیک پوسٹ تک سب مناظرآشکار ہو جائیں گے۔

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.