.

امریکہ کی شان میں ہرزہ سرائیاں!

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ پر تنقید ہو اور اشرافیہ غیرت میں نہ آئے‘ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا لیکن اتنی زیادہ برہمی کہ دیکھنے سننے والے حیران ہو جائیں‘ انوکھی لگتی ہے۔ تین روز پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیان دیا کہ خطّہ غلط امریکی پالیسیوں کے نتائج بھگت رہا ہے‘ یہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ روس اور چین آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ اس بیان پر امریکہ اتنا ناراض نہیں ہوا جتنا اشراف کی نمائندہ تنظیم تحریک اشراف عرف تحریک انصاف ہوئی۔ تحریک انصاف میں ایک سے بڑھ کر ایک اشرافیا بھرا پڑا ہے لیکن سارے ہی بڑے نہیں‘کچھ میڈیم اورمنی سائز کے اشرافیے بھی ہیں۔ ان میں محترم محمود الرشید بھی شامل ہیں جنہیں اشرافیہ بنے زیادہ دن نہیں ہوئے (ویسے ہی جیسے جہاز راں ترین کو کھرب پتی بنے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا)۔ ایک ٹی وی پروگرام میں جب خواجہ آصف کے اس امریکہ مخالف بیان کا ذکر چھڑا تو رشید صاحب تو بھڑوں کا چھیڑا ہوا چھتّہ بن گئے اور یہ بیان دینے والے پر لعنت بھیج دی۔ اور بھی بہت کچھ کہا جو لائیو تو چل جاتا ہے‘ احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہو جاتا ہے۔

لعنت کی بات تو بالکل ٹھیک کہ یہاں جس نے بھی امریکہ کی مخالفت کی یا اس کی شان میں ہرزہ سرائی کی‘ اس پر جلد یا بدیر لعنت نازل ہو کر رہتی ہے۔ آسمانوں سے نہیں‘ یہ نزول اِدھر اُدھرکی زمینوں ہی سے ہوتا ہے اور نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ تحریک اشراف کے نمائندے کے غصّے پر خوشی ہوئی کہ یہ سرزمین ’’اہل ایمان‘‘ سے خالی نہیں ہوئی اور تیمور کے گھر غیرت بدستور جاگتی ہے ورنہ پچھلے دنوں ایک لرزہ خیز سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ پاکستانیوں کی بھاری اکثریت امریکہ کو ناقابل اعتماد سمجھتی ہے اور امریکہ سے نفرت کرنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سب کا منہ کالا ہو بلکہ ان پر ’’لعنت‘‘ ہو اور امریکہ کا بول بالا رہے۔ بہرحال تحریک اشراف کے معزّز نمائندے نے اس رپورٹ سے پیدا ہونے والی کوفت کا ازالہ کر دیا۔

خواجہ آصف نے یہ بالکل غلط کہا کہ امریکی پالیسیاں ناکام ہوئی ہیں۔ ایسا سمجھنا ان کی کوتاہ بینی ہے۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ امریکہ افغانستان پر مستقل قبضہ کرنے آیا تھا‘ اس میں اسے شکست ہوگئی۔ بات اس سے آگے کی ہے۔ امریکہ کا مقصد پاکستان کو براستہ افغانستان اس قدر غیر مستحکم کر دینا تھا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہ رہ سکے۔ وہ اس مقصد میں کامیاب ہوا کہ نہیں؟ سو نہیں تو نوّے فیصد کامیاب ہوا‘ دس فیصد کی جو کسر ہے وہ تحریک اشراف کے دھرنے پوری کر رہے ہیں۔ اب کہئے‘ کیا خیال ہے‘ اپنے بیان پر نظرثانی فرمائیں گے یا نہیں؟

ایک خواجہ آصف کیا‘ بڑے بڑے دفاعی ماہر اور سابق سینئر جرنیل تک اسی غلط فہمی میں ہیں۔ پچھلے ہفتے ایک سابق آرمی چیف کا انٹرویو دیکھا کہ امریکہ عراق میں بری طرح ناکام رہا۔ کیسے؟ عراق پر حملے سے اس کا مقصد فوجی قبضہ نہیں تھا۔ ایک بار من پسند اشراف کی حکومت آجائے تو امریکہ کو فوجی قبضے کی ضرورت ہی کہاں رہتی ہے۔ امریکہ چاہتا تھا‘ عراق فوجی اعتبار سے خطّے میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ یہ مقصد حاصل کر لیا گیا۔ اس طرح نہیں کہ عراق کی فوجی قوّت تباہ کر دی گئی۔ یہ تو عارضی کامیابی ہوا کرتی ہے کیونکہ زندہ قومیں تباہ شدہ اسلحہ پھر سے حاصل کر لیا کرتی ہیں۔ طویل المیعاد کامیابی یوں ملتی ہے کہ دشمن کو اس قابل ہی نہ رہنے دو کہ وہ کبھی سر اٹھا سکے۔

عراق کی تاریخ مسلکی یکجہتی کی تاریخ ہے۔ لیکن اب دیکھئے‘ شیعہ حکومت سنیّوں کی نسل کشی کر رہی ہے اور سنّی دہشت گرد بم دھماکوں سے بے گناہ شیعہ شہریوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ خونریزی ہر مہینے کئی ہزار جانیں لے رہی ہے۔ مسلکی نفرت اس انتہا کو ہے کہ مزید انتہاکی گنجائش نہیں رہی۔ اب فرمائیے‘ ایسا ملک کبھی سر اٹھانے کا سوچ بھی سکتا ہے۔ اس کی فوج داخلی ’’خطروں‘‘ سے نمٹتی رہے گی۔ باہر دیکھنے کی تو اسے فرصت ہی نہیں ہوگی۔ دراصل امریکہ نے عراق پر مستقل قبضہ کر لیا ہے چاہے اس کا ایک فوجی بھی وہاں نہ رہے۔ عراق میں سنّی دہشت گردی جاری رہے گی اور حکمران اس کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ ہی سے ’’دست تعاون‘‘ طلب کریں گے‘ سعودی عرب سے تو مدد نہیں مانگیں گے۔ اور عراق کی کامیابی کا دائرہ پھیلتا ہوا شام پر بھی محیط ہوگیا ہے۔ شام میں جو عناصر کل کلاں کو ابھر کر اسرائیل کی شان میں عملی ہرزہ سرائی کر سکتے تھے‘ ان پر شامی اور امریکی حکومت مل کر بمباری کر رہی ہے۔ یہاں مراد داعش سے نہیں۔ وہ تو ایسی ناقابل فہم جنگجو تنظیم ہے جو فوجیوں سے زیادہ عام شہریوں کو قتل کرنے‘ لڑکوں اور لڑکیوں کو سنگسار کرنے اور بچوں کے سر کاٹنے میں دلچسپی رکھتی ہے (اور مہارت بھی)۔ یہاں مرادان گوریلا تحریکوں سے ہے جو اسرائیل سے نفرت رکھتی ہیں۔ انہیں تین طرف سے مار پڑ رہی ہے۔ ایک طرف سے داعش‘ دوسری طرف سے شامی فضائیہ‘ تیسری طرف سے امریکہ انہیں مار رہا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ برطانیہ اور فرانس جیسی مرجھائی ہوئی ریٹائرڈ سپر طاقتوں کے ہاتھ میں کھجلی ہوتی ہے تو ان کے جہاز بھی آکر سو پچاس بم گرا دیتے ہیں۔

سرزمین شام سے اسرائیل کو اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔ شام کے شمالی مغرب میں لبنان کی سرزمین سے کبھی خطرہ ہوتا تھا۔ حافظ الاسد کی فوج نے صابرہ اور شطیلہ کے کیمپوں میں اسرائیلی فوج اور فلانجسٹوں کی پارٹنر شپ کے ساتھ ایسا قتل عام کیا کہ فلسطینی قوت یہاں ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔ مقامی بنیاد پرست گروہ کچھ خطرہ ضرور تھے‘ ان کا بندوبست حزب اللہ نے کر دیا‘ اس طرح کہ ایک مصنوعی جنگ اسرائیل سے کی جس کا ڈراپ سین پہلے سے لکھا ہوا تھا۔ طے شدہ منصوبے کے تحت اس مصنوعی جنگ کے بعد لبنان کے جنوبی علاقے کو ’’بفرزون‘‘ بنا دیا گیا‘ لیجئے‘ اس سرزمین سے دراندازی تو دور کی بات‘ غلیل کا غلّہ بھی اسرائیل کی سرزمین پر نہیں داغا جا سکتا۔ تفصیل پڑھئے تو سرگھوم جائے گا۔ اس مصنوعی جنگ میں اسرائیل اور حزب اللہ کے تو بہت کم لوگ مرے لیکن ہزاروں لبنانی فوجی اسرائیل نے بمباری کرکے مار دیئے اور ملک کا انفراسٹرکچر‘ خاص طور سے جنوبی لبنان کا‘ بری طرح تباہ کر دیا۔ یوں حافظ الاسد کا ادھورا مشن پورا ہوا۔

امریکہ عراق اور شام میں بھی کامیاب ہوا اور افغانستان میں بھی اس نے فتح پائی۔ اس فتح کے رنگ پھیکے کرنے کے لئے چین افغانستان میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے جو ناقابل معافی ہے۔ تحریک انصاف کے اشراف اتنے سمجھدار ضرور ہیں کہ کھل کر چین پر تبّرا نہیں بھیجتے لیکن عملی جدوجہد ان کی ساری کی ساری چین کا راستہ روکنے کے لئے نہیں ہے تو کس لئے ہے۔ کوئی انصاف سے کام لے اور صاف بتا دے! افغانستان میں جب چین کوئی کردار ادا کرے گا (اگر اسے کرنے دیا گیا) تو امریکی فائدوں کی بساط لپٹ نہیں تو سمٹ ضرور جائے گی۔ اشراف کو اس کی بڑی پریشانی ہے اور جب خواجہ آصف جیسے لوگ چین اور روس کو کردار ادا کرنے کے لئے بلائیں تو یہ پریشانی دوچند ہو جاتی ہے۔ پھر وہ لعنت نہ بھیجیں تو اور کیا کریں اور عمران خان دھجیاں اُڑانے اور اُلٹا لٹکانے کے ارادے کیوں نہ ظاہر کریں۔ البتہ خواجہ آصف نے جو بیان دیا ہے‘ اس کا لکھنے والا شاید حالات سے پوری طرح باخبر نہیں ہے۔ چین تو کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اس لئے کہ اس کی معیشت ٹھیک ہے لیکن روس کو تو بس بے چارہ سمجھئے۔ یوکرائن کے بحران نے اس کی معیشی رگوں سے خون نچوڑ لیا ہے۔ بے روزگاری کے سونامی نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ چیزیں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ درمیانے درجے کے لوگوں کی ہمّت ٹوٹ گئی ہے‘ روکھی سوکھی پر گزارا کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کی پابندیوں نے روس کا حال پتلا کر دیا ہے‘ اوپر سے تیل کی عالمی ’’سستائی‘‘ نے مرے کو مارے شاہ مدار والا کام کیا ہے۔ بے چارہ روس اس سے زیادہ کیا کردار ادا کر سکتا ہے کہ اپنا ناکارہ اسلحہ غریب ملکوں کو سستے داموں بیچ کر خسارے کے ہندسوں کی گنتی کچھ کم کرنے کی کوشش کرے۔

چین کو کردار اداکرنے کا موقع دینا پاکستان کے بس اور اختیار میں ہے لیکن خود پاکستان امریکہ کے ’’اختیار ‘‘ میں ہے۔ ذرا خارجہ پالیسی کی تصویر دیکھ لیجئے۔ اب دیکھئے‘ کیا ہوتا ہے۔ چین کوئی کردار ادا کرپاتا ہے۔ پاکستان کے ’’بے اختیاروں‘‘ کی یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے یا نہیں کہ وسط ایشیا کو براہ افغانستان و پاکستان ‘ بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے ملا دیا جائے یا پاکستان پر امریکی اختیار کا کساؤ اور بڑھ جاتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.