جمہوریت ۔ دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

ہمارے ہاںکم از کم اس سے بڑا کوئی اور جھوٹ نہیں کہ مزید جمہوریت ہی جمہوریت کی خامیوں کی اصلاح کرسکتی ہے۔ ہماری طرح کے کلچر میں جمہوریت کا مطلب جمہوری قدروں کی پاسداری نہیں بلکہ کچھ بھی کر گزرنے کا لائسنس ٹھہرا.... جیسے چاہیں گاڑی چلائیں، کوئی بھی خالی جگہ دیکھ کر کہیں بھی کھوکھا ڈال کر بیٹھ جائیں، کہیں بھی قبضہ کر لیں، ہر ممکن طریقے سے قانون کو چکمہ دے لیں، ٹیکس وغیر ہ ادا کرنے سے بچ جائیں اور جس طرح چاہے سرکاری وسائل پر ہاتھ صاف کر لیں۔ اس ماحول میں مزید جمہوریت کامطلب اگر فتنہ اور انتشار نہیں تو بھی بڑھتی ہوئی لاقانونیت کی صورت میں ہی سامنے آئے گا۔ ہمارے ہاں عقیدے کی کوئی کمی نہیں اور عام طور پر اسے ذاتی مقاصد کے آسان حصول کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اتحاد کا تصور قدرے الجھائو کا شکار ، اور جہاں تک مسٹر جناح کے سنہری اصولوں میں سے آخری لزوم، ڈسپلن، کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے کہ ماضی میں ہمارے ہاں اس کا کوئی شائبہ پایا جاتا ہو، لیکن آج کی گردشِ لیل و نہار میں اس اسلامی جمہوریہ میں یہ عمومی طور پر ہما آسا، یعنی عنقا، تاوقتیکہ نگاہ مسلح افواج کی صفوں پر نہ پڑے۔

اس پر ہمیں خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے کیونکہ یہ مسلح افواج ہی ہیں جو اس ملک کا شیرازہ بکھرنے سے بچائے ہوئے ہیں، نہ کہ، جیسا کہ ہم خود ستائی کے لمحے میں حقائق سے دستبردار ہوتے ہوئے سوچتے ہیں، سیاسی عمل یا 1973ء کا آئین۔آپ آئین کو جتنے چاہے سنہری اصولوں کا مرقع بنا لیں، ایک اور قراردادِ مقاصد پاس کر لیں اور صبح شام ورد زبان رکھیں کہ اصل حاکمیت قادرِ مطلق کے پاس ہی ہے، لیکن فوج اور فضائیہ کو منظر ِ عام سے ہٹا دیںتو پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی ہلاکت خیز شورش و شر پسندی کا مظہر بن جائے گا۔ شاید میں کچھ مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہوں۔

درحقیقت پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے معروضی سیاسی حالات سے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی کیونکہ عرب دنیا کے برعکس، پاکستان فکری اور سماجی تنوع کا حامل ترقی پسند معاشرہ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری کوشش کے باوجود یہاں مذہبی تحاریک کبھی نہیں پنپ سکیں۔ اخوان جیسی تحریک مصرمیںہی مقبول ہو سکتی ہے کیونکہ مصری معاشرے نے اُنہیں ناصر کی آمریت کے رد عمل کے طور پر دیکھا تھا۔ مذہبی انتہا پسندی وہاں عوامی مقبولیت حاصل کرتی ہے جہاں عوام کے لئے اقتدار میں آنے کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے جماعتِ اسلامی مزید ایک سو سال بھی کوشش اور چاہے وہ کتنے ہی عظیم الشان اجتماع کیوں نہ منعقد کرلے، وہ پاکستان کی مقبول سیاسی جماعت نہیں بن سکتی .

الحمد ﷲ۔ اب پاکستان میں دو طرفہ تماشہ یہ ہے کہ یہاں جمہوری عمل اور مسلح افواج کو اگر یک جان دوقالب نہ بھی کہیں تو بھی’’سلسلہ ٔ روز و شب ‘‘ میں یہ بقول اقبال ’’تارِ حریرِ دورنگ‘‘ ہیں جو پاکستان کی تکمیل کرتے ہیں۔ بے شک یہاں مذہبی انتہا پسندی بھی گہری جڑیں رکھتی ہے اور اس کا نیٹ ورک اور حمایت ملک کے طول و عرض میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلح افواج کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ اگر یہ اتنی توانا نہ ہوں تو مذہبی انتہا پسند قوتیں پاکستانی سماج کی رگ جاں کاٹ دیں۔ اگر دفاعی ادارے ذرا کمزوری دکھائیں تو پاکستان بھی قبائلی علاقہ ، بلکہ وزیرستان ، بن جائے گا۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انتہا پسندوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستانی معاشرہ ان کے سامنے سرنگوں نہیں ہوا تو اس کی وجہ انتہا پسندوں سے مذاکرات کی دی و مالائی دنیا سجانے کی تمنا میں خواب خرگوش کی مثل سیاسی طبقہ نہیں بلکہ مذہبی انتہا پسندی کے سامنے سینہ تان کرکھڑی ہونے والی اور حرمتِ وطن پر اپنا لہو نچھاور کرنے والی مسلح افواج ہی ہیں۔

جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے تو وہ دھرنے دے سکتی ہیں، ریلیاں نکال سکتی ہیں لیکن ان ہر دو افعال سے دہشت گردی کا خطرہ کیسے ٹلتا؟ پھول کی پتی سے پتہ نہیں کٹتا، پتھر کا تو بال بھی بیکا ہونا محال۔ یہ صرف فوج ہے جو ان شدت پسندوں کے سامنے سربکف ہے۔ اس دوران ہم جماعتِ اسلامی کے سابق امیر سید منّور حسن کے مشکور ہیں کہ اُنھوں نے ہمیں اپنے اسلامی عقیدے سے روشناس کیا.... ویسے غلط فہمی کس کو تھی؟ حالیہ لاہور اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’’قتالِ فی سبیل اﷲ‘‘ کے بغیر معاملات کا درست ہونا محال ہے۔ اس کا مطلب ہے، سید صاحب کے نزدیک، کہ اہلِ ایمان تلوار اٹھالیں اور گنہگاروں کی گردن زنی شروع کردیں.... لائق ِ گردن زنی کون ہے؟ اس کا فیصلہ بھی منور حسن اور ان کے ہم خیال کریں گے۔ بالکل یہی نظریہ القاعدہ اور داعش، جس کے ابوبکر بغدادی نے خود کو اسلامی دنیا کا غیر متنازع خلیفہ قراردے رکھا ہے، کا بھی ہے۔ ان سب کا منورحسن کی طرح خیال ہے کہ ’’قتال ِ فی سبیل اﷲ ‘‘ کے بغیر اسلامی انقلاب نہیں آئے گا۔ حقیقی جمہوریت کی عوام کی صفوں میں پذیرائی اس طرزِ فکر کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ اس دوران اس انتہا پسندی کے نظرئیے کے پھیلائو کے راستے میں مسلح افواج ایک بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔

اس طرح پاکستان کو تاریکی کی طاقتوں کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے فوج اور جمہوریت کا کردار بہت اہم ہے۔ یہ فرقہ واریت، انتہا پسندی، مذہبی اور گروہی عصبیتوں کے خلاف بند باندھتے ہوئے ’’قتال ِ فی سبیل اﷲ‘‘ پر عمل درآمد کو روکتی ہیں۔ اس سے پہلے ایف سی کے جوانوں کے سر قلم کرنے والوں کا بھی یہی نعرہ تھا اور اس کا موزوں ترین جواب پاک فوج کی توپوں اور فضائیہ کے شاہینوں کے پاس ہے۔ چاہے جمہوریت کتنی ہی ناگزیر کیوں نہ دکھائی دے.... اور یقینا اس کے بغیر پاکستانی معاشرہ اپنے خدوخال کھو دے گا... لیکن ہمارے ہاں اس کی فعالیت مایوس کن قرار دی جا سکتی ہے۔ میں پی ایم ایل (ن) کے ناقدین سے نہیں بلکہ اس کے پرزور حامیوں، اس کی تعریف میں رطب السان رہنے والے پریس کے غازیوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا وزیر ِا عظم کی اپنے برادرِ خورد سے اپنے گھر ، جاتی عمرا، میں ہر اتوار کی اتوار ملاقات کوئی خبر بنتی ہے جس پر جمہوریت کی فعالیت کی خوشی میں شادیانے بجائیں؟ اس کے باوجود پریس ہینڈ آئوٹ جاری کیے جاتے ہیں کہ دونوں بھائیوں نے ملاقات کی اور ترقیاتی کام جاری رکھنے کا عزم کیا۔

موجودہ نظام میں عزیزی پرویز رشید کو وہی درجہ حاصل ہے جو ہٹلر کے ہاں Goebbels کو حاصل تھا، تاہم جب موخر الذکر کے فن کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پروپیگنڈہ کے لئے بھی ذہانت درکار ہے۔ اب پرویز رشید روزانہ عمران خان پر چڑھ دوڑتے ہیں لیکن اس سے عمران کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔ ان کے جلسے پہلے سے زیادہ عوامی حمایت کے مظہر دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ کامیاب جلسے تو ناقابلِ یقین جگہوں پر کیے گئے۔ اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے کیا وزیرِ اطلاعات کے لئے بہتر نہیں کہ وہ اپنے معمولات (عمران پر بے مقصد تنقید) میں قدرے تبدیلی لاتے ہوئے کوئی اور دائو آزما کر دیکھیں؟ ابھی تیس نومبر میں کچھ دن باقی ہیں لیکن حکومت کی صفوں میں سراسیمگی نمایاں ہونا شروع ہوگئی ہے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کے گرد مٹی سے بھرے ہوئے کنٹینر رکھے جا رہے ہیں(کنٹینروں کا ایک ضمنی مصرف شپنگ بھی ہوتا ہے) جبکہ وزیرِ داخلہ مخالفین پر گرجتے برستے دکھائی دینا شروع ہو چکے ہیں۔

اس دوران خوف اور خدشات کا یہ عالم کہ عوامی ردِ عمل کے ڈر سے گیس کے نرخ تک بڑھانے کا حوصلہ نہ ہوا۔ اس پر وزیرِ اطلاعات یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ احتجاجی مہم بے اثر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت حکومت کے ذہن میں عمران خان کے علاوہ کسی اور خیال کی سمائی نہیں۔

عمران کے ہاتھ سے پتے چھیننے کے لئے حکومت کو چاہئے تھا :

(1) وہ ماڈل انکوائری کرا لیتی اور جو بھی قصوروار ثابت ہوتا، اُسے سزا مل جاتی۔

(2) مقامی حکومتوں کے انتخابات کا اعلان کر دیتی ۔

(3)انتخابی اصلاحات کا بھرپور انداز میں آغاز کر دیتی۔

اس سے عمران کی تحریک سے جان نکل جاتی، لیکن جیسے اقدامات اس کے وزراء تجویز کررہے ہیں، ان سے وہ تحریک مزید توانا ہوگی۔ مزید ستم یہ ہوا کہ اسپشل ٹربیونل کا مشرف کیس کا فیصلہ آگیا۔ اس کے مطابق الزامات کی فہرست نامکمل ہے اور یہ کہ اس میں سابق چیف جسٹس مسٹر ڈوگر، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور مشرف دور کے وکیل ِ قانون زاہد حامد کے نام بھی شامل ہونے چاہئیں (میں قومی اسمبلی میںزاہد حامد کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا اورمیں اُن کی خوبیوں کا معترف ہوں)۔ بعد میں پیش آنے والے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ مشرف ٹرائل موجودہ سیاسی قیادت کی بے بصری کی دلالت کرتا ہے کیونکہ اس سے انصاف کی بجائے انتقام کی بو آتی تھی۔ اب یہ حکومت کے گلے میں ہڈی بن چکا ہے... تاہم یہ ہڈی برضاورغبت ہی نگلی تھی۔

جب نادیدہ ہاتھ جیو نیٹ ورک کے خلاف تھا تو چکوال کے مقامی کیبل آپریٹرکو ایک ’’خفیہ‘‘ کال آئی کہ کیا جیو کیبل پر دکھایا جا رہا ہے؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ اگلے دن پھر وہی کال آئی تو اُس نے پھر جواب دیا کہ جیو دکھایا جا رہا ہے۔ اس پر فون کرنے والے نے پنجابی میں کہا....’’ تینوں اجے وی سمجھ نین آئی‘‘۔ وہ سمجھ گیا اور فورا ً ہی نیٹ ورک کو منقطع کر دیا۔ حکومت ابھی تک اُس مذکورہ کیبل آپریٹر جیسی’’دانائی ‘‘ کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اپوزیشن کے حملے کو سہار گئی ہے ، اور اب ’’سو سنار کی اور ایک.....‘ اگر یہی سہار ہے تو بگاڑ کسے کہتے ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size