.

بھارت سے مذاکرات کا ڈرامہ

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جماعت ا سلامی کے سالانہ اجلاس نے ایک نئی اصطلاح روشناس کرائی ہے،بلکہ اس کا استعمال نیا ہے، اس کی قیادت نے فوجی آپریشن ضرب عضب کو ڈرامہ کہا ہے مگر خود انہوں نے قتال کے خونیں ڈارمے کو ہوادینے کی کوشش کی ہے، اسی ماحول میں وزیر اعظم سارک کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے ہیں تو اخبارات نے شہہ سرخی لگائی ہے کہ بھارت کو قیام امن کے لئے اب مذاکرات میں پہل کرنا ہو گی۔

بھارت تو مذکرات کا ڈرامہ ایک عرصے سے کر رہا ہے اور جب چاہتا ہے ، یہ ڈرامہ ختم کرنے کا اعلان کر دیتا ہے۔

یہی نیپال تھا اور اس کا دارالحکومت کٹھمنڈو جہاں سارک کے اجلاس میں شرکت کے لئے جنرل مشرف کو چین کا دشوار گزار ہوائی سفر کرنا پڑا تھا، یہ روٹ کبھی پہلے استعمال میںنہیں آیا تھا،اس لئے پاکستانی جہاز کا فلائٹ کنٹرول چینی ہوا بازوںنے سنبھال لیا تھا، اسی دشواری کے سبب جنرل مشرف ایک روز کی تاخیر سے کٹھمنڈو پہنچے۔ بھارت نے ان دنوں پاکستان سے کٹی کر رکھی تھی، ساری فوج ہماری سرحدوں پر لگا رکھی تھی اور اپنی فضا پاکستان آنے جانے والے طیاروں کے لئے بند کر دی تھی ۔

اگر جنرل مشرف سوچتے کہ بھارتی قیادت کو مذاکرات میں پہل کرنا ہو گی تو دونوں ملک کبھی آپس میں نارمل تعلقات استوار کرنے کے قابل نہ ہوتے کیونکہ بھارت ایسی مٹی سے بنا ہوا ہے جس میں ذرا لچک نہیں، جنرل مشرف کوہی پہل کرناپڑی ، وہ آگے بڑھے اور اگلی قطار میں تشریف فرما واجپائی کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا دیئے۔اس ایک دست پنجے نے سرحدوں پر کشیدگی ختم کرا دی۔

میاں نواز شریف کی اپنی حکمت عملی ہے بلکہ ان کے صلاح کار جو تجویز کریں گے میاں صاحب اسی روش پر چل نکلیں گے مگر انہیں سوچناچاہئے کہ ایک وقت تھا کہ خود انہی نے کہا تھا کہ منموہن سنگھ ان کی حلف برداری کی تقریب میں آئیں، پھر کہا کہ وہ بھارت کے دورے پر جائیں گے خواہ اس کے لئے دعوت نہ بھی ملے۔ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ واہگہ بارڈر چوبیس گھنٹے کھلا رہے۔وہ بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دینے پر تلے ہوئے تھے، مودی جی نے انہیں اپنی حلف برداری میں مدعو کیا تو وہ بھاگم بھاگ دہلی پہنچے اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے گئے تاکہ تجارتی سودے کر سکیں۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! بھارت کو پاکستان سے دوستی کی کوئی خواہش نہیں تھی ، سو کوئی بات آگے نہیں بڑھی ، الٹا پاکستانی فوج ضرب عضب میں پھنسی تو دہشت گردوں سے دبائو ہٹانے کے لئے بھارت نے ورکنگ بائونڈری اور کنٹرول لائین پر جھڑپیں شروع کر دیں۔

بھارت کو پاکستان سے مذاکرات سے کوئی دلچسپی ہوتی تو وہ اس کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش کرتا، وہ چلتے مذاکرات کا بائیکاٹ کر کے الگ بیٹھ گیا۔ کوشش بہت ہوئی کہ پاک بھارت ڈی جی ایم او ہی آپس میں مل بیٹھیں مگر بھارت نے کسی میجر کی سطح تک مل بیٹھنے سے گریز کیا، حالیہ کشیدگی کے دوران ڈی جی ایم او کی کانفرنس وقت کی ضرورت تھی مگر بھارت نے ہاٹ لائین کو کہیں سے کاٹ ہی دیا تھا۔

بھارت سے ہمیں کیوںمذاکرات کرنے ہیں، اس لئے کہ شملہ سمجھوتے کی بھارت یہ تشریح کرتا ہے کہ اب دو طرفہ تنازعات کا حل باہمی بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جائے گا،ان دوطرفہ مسائل میں سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ کشمیر کا ہے، پھر کشمیر کے دریائوں پر بھارتی ڈیموں کا ہے جن کی وجہ سے پاکستان بنجر بنتا جا رہا ہے۔ایک مسئلہ سر کریک کا ہے، اور پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ہمارے ہاں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی ہے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت تو ہمارے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصب کو شرم الشیخ میں پیش کر دیئے تھے۔

کشمیر پر مذاکرات کے لئے بھارت نے نئی شرط رکھ دی ہے کہ اس کے لئے صرف بھارت سے بات کی جائے، حریت کانفرنس سے پاکستان رابطہ نہ کرے۔تاریخی طور پر بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر اس کااٹوٹ انگ ہے،اس لئے اس پر بات ہو ہی نہیں سکتی ا ور کشمیر پر بات چیت سے مراد بھارت یہ لیتا ہے کہ پاکستان نے آزادکشمیر کا علاقہ کس طرح واپس بھارت کو دینا ہے۔

عالمی برادری کو بہر حال بر صغیر میں کشیدگی پر تشویش لاحق ہے۔خطرہ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی اسلحے سے لیس ہیں اور کہیں ذرا سی چنگاری پورے خطے کے خرمن امن کو بھسم نہ کر کے رکھ دے۔ سن دو ہزار دو میں پاک بھارت کشیدگی بڑی حد تک ایٹمی تصادم کی طرف بڑھتی دکھائی دی تو دنیا نے اسکے مابعد اثرات سے نبٹنے کے لئے مشرق بعید تک کے ہسپتالوںمیں ایمر جنسی نافذ کر دی تھی۔

ایک طرف ا س قدر سنگین خطرات ، دوسری طرف بھارت کی بے اعتنائی اور بے حسی اور کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لئے مذاکرات سے مسلسل گریز کی پالیسی۔ پتہ نہیں کب سے کمپوزٹ مذاکرات چل رہے ہیں ، اور یہ بھی اب یاد نہیں کہ ان مذاکرات کے کس دور کو کس بہانے بھارت نے سبو تاژ کر دیا تھا۔

کشمیر کو باہمی مذاکرات سے کیسے جوڑا گیا، اس پر تحقیق کی جائے توڈاکٹریٹ کی کئی ڈگریاں مل جائیں ،کشمیر پر پہلی جنگ چھڑی تو یہ بھارت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو تھے جنہوںنے سلامتی کونسل سے جنگ بندی کے لئے رجوع کیا اور اس قرارداد کو تسلیم کیا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب کروایا جائے گا۔ اس قرار داد کے ہوتے ہوئے باہمی مذاکرات کا راستہ کیسے نکال لیا گیا اور اگر کوئی راستہ تھا بھی تو اس کے لئے مل بیٹھنے کے لئے کبھی بھارت تیار ہی نہیں ہوا۔

کشمیر کے مسئلے کوسنگین بنانے کے لئے بھارت نے سیاچین پر قبضہ جما لیا۔دنیا میں ا س سے بلند ترین میدان جنگ آج تک نہیں بنا۔ ہمارے وزیر اعظم نے ایک بار کہا تھا کہ سیاچین میں خواہ مخواہ فوجیں بیٹھی ہیں ، انہیں واپس بلا لینا چاہئے۔ بھارت کے آرمی چیف نے ترنت جواب دیا کہ پاکستان اپنی فوجیں سیاچین سے نکال بھی لے تو بھارتی فوج پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ہمارے ہاں بہت کہا جاتا ہے کہ بھارت کے جرنیلوں کو بولنے کی اجازت اورجرات نہیں، اب کر لو بھارتی آرمی چیف سے مذاکرات۔یہ ڈارمہ زیادہ مزیدار ہو گا۔ایڈوانی جی نے تو جنرل مشرف کو آگرہ سے منہ لٹکائے واپس نکلنے پر مجبور کر دیا تھا، بھارتی آرمی چیف کے بارے میں پتہ نہیں کہ ہمارے مذاکرات کار سے کیا سلوک کر گزریں گے۔کہیں کوارٹر گارڈ میں ہی بند نہ کر دیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.