.

کباب اور اسامہ بن لادن

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ بھی شائد پورا سچ نہیں ہوگا کہ انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کرنے سے پہلے یہاں تمباکو، چائے اور کافی بھیجی تھی اور یہ بھی غالباً مکمل جھوٹ نہیں ہوگا کہ صیہونیوں نے عربوں کے سینے میں اسرائیل کا چھرا گھونپنے سے پہلے یہاں جنسی بے راہ روی پھیلانے کی سازش کی تھی مگر یہ افواہ کچھ زیادہ بے بنیاد نہیں ہوسکتی کہ عربوں اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں نے یورپ میں اپنا ثقافتی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے ترکی کو فرانس میں کباب روشناس کرانے کا مشورہ دیا تھا جو بہت حد تک کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔

فرانس جو اپنی زبان اورتہذیب کے علاوہ اپنی کوزین (خورونوش ) کی سب سے زیادہ حفاظت کی شہرت رکھتا ہے بڑی تیزی سے کبابوں کی صورت میں گوشت خوری کے رجحانات کو اپنا رہا ہے اور پورے فرانس میں کباب تیار اور فروخت کرنے والی ایک ہزار دو سو دکانیں کھل چکی ہیں۔ نصف ارب یورو کا یہ کاروبار جس کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالروں سے بھی زیادہ ہے بڑی تیزی سے برگر اور پیزا کے کاروبار کے تعاقب میں جا رہا ہے اور چار پانچ سالوں میں پورے یورپی یونین پر قبضہ کرسکتا ہے۔ بتانے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ کباب گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں فرانس کے اندر ترکی کے لوگ لے کر آئے تھے۔فرانس کے گزشتہ مارچ کے لوکل باڈیز کے انتخابات میں نیشنل فرنٹ پارٹی نے یہ مسئلہ کھڑا کرنے کی کوشش کی کہ عالمی سطح پر انقلابات کی ماں۔ فرانس کو بڑی تیزی سے کبابوں کی بڑھتی ہوئی دکانوں کے ذریعے کباب آئزیشن بروزن ’’اسلام آئزیشن‘‘ کی زد میں لایا جارہا ہے مگر پیرس سے بہت پہلے لندن اس وبا کی زد میں آچکا ہے اور وہاں کوئی سیاسی مسئلہ پیدا نہیں ہوا اور جرمنی میں کبابوں کی مقبولیت کو جرمن معاشرے یا سوسائٹی پر ترکی کے مثبت اثرات کا درجہ دیا جا رہا ہے۔

جرمن چانسلر انجیلا مارخیل کو تین مرتبہ کبابوں سے لطف اندوز ہوتے دکھایا گیا ہے 2006ء میں الہان ارسلان نے کباب فروخت کرنے والے پہلے ریستوران کی افتتاحی تقریب میں کہا تھا کہ ہم آپ کو کباب کی تعریف میں گیت گانے کے لئے نہیں کہہ رہے اور جانتے ہیں کہ کباب کبھی بھی فرانسیسی کھانوں کی جگہ نہیں لے گا مگر کباب ارزانی کباب کی سب سے بڑی شہرت ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کباب فرانس اور یورپ کی سیاسی گفتگو میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے مگر اس کے یعنی کباب کے وہ اثرات محسوس نہیں کئے جارہے جو برصغیر پر قبضہ کرنے سے پہلے تمباکو، چائے اور کافی کے اثرات تھے یا اسرائیل کی ریاست کے قیام کے سلسلے میں جنسی بے راہ روی پھیلانے کے اثرات محسوس کئے جاتے ہیں۔

یا بائیں بازو کے بعض دانشوروں کے مطابق عالمی سرمایہ داری نظام کے دنیا کے مختلف ملکوں میں قدم جمانے اور جمائے رکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ معاشی کرپشن یعنی اقتصادی بددیانتی کا موثر کردار ہو سکتا ہے بلک دونوں کو لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرانکرس یا کسی اور ملک یا قوم کی سوسائٹی برگر، پیزا اور سوشی جیسی کھانے کی پلیٹوں کوجن کا تعلق فرانس سے نہیں ہے قبول کر چکی ہے تو اسے کباب فروخت کرنے والوں کے پیچھے عربوں اور مشرق وسطی کے ملکوں کے مفادات کیوں دکھائی دیں گے اور اپنے سامنے کباب کی سیخیں رکھنے والوں کی خودکشی کی جیکٹس کیوں دکھائی دیں گی؟ اگر کھجور کھانے سے کوئی عرب نہیں ہو جائے گا تو کباب کھانے یا پسند کرنے سے اسامہ بن لادن کا پیروکار کیوں سمجھا جائے گا؟ اتاترک کے ماننے والے القاعدہ کے ایجنٹ بن کر کباب کو بطور بلٹ کیسے استعمال کرسکتے ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.