ترکی اور عراق ایک بار پھر شیر و شکر

ڈاکٹر فرقان حمید
ڈاکٹر فرقان حمید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ( آق پارٹی ) کے برسر اقتدار آنے سے قبل ترکی کے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار تھے بلکہ یہ سرد مہری شام کی جانب سے دہشت گرد تنظیم PKK کی پشت پناہی کرنے اور اس کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کو وادی بقاء میں پنا ہ دینے کی وجہ سے جنگ کی دہلیز تک پہنچ گئی تھی اور کم و بیش یہی صورتِحال یونان کے ساتھ تھی جبکہ ترکی میں نام نہاد سیکولر حلقوں(سیکولرازم کسی بھی ملک میں انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے بے حد ضروری ہے لیکن یہاں پر میری مراد مذہب دشمنی پر مبنی سیکولرازم ہے جس پر آق پارٹی کے برسر اقتدار آنے سے قبل عمل درآمد کیا جاتا رہا ہے اور جس نے ترکی میں مذہب اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ) نے ایران میں اسلامی انقلاب کو ہوا بنا کر عوام کے ایک بڑے حصے کے ذہن میں ایران کے خلاف نفرت کے بیج بونے کا سلسلہ جاری رکھا اور دوسری طرف امریکہ کی جانب سے ترکی کو روس سے دور رکھنے کے لئے کمیونزم کو ایک بہت بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا اور یوں ترکی اپنے آپ کو چاروں اطراف سے دشمنوں میں گھرا ہوئے محسوس کرنے لگا۔ ایسے حالات میں یعنی بارہ سال قبل آق پارٹی نے اقتدار حاصل کیا۔

اُس وقت رجب طیب ایردوان نے وزیراعظم کے اختیارات سنبھالنے کے بعد احمد داؤد اولو کو خارجہ امور کا مشیر مقرر کیا اور ان کے مشورے ہی سے ملک میں خارجہ پالیسی تشکیل دی جانے لگی اور پھر یکم مئی 2009ء کو احمد داؤد اولو کو پارلیمنٹ کے باہر سے ملک کا نیا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ جس کے بعد ترکی نے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ صفر پرابلم کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر اور دوستانہ بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ۔ ترکی نے سب سے پہلے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنایا اور ایران پر مذہب اسلام اور خاص طور پر ایک فرقے کی اشاعت کے الزام سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنایا جانے لگا اور پھر ترکی اور ایران کے درمیان تعلقات میں اتنی گرم جوشی بھی دیکھی گئی کہ ترکی نے ایران اور مغربی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور نیوکلئیر موضوع سے متعلق مذاکرات شروع کروانے کی فضا کو سازگار بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ایردوان حکومت سے قبل ترکی کے یونان کے ساتھ تعلقات زیادہ تر کشیدہ ہی چلے آ رہے تھے اور مسئلہ قبرص نے ان کشیدہ تعلقات پر جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔

ترکی نے اس موقع پر قبرص سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی پیدا کرتے ہوئے مسئلہ قبرص کو حل کرنے کی کوشش کی اور مغربی ممالک جو ترکی پر مسئلہ قبرص کے حل میں مدد گار نہ ہونے کا الزام لگا رہے تھے اب یہی الزام قبرصی یونانی انتظامیہ اور یونان پر لگایا جانے لگا ۔ ایردوان دور سے قبل ترکی اور شام کے درمیان تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے بلکہ شام کی جانب سے دہشت گرد تنظیم PKK کی پشت پناہی کرنے اور اس کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کو وادی بقا میں پناہ دینے پر ترکی نے شام پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کرلیا اور دونوں ممالک جنگ کی دہلیز پر پہنچ گئے ۔ بعد میں حالات نے پلٹا کھایا اور ایردوان دور میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے اور صرف ایک ہی اجلاس میں تعاون کے 50 سے زائد سمجھوتوں پر دستخط کر دئیے گئے اور پھر ایردوان اور بشار الاسد کے درمیان فیملی تعلقات بھی قائم ہو گئے ۔ مشرق ِ وسطیٰ میں بہار عرب کی فضا کے موقع پر ایردوان نے بشارالاسد کو ملک میں جمہوری اصلاحات متعارف کروانے کی ترغیب دی لیکن ترکی کی تمام تر کوششوں کے باوجود بشارا لاسد کے ٹس سے مس نہ ہونے پر یہ تعلقات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے ۔

ترکی اور عراق کے درمیان تعلقات صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد بڑی تیزی سے فروغ پانا شروع ہوگئے تھے لیکن ان تعلقات کو عراق میں نوری المالکی کے برسر اقتدار آنے سے دھچکا لگا کیونکہ نوری المالکی نے علاقے میں صدام حسین جیسی پالیسی اختیار کرنا شروع کر دی اور ملک شیعہ سنی اور کرد گروپوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا اور نوری المالکی نے ملک میں سنی فرقے کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کو اقتدار میں شریک کرنے سے گریز کیا اور انہوں نے اپنے ملک کا رخ ایران کی جانب موڑ تے ہوئے ترکی کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کر لیا۔ امریکہ اگرچہ نوری المالکی کے اس روئیے سے آگاہ تھا لیکن اس نے خاموشی اختیار کرنے ہی کو بہتر سمجھا۔ نوری المالکی کے آٹھ سالہ دور اقتدار میں اونچ نیچ دیکھی جانے لگی اور پھر عراق کے نائب صدر طارق ہاشمی جس کے نوری المالکی حکومت کے خلاف تعلقات خراب ہو چکے تھے کو پھانسی کی سزا سنادی گئی جس پر نائب صدر طارق ہاشمی نے عراق سے فرار ہو کر ترکی میں پناہ لے لی اور یوں یہ تعلقات مزید خراب ہو گئے۔

نوری المالکی کے آٹھ سالہ دورہ اقتدار کے بعد حیدر العبادی نے قومی حکومت قائم کرتے ہوئے ترکی کے ساتھ اپنے خراب تعلقات کو بہتر بنانے کی جانب بھر پور توجہ دی اور گزشتہ ہفتے ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اولو نے عراق کا پہلا سرکاری دورہ کیا ۔ انہوں نے اپنے دورہ بغداد کے دوران تیرہ گھنٹوں کے دوران مذاکرات مختلف ادوار میں حصہ لیا۔ بغداد میں صبح کے وقت وزیراعظم العبادی اور وزیراعظم احمد داؤد اولو کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے راؤنڈ کے بعد مذاکرات کے کئی دور ہوئے اور شام کے وقت آخری مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے اور علاقے میں موجود دہشت گر د تنظیم داعش ( دولتِ اسلامیہ) کے خلاف مشترکہ طور پر جدو جہد کرنے اور علاقے سے اس تنظیم کی جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کیا گیا ۔ وزیراعظم داؤد اولو نے بغداد سے شمالی عراق کے شہر عربیل پہنچنے پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’ میں 2003ء سے عراق کے دورے پر آتا رہا ہوں ۔ میں نے اس سے قبل کے بغداد اور موجود ہ بغداد میں دو چیزوں میں بڑا نمایاں فرق محسوس کیا ہے۔ میں نے پہلی بار عراق میں شیعہ، سنی اور کرد گروپوں کے درمیان داعش کے خلاف مشترکہ طور پر کا رروائی کرنے پر مطابقت دیکھی ہے جبکہ اس سے قبل عراق میں تینوں گروپ ایک دوسرے سے مختلف رویہ اختیار کئے ہوئے تھے۔

دوسری اہم بات حیدر العبادی کی قیادت میں تمام شیعہ و سنی گروپ متحد ہو چکے ہیں اور ان تمام گروپوں کو قومی اتحاد حکومت میں جگہ دی گئی ہے اور اب یہ تمام گروپ مشترکہ طور پر ملک کی ترقی اور امن و امان کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ قومی اتحاد حکومت کے قیام میں ترکی نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نئی قومی اتحاد حکومت کے قیام پر عراقی باشندوں نے بلا امتیاز سکھ کا سانس لیا اور اپنی بھر پور توجہ ملک کے استحکام کی جانب مرکوز کر لی ہے۔ اب حکومتِ عراق اور عراقی باشندوں کو اس بات کو پختہ یقین ہوچکا ہے کہ ترکی ، ایران اور متحدہ امریکہ سے زیادہ عراق کا مخلص اور سچا دوست ہے۔ اب ترکی اور عراق کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی تعاون کونسل کا اجلاس 24 تا 25 دسمبر منعقد ہو گا جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئے گا۔ ‘‘ وزیراعظم داؤد اولو نے آخر میں ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب ترکی اور عراق کے درمیان حلوہ تیار کرنے کے لئے سوجی ، گھی اور پانی سب کچھ موجود ہے اب صرف دونوں کو مل بیٹھ کر حلوہ بنانے کی ضرورت ہے۔‘‘

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں