.

پاکستان کا انوکھا نظام...کس سے منصفی چاہیں

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک الزام پر 75 ایف آئی آرز کا اندراج۔ جہاں جس کا جی چاہا اپنی مرضی کے نام ملزمان کی فہرست میں شامل کر لیے۔ ملک کے چاروں صوبوں اور تقریباً ہر ضلع میں مقدمات کا ڈھیر لگا دیا گیا۔ کسی نے دہشتگردی کا کیس بنا دیا تو کسی نے سنگین توہین کی دفعات کو شامل کر دیا۔ کہیں پولیس ایف آئی آر درج کر کے سو گئی تو کہیں تفتیش کر رہی ہے۔ کہیں بس سیدھے سیدھے وارنٹ گرفتاری اور نوٹس بھجوائے جا رہے ہیں تو کہیں اشتہاری قرار دیا جا رہا ہے اور کم از کم گلگت کی ایک عدالت نے تو کچھ افراد کے خلاف بغیر سنے 26, 26 سال اور بھاری جرمانے کی سزائیں بھی سنا دیں۔ کچھ کیسوں میں پولیس ،عدالت اور مجسٹریٹ نے ان مقدمات اور ایف آئی آرز کو اس بنا پر ختم کر دیا کہ ایک جرم یا ایک الزام پر کسی شخص کے خلاف ایک ہی ایف آئی آر ہو سکتی ہے اور وہ بھی اس علاقہ میں جہاں مبینہ جرم کیا گیا۔ مگر پاکستان کا تو قانون اور نظام ہی نرالا ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جس کا جنگ اور جیو گروپ کو سامنا ہے۔ پیسہ، تعلقات، اچھے سے اچھے وکیل کرنے کے باوجود کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک مبینہ جرم میں اپنا دفاع 75 پولیس اسٹیشنوں اور پھر 75 عدالتوں میںپیش کر سکے۔

ہر پولیس اسٹیشن اور ہر عدالت کا یہی حکم اور فرمان ہو گا کہ نامزد ملزمان ان کے سامنے پیش ہوں۔ یہ کیسے ممکن ہو گا کوئی سوچنے کے لیے تیار نہیں۔ الزام ایک ہے تو اصولاً، قانوناً اور اخلاقاً ایک ہی ایف آئی آر، ایک ہی تفتیش اورایک ہی مقدمہ ہونا چاہیے مگر اس نظام کا کیا کیجیے جہاں کسی کو بھی کسی جرم میں پھنسایا جا سکتا ہے۔ پھنسنے والا سالوں خواری کے بعد بری ہو جائے گا مگر جھوٹا الزام لگانے والے کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پولیس ہے تو تفتیش کرنے کی تکلیف نہیں کرتی کہ کم از کم یہ تو دیکھے کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کا اس واقعے سے کوئی دور دور کا تعلق بھی ہے کہ نہیںاور آیا درج کی گئی ایف آئی آر میں درج جرم واقعی سرزد ہوا بھی یا کسی کی بھول اور غلطی کو ایک سازش بنا دیا گیا۔

اندازہ کیجیے کہ درج کئے گئے مقدمات میں سے کچھ میں ایسے افراد کو بھی شامل کر دیا گیا جن کا جیو کے متنازعہ پروگرام اٹھو جاگو پاکستان کے ساتھ تو کیا جیو کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کسی ٹی وی چینل کی خبر کے مطابق کسی مہربان نے میرا نام بھی ملزموں میں شامل کر کے میرے خلاف بھی وارنٹ گرفتاری جاری کروا دیے حالانکہ میرا تعلق دی نیوز سے ہے۔ مجھے تو کبھی کسی بھی ٹی وی چینل کا مارننگ شو دیکھنے تک کا موقع نہ ملا۔ ایک ایف آئی آر میں جنگ کے ایک ڈائریکٹر صاحب کا نام شامل کر دیا گیا حالانکہ ان کا بھی اس سارے معاملہ سے دور دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا، اتنی ایف آئی آرز کیسے کٹیں، اس سارے معاملہ کے پیچھے کون تھا اس کا جواب فی الحال میرے پاس نہیں مگر اس صورتحال نے ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کوبرہنہ کر دیا۔

جنگ جیو اس معاملہ میں ایک مرتبہ سپریم کورٹ گیا تاکہ ان تمام ایف آئی آر کو یکجا کر کے ایک تفتیش، ایک مقدمہ بنایا جائے مگر کہا گیا کہ پہلے متعلقہ صوبائی ہائی کورٹس میں جائیں۔ ہائی کورٹس میں کیس داخل کر دیے گئے۔ سندھ ہائی کورٹ نے چند ہفتہ قبل کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیالاہور ہائیکورٹ میں بھی اس سلسلے میں سماعت ہوئی ہے اور فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں جبکہ دوسرے صوبوں کی ہائی کورٹس ایف آئی آر اور مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواستوں کو ابھی سن رہی ہیں۔ چلیں جیو جنگ گروپ والے یہ وار بھی انشااللہ برداشت کر لیں گے، پیسہ بھی خرچ کرلیں گے، مہنگے وکیلوں کی خدمات بھی حاصل کر لیں گے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام پاکستانیوں کے ساتھ ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم نجانے کیا کیا ظلم و ستم ڈھا رہا ہو گا۔ نجانے کتنے معصوموں اورغریبوں پر جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے ہوں گے کتنوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز درج کی گئی ہوں گی، کتنوں کو بغیر سنے سزا سنا دی گئی ہو گی، کتنے ایسے ہوں گے جن کو بغیر کسی وجہ کے پولیس پکڑ کر حوالات میں روزانہ بند کرتی ہو گی۔

پیسے، اختیارات اور تعلقات والا تو چلیں اپنی جان ایسی زیادتی سے دیر سے ہی سہی چھڑا لے گا غریب بیچارے کا ایسے نظام میں کون سننے والا ہے۔ اُس بیچارے کے پاس تو وکیل کرنے کو پیسہ نہیں جبکہ وکیل ہیں کہ اب تو مقدمات کے لیے پیسہ لاکھوں اور کروڑوں میں مانگتے ہیں۔ اگر جنگ گروپ جیسے ارب پتی ادارے کے خلاف وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جس کا اوپر ذکر کیا تو کسی عام پاکستانی کی یہاں کیا حیثیت ہے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر حکومت، پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ ایف آئی آر، پولیس انویسٹیگیشن اور عدالت میں مقدمات میں اندراج کے موجودہ سسٹم کا تفصیلی جائزہ لے کراس میں ایسی بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں کہ غریب سے غریب شخص کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور جھوٹ کی بنیاد پر ایف آئی آر اور مقدمہ بازی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جا سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.